کیا واقعی نواز شریف اور علیم خاں کی ملاقات ہوئی ہے؟

کہتے ہیں کہ سیاست نام ہی ایسا ہے کہ ہر آدمی اپنے اپنے مفاد ات کے لیے غریب عوام کے ذہنوں پر کنٹرول رکھنا اولین فرض سمجھا جاتا ہے
پاکستانی میڈیا کی اگر آپ پچھلے ہفتے کی نیوز دیکھیں تو آپ کو بھی یقین کرنا پڑے گا کہ یہ ملاقات واقع ہو گئی لیکن یہ کوئی نہیں بتائے گا یا دکھائے گا کیونکہ ملاقات کا دکھانے والے کو خود بھی نہیں پتا۔
جمعہ کے روز میں نے سوچا کہ کچھ ہم بھی کام کر لیں ذرا چیک کرتے ہیں کہ ہو کیا رہا ہے صبح نو بجے میں گھر سے نکلا تو سیدھا ایون فیلڈ پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا کیونکہ میاں صاحب گیارہ بارہ بجے دفتر پہنچتے ہیں
نیوز میں ملاقات کا بھر مار قصے بتائے جا رہے ہیں، ایک نیوز چینل نے کہا کہ نواز شریف کے گھر چھ بجے ملاقات ہوئی، ملاقات میں نواز شریف اسحاق ڈار، دونوں صاحبزادے اور علیم خاں شامل تھے۔ بلکہ اسحاق ڈار صاحب نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ اچھی بات ہے اگر نماز پڑھائی۔
تھوڑی دیر بعد دوسرے رپورٹر نے پھر کہا کہ ملاقات اصل میں تین بجے سے چھ بجے تک رہی اور نجی ہوٹل سے نکل کر عقبی دروازے سے اندر گئے میرے کان کھڑے ہو گئے کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ وہ رپورٹر کی پہلی نیوز اور دوسری میں ٹائمنگ میں واضح فرق تھا ابھی یہ دماغ میں چل ہی رہا تھا تو ہمارے ایک دوست نے ٹویٹ کے ذریعے نیوز دی کہ ملاقات نہیں ہوئی اس ٹویٹ کے بعد میرا شک یقین میں بدلنے لگا۔ پھر میں حسین نواز کے دفتر کے باہر کھڑے ہونے کا ارادہ کر لیا اور سوچا کہ آج میاں نواز شریف صاحب شاید خود کہیں گے کہ جی ملاقات ہوئی ہے کیونکہ پاکستانی سیاست علیم نواز ملاقات کے چرچے ہیں۔ اور عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یہ ملاقات کا مقصد کیا تھا۔ اس ملاقات کا فائدہ کس کو زیادہ ہے یہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں میرے حساب سے دونوں کا پولٹیکل فائدہ تھا۔ اب آتے ہیں ملاقات کی طرف کہ ملاقات کہاں اور کیسے ہوئی؟ یہ معمہ ہی ہے کہ اگر ملاقات ہوئی ہے تو کیا کوئی فوٹو یا وڈیو نہ بن سکی؟ چلیں اگر ملاقات ہوتی تو نون لیگ فوٹو پبلش کرنے سے گریز نہ کرتی۔
ب ہم خبر کی طرف آتے ہیں خبر لندن کی بجائے پاکستان سے جرنلسٹ نے دی کیوں؟ اس کے پاس موکل تھے؟ یا وہ اڑنے اور غائبانہ دیکھنے کی طاقت رکھتا تھا؟ یہ آپ سوچیں کہ جو ہمارے دوست دن رات وہاں کھڑے رہتے ہیں یہ خبر انھوں نے لندن سے بریک کیوں نہیں کی؟ اس لیے کہ شریف فیملی کو ٹرسٹ نہیں رہا؟ یا یہ خبر پاکستان سے چلوائی گئی تاکہ لندن کی نیوز پر شک نہ ہو جیسا کہ ماضی میں نواز شریف پر حملہ ہو گیا، ڈاکٹر عدنان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں وغیرہ وغیرہ۔ اور ان تمام خبروں کے لیے بھی صحافت استعمال ہوئی
شریف خاندان اس ملاقات کے بارے میں خود نہیں جانتا کہ یہ ملاقات ہوئی ہے یا نہیں، میری خاندان کے ایسے فرد سے بات ہوئی جب اس نے کہا کہ ملاقات ہو گئی یا ہونی ہے تو مجھے سو فیصد یقین ہوا کہ یہ سیاسی چال ہے بس اس کے علاوہ کچھ نہیںں، ملاقات میں موجود تمام لوگوں سے چیک کیا جن میں سے علیم خاں کے ترجمان کی تردید، اسحاق ڈار صاحب کی طرف سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں، میاں نواز شریف سے بھی سوال پوچھنے پر خاموشی سے چل دیے اور ہاں ایک بات بڑی معنی خیز ہے آپ نے یہ تو خبروں میں دیکھا کہ صاحبزادے بھی اس ملاقات میں تھے ان کو اس ملاقات کا جڑ سے ہی معلوم نہیں کہ ملاقات ہونی ہے یا ہو گئی اس سے مزید ملاقات معمہ بن گئی اب دو ہی راستے ہیں اس ملاقات کی تصدیق کے یا تو شریف فیملی کوئی تصویر شائع کر کے ان خیالات کی نفی کر دے اور یا علیم خاں خود بتا کر یہ معمہ حل کر سکتے ہیں کہ ملاقات ہوئی۔ تب معاملات کلیر ہوں گے ۔ ملاقات میں موجود کریکٹرز تصدیق کرنے سے باغی اور خاموش ہیں، علیم خاں کے ترجمان کی تردید آ گئی ہے
اہم باتیں جو تھیں میں نے کوشش کی ہے کہ ایمانداری سے آپ کے لیے لکھوں تاکہ آپ خود فیصلہ کر لیں کہ یہ عوام کے اعصاب سے کھیلنا ہی ہے اگر ملاقات ہوتی تو فوٹو بھی ضرور ہو گی، شریف فیملی کو چاہیے کچھ ثبوت دے کر علیم خاں کی تردید کو جھوٹا ثابت کر سکتے ہیں۔

