ق لیگ بلیک میل کر رہی ہے، اپوزیشن سے صلح کی طرف جانا چاہیے، شیخ رشید


* ق لیگ بلیک میل کر رہی ہے، اپوزیشن سے صلح کی طرف جانا چاہیے، شیخ رشید
* شیخ رشید بھول رہے ہیں کہ وہ ہماری جماعت کے بزرگوں سے زمانہ طالب علمی میں پیسے لیا کرتے تھے : مونس الہٰی
* حکومت اور اپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہو جائے : فواد چوہدری
* علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات، جہانگیر ترین گروپ سے راہیں جدا کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔
* بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والے غنڈوں اور بدمعاشوں سے نہیں: مریم اورنگ زیب

کوئٹہ: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ میں ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں جن کی صرف 5 سیٹیں ہیں اور صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں جبکہ ہمیں اپوزیشن کے ساتھ صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے تحریک عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی اجلاس سے 7 روز قبل پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن و امان کی کوئی شکایت نہ رہے، انصار السلام، بیت السلام اور پرائیویٹ ملیشیاء سمیت کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت 245 کے تحت فوج بلانے کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اپوزیشن شکست تسلیم کرے گی اور اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔

عمران خان کے اپوزیشن پر سخت حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مولانا غفور حیدری نے بھی مجھ سے یہی گلہ کیا ہے، میرا خیال ہے ہمیں صلح صفائی اور ٹھنڈے پروگرام کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں ہارنا ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں تنگ کرنا ہے، تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ ہم ابھی سے ٹھنڈے ہوجائیں اور انہیں ذہنی طور پر تیار کر دیں کہ آپ ہارنے جا رہے ہیں۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ میں تو آج بھی چاہتا ہوں کہ ہمیں صلح صفائی کی باتیں کرنی چاہئیں، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، بہتر ہے عمران خان کے ساتھ انتظار کریں، ایسا نہ ہو یہ 10 سال لائن میں لگے رہیں اور سلیکشن سلیکشن کی باتیں کرتے رہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں چٹان کی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں، میں ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں جن کی صرف 5 سیٹیں ہیں اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیان پر ق لیگ برہم ہو گئی، مونس الٰہی نے کہا ہے کہ شیخ رشید بھول رہے ہیں کہ وہ ہماری جماعت کے بزرگوں سے زمانہ طالب علمی میں پیسے لیا کرتے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی نے شیخ رشید کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ بھول رہے ہیں اسی جماعت کے لیڈران کے بزرگوں سے آپ اپنی زمانہ طالب علمی میں پیسے لیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف مسلم لیگ (ق) کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو گئی جس کے باعث ق لیگ کی جانب سے حکومتی اتحاد چھوڑنے کا قوی امکان ہے جس کا فیصلہ کل متوقع ہے۔

وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہو جائے۔

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹویٹ میں کہا کہ اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں پیدا کر دیں۔ جمہوریت اتنی انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے۔ لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ترین گروپ کی علیم خان سے اُن کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات ناکام رہی جس کی اندروانی کہانی بھی سامنے آگئی۔ ذرائع نے بتایا کہ دورانِ ملاقات ترین گروپ کے سخت گیر اراکین کی وجہ سے علیم خان گروپ کی دوریاں مٹ نہ سکیں، جس کے بعد علیم خان نے اپنی سیاسی حکمت عملی اور سرگرمیوں کو ترین گروپ سے علیحدہ کرلیا اور وہ ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران علیم خان نے ترین گروپ کے رویے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جس پر عون چوہدری نے اپنے گروپ کے سخت گیر ارکان کے رویے کی وضاحت کی اور علیم خان سے معذرت بھی کی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ ملاقات میں ترین گروپ کے سعید اکبر نوانی نے شریک ہونا تھا لیکن علیم خان اسلام آباد روانہ ہو گئے۔

واضح رہے کہ علیم خان اپنا دورۂ لندن مکمل کر کے وطن واپس لوٹے ہیں، برطانیہ میں اُن کی سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات صدر نوازشریف سے ملاقات ہوئی جبکہ علیم خان نے جہانگیر ترین سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کودشمنی میں بدلا اورجس نے معاشرے میں تقسیم، انتشاراور فساد پیدا کیا اس کا نام عمران خان ہے۔

مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والے غنڈوں اور بدمعاشوں سے نہیں۔ سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالا ہوا ہے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس گندگی اور غلاظت کو صاف کر کے معاشرے میں پھیلے تعفن اور گھٹن کو ختم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کوگالی اوردھمکیاں دی گئیں بے بنیاد الزامات لگائے گئے اوربہنوں بیٹیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا۔ اس سب کے بعد بات چیت کے لیکچر دینے والے فواد چوہدری نے کیا عوام کوپاگل سمجھ رکھا ہے۔

ماخذ: ایکسپریس نیوز

Facebook Comments HS