سور کے دل والا انسان اور علما کا مخمصہ

آج سے پانچ دن پہلے اس شخص کی موت واقع ہو گئی جس کے سینے میں ڈاکٹروں نے سور کا دل لگایا تھا۔ سور کے دل کے ساتھ وہ بیچارہ بمشکل دو ماہ ہی زندہ رہا۔ ڈاکٹروں نے اس تجربے سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اس میں کیا ممکنہ خطرات پیش آ سکتے ہیں۔ آپریشن سے پہلے اس شخص کی حالت زندوں میں تھی نہ مردوں میں، وہ چھ ہفتوں سے بستر پر تھا اور فقط مشینوں کے سہارے سانس لے رہا تھا۔ انسانی دل کی پیوند کاری کے لیے وہ ’اہل‘ نہیں تھا سو یہ آپریشن نہ بھی ہوتا تو اس نے مر جانا تھا۔
ڈاکٹروں نے سور کے دل کی پیوند کاری ایک ’جوا‘ سمجھ کر کی اور اس جوئے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسے دو ماہ کی اضافی زندگی بونس کی شکل میں گئی، یہ دو ماہ میں اس شخص نے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں جب کسی ’غیر‘ کے دل کی پیوندکاری کی جاتی ہے تو جسم اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور رد عمل میں انسانی جسم پیوند کیے گئے دل کو منٹوں میں ناکارہ بنا دیتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنس دانوں نے سور کے دل میں دس جنیاتی تبدیلیاں کیں تاکہ انسانی جسم سور کا دل قبول کر لے۔
شروع میں انہیں لگا کہ یہ تجربہ کامیاب ہو رہا ہے مگر پھر دو ماہ بعد ہی مریض کی حالت بگڑنے لگی اور بالآخر وہ بیچارہ مر گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں اگر سور کے دل میں اتنی جنیاتی تبدیلیاں کر لی گئیں کہ انسانی جسم اسے قبول کر لے تو پھر امید ہے کہ انسان سور کا دل لگا کر گھومتے پھریں گے۔
سوال یہ ہے کہ اگر انسانی جسم نے سور کا دل قبول کر لیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنیاتی تبدیلیوں کے بعد سور کا دل انسان کا دل بن گیا ہے؟ یا پھر جوہری طور پر وہ سور کا دل ہی کہلائے گا؟ لیکن سور کا دل تو انسانی جسم قبول ہی نہیں کرتا الا کہ اس میں جوہری تبدیلی کی جائے تو کیا اس قبولیت کے بعد اسے انسانی دل کہنا درست ہو گا؟ اگر سور کے دل کے جنیاتی کوڈ میں دس تبدیلیاں ناکافی تھیں تو کتنی تبدیلیوں کے بعد یہ دل ’حلال‘ سمجھا جائے گا؟ اور اگر اسے انسانی دل ہی سمجھا جائے گا تو پھر علمائے کرام اس پیوند کاری کی بابت کیا فتویٰ دیں گے؟
فی الحال تو ہمارے علما نے اس ’سائنسی معجزے‘ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور دلائل کی نوعیت وہی ہے جو سو سال پہلے لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں دیے گئے دلائل کی تھی۔ انسانی جسم میں سور کے دل کی پیوند کاری آج کے مفتیان کرام کے لیے جدید دنیا کا لاؤڈ اسپیکر ہی ہے۔
لیکن مسئلہ صرف سور کے دل کا نہیں، کچھ دیگر مسائل بھی ہیں جن پر انسان صدیوں سے بحث کر رہا ہے مگر اکیسویں صدی کی سائنس نے ان مسائل کی نوعیت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے اور ایسے ایسے سوال اٹھا دیے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی بندہ کہاں سر مارے۔ مثلاً جبر و قدر کا مسئلہ، روح کا وجود، باطن کی صفائی۔ یہ خالصتاً فلسفیانہ اور مذہبی معاملات تھے مگر اب سائنس نے ان میں بھی منہ مارنا شروع کر دیا ہے۔ روح کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کا کوئی وجود نہیں، انسانی دماغ کی پڑتال کر کے انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ باقی جسم کی طرح یہ بھی محض جینز، ہارمونز اور نیورونز کا مجموعہ ہے اور یہ تمام اجزا انہی طبیعاتی اور کیمیائی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں جیسے جسم کے دوسرے حصوں میں کرتے ہیں۔
اگر ہمارے پیر پر تیز دھار والی کلہاڑی لگ جائے تو ہم زخم پر مرہم پٹی کریں گے، اینٹی بائیوٹک لیں گے، کچھ دنوں میں کیمیائی عمل کے نتیجے میں زخم مندمل ہونا شروع ہو جائے گا اور اس تمام عمل میں روح کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا، یہاں صرف وہ کیمیکل ہی کام کریں گے جنہیں ہم دریافت کر چکے ہیں اور جن کی خصوصیات کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ آپس میں کن طبی قوانین کے تحت مل کر کیا نتیجہ پیدا کرتے ہیں اور چونکہ ہم یہ علم حاصل کر چکے ہیں اس لیے انہی کیمیائی اجزا پر مشتمل دوائیں بھی ہم نے ایجاد کرلی ہیں جو شفایابی کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔
لیکن عجیب بات ہے کہ پیر سے دماغ تک پہنچتے پہنچتے ہمارا سوچنے کا عمل تبدیل ہوجاتا ہے اور دماغ میں ہم غیر مرئی اشیا کا وجود تسلیم کر لیتے ہیں، جیسے کہ باطن یا پھر inner self (جو بھی اس کا مطلب ہے ) ۔ ایسی کسی غیر مرئی شے کا تصور ہم پیر کے انگوٹھے میں نہیں کر سکتے۔ غالباً اًس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ شاید یہ ہے کہ دماغ وہ جگہ ہے جہاں مبینہ طور پر ہمارے خیالات جنم لیتے ہیں، یہ خیالات کہاں سے آتے ہیں، کیسے پنپتے ہیں، ہم یقینی طور پر کچھ کہہ نہیں سکتے، مگر خیال بذات خود چونکہ ایک غیر مرئی تصور ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ دماغ میں یقیناً کوئی غیر مرئی شے ہے، جیسے شعور، روح وغیرہ، جو غیر مرئی خیالات کا باعث بنتی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان خود کو مختار سمجھتا ہے، ہم مانیں یا نہ مانیں، پوری دنیا کا نظام اسی نظریے پر کھڑا ہے کہ انسان اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے، اسی لیے قاتل کو ناحق قتل کرنے پر سزا دی جاتی ہے کہ وہ اپنی مرضی، ارادے اور اختیار کے تحت کسی دوسرے انسان کا قتل کرتا ہے۔ اسی طرح روز مرہ زندگی میں بھی ہم ہزاروں معاملات میں اپنی مرضی کرتے ہیں، کپڑوں کی خریداری سے لے کر پسند کی شادی کرنے تک، ہر کام میں ہم خود مختار ہیں۔
اور یہ خود مختاری چونکہ ہمارے دماغ کی پیداوار ہے، ہمارے اندر سے کوئی آواز آتی ہے کہ یہ کام کرنا ہے، اس لیے ہم وہ کام کرتے ہیں، اندر کی اس آواز کو آپ inner self، ضمیر، شعور، روح، باطن کچھ بھی کہتے ہیں۔ یہ تمام بحثیں صدیوں سے ہوتی چلی آ رہی ہیں، کہیں صوفیائے کرام، مذہبی عالموں اور فلاسفہ کا آپس میں اتفاق ہے اور کہیں اختلاف مگر بنیادی طور پر انسان ان غیر مرئی تصورات کا قائل ہی رہا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کی سائنس یہ کہتی ہے کہ دماغ یا دل میں ایسی کوئی غیر مرئی شے نہیں ہوتی، یہ اعضا بھی جسم کے دوسرے حصوں کی طرح نیورونز، ہارمونز اور جینز سے مل کر بنے ہیں۔
ہمارے دماغ میں جو کچھ بھی جنم لیتا ہے وہ نیورون اور الیکٹرون کے آپسی ملاپ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردعمل کے سوا کچھ نہیں۔ اور جس چیز کو ہم خود مختاری یا free will کہتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ سائنس دانوں نے انسانی دماغ پر تجربات کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے (فی الحال کی تحقیق کے مطابق جو غلط بھی ہو سکتی ہے ) کہ ہم اپنی زندگی میں جو بھی عمل کرتے ہیں وہ دماغ میں رونما ہونے والے بے ترتیب، بے ہنگم اور اچانک برپا ہونے والے حوادث اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے لا متناہی کیمیائی زنجیری ردعمل سے زیادہ کچھ نہیں، گویا کسی بھی وقت ہمارے دماغ میں کوئی ایٹم توڑ پھوڑ کا شکار ہو سکتا ہے اور یہ توڑ پھوڑ کسی ایسے عمل کو مہمیز کر سکتی ہے جو ہمارے روز مرہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا باعث بن جائے۔
انسانی دماغ پر ایسے تجربات ہو چکے ہیں جن میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر دماغ میں رونما ہونے والے کیمیائی تبدیلیوں کو ’پڑھ‘ لیا جائے تو انسان کے آئندہ ایکشن کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ کام بالکل بھی آسان نہیں، یوں سمجھیں کہ ہمیں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ان کروڑوں نیورونز اور الیکٹرونز کے باہمی ملاپ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کو پڑھنا ہے، تب کہیں جا کر ہم کسی شخص کے بارے میں محض اتنا ہی بتا پائیں گے کہ اس کا انگوٹھا کس جانب جنبش کرے گا!
بات ذرا دور نکل گئی۔ مدعا صرف اتنا ہے کہ سائنسی معاملات میں مذہب کو گھسیٹنے سے مذہب کی کوئی خدمت نہیں ہوتی، مذہب انسانی کی اخلاقی تطہیر کے لیے اتارا گیا ہے۔ سائنس نے اگر کسی کے سینے میں سور کا دل لگا دیا ہے تو یہ جان بچانے کی آخری صورت تھی، سوال تو یہ بنتا تھا کہ جو انسان اپنے سینے میں خالص انسانی دل لیے پھر رہے ہیں ان میں سے کتنے سور ہیں؟


بہترین تجزیہ۔ بہت شکریہ