مسلم لیگ ن کے ناراض راہنما کا عدم اعتماد میں شکست کا خدشہ
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میدان سیاست خاصا گرم ہو گیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن عمران خان کے خلاف سرگرم عمل ہے تو وزیر اعظم اسے ناکام بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں جوڑ توڑ کے ”باد شاہ“ آصف علی زرداری تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس وقت آصف علی زرداری مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، بی اے پی، بی این پی اور جی ڈی اے سے رابطے کر رہے ہیں۔
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد لائے جانے پر اس حد تک مشتعل ہو گئے ہیں۔ جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین کے نام بگاڑنے لگے ہیں اور وزارت عظمیٰ کے منصب کا بھی لحاظ رکھے بغیر کبھی آصف علی زرداری کو اپنی بندوق کے نشانے پر رکھتے ہیں۔ کبھی کسی کو ڈیزل اور کسی کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکارتے ہیں۔ کوئی ان کی نظر میں بھگوڑا ہے اور کوئی شوباز۔
وہ برملا یہ بات کہہ رہے ہیں۔ ”3 چوہے ان کا شکار کرنے نکلے ہیں لیکن ان کا شکار ہو جائے گا۔ ایک ہی یارکر سے تینوں کی وکٹیں گرا دوں جان دے دوں گا۔ ان کو چھوڑوں گا۔ نہیں۔ تحریک عدم اعتماد کا میچ کپتان جیتے گا پھر دیکھنا ان سے میں کیا سلوک کرتا ہوں“ سیاست میں ”کرکٹ، گولی اور جانور“ جیسی تشبہیات کا جس بے رحمی سے استعمال ہو رہا ہے۔ ماضی میں ایسا نہیں دیکھا گیا اسی طرح وزیر اعظم سیاسی مخالفین کی جس طرح نقلیں اتارتے ہیں۔ وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ایسا دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی اختلاف نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
کسی وزیر اعظم کے خلاف یہ پہلی تحریک عدم نہیں آئی قیام پاکستان سے لے کر اب تک 6 وزرائے اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ چکی ہیں۔ 50 ء کے عشرے میں 3 وزرائے اعظم محمد علی بوگرہ، آئی آئی چندریگر اور چوہدری محمد علی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا جب کہ 1973 ء کے آئین کے تحت بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے عمران خان کے خلاف تحاریک عدم اعتماد آئی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف تحاریک عدم اعتماد بوجوہ ناکام ہوئی ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں دعوے کر رہے ہیں لیکن کوئی فریق 100 فیصد کامیابی یا ناکامی کا دعویٰ نہیں کر سکتا ممکن ہے۔ دو چار ووٹوں پر تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہو جائے شنید ہے۔ حکومت نے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں اپوزیشن کو ”قبل از وقت انتخابات“ کی تاریخ کا تعین کرنے پر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ اگلے روز میں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی ان کی رہائش گاہ واقع اسلام آباد میں عیادت کی تو وہاں پر وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ کی گفتگو سننے کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) دلی طور پر عمران خان کے ساتھ نہیں کھڑی طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں اس کے پاس نمبرز پورے ہوئے ہیں تو تحریک عدم اعتماد لائی ہے۔
آج ہی میری پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک ناراض رہنما سے بات ہوئی ہے۔ ان کا نام مصلحتاً نہیں لکھ رہا۔ ان کا شمار ”باخبر“ سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور پچھلے چار سال سے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی۔ معلوم نہیں یہ ان کا تجزیہ ہے جس کسی انفارمیشن کی بنیاد پر کہہ رہے ہو سکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی ان کی خواہش ہو۔ بہر حال تحریک عدم اعتماد سے کاروبار حکومت کا پہیہ رک گیا ہے۔
پورے ملک کی نظریں دار الحکومت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں جو اس وقت سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا عمران خان مسلسل اپوزیشن کو ”تختہ مشق“ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے تند و تیز جملوں پر اپوزیشن نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم عمران خان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ورنہ انہیں قابو کرنا آتا ہے۔
اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو معاملات گلی کوچوں تک جائیں گے۔ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے حکومت نے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اس نے تحریک عدم اعتماد کے روز ووٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا صرف ایک رکن قومی اسمبلی کے اجلاس میں جائے گا اور باقی ارکان کو اجلاس سے باہر روک لیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس طرح پی ٹی آئی کی قیادت اپنے باغی ارکان کو سٹریٹ پاور سے روکنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بھی حکومت کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ مولانا فضل الرحمنٰ نے تو ”انصار الاسلام“ کے کارکنوں کو بھی اسلام آباد بلا لیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کے مقابلے میں اسی مقام پر جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جہاں حکومت اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی۔ پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور انصار الاسلام کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہو چکا ہے۔
ووٹنگ کے روز خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے۔ کہ ”تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ اپوزیشن تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرے، ایسا نہ ہو کہ ایک سال کی بجائے 10 سال انتظار کرنا پڑے اپوزیشن اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا ہو گا کیونکہ اپوزیشن نے ہارنا ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں تنگ کیے رکھنا ہے“ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 7 روز قبل پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ لاجز ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن و امان کا کوئی گلہ نہ رہے انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے۔ ”فوج کو بھی بلایا سکتا ہے لیکن ابھی اس کی نوبت نہیں پہنچی“ ۔
شیخ رشید احمد کی سوئی اسی بات پر اٹکی ہوئی ہے کہ انصار الاسلام، بیت السلام اور پرائیویٹ ملیشیا سمیت کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعیت علما ء اسلام کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری کی کوئٹہ ائرپورٹ پر اچانک ملاقات ہو گئی انہوں نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے۔ وزیرداخلہ کو علم نہیں کس تنظیم پر پابندی ہے۔ گزشتہ روز آپ کے کہنے پر پارلیمنٹ لاجز میں تماشا لگا چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہوا۔
بہر حال ایک بات واضح ہے۔ اگر ووٹنگ کے روز پی ٹی آئی کے کارکنوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اجتماع ہوا تو لا محالہ اپوزیشن بھی جلسہ کی کال دے گی۔ اس طرح پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تصادم کا خطرہ ہے۔ پی ٹی آئی کے طرز عمل سے یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ عمران خان آخری وقت وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے لئے تیا ر نہیں ہوں گے۔ وہ اقتدار تیسری قوت کے حوالے کر دیں گے لیکن اپوزیشن کو کسی صورت نہیں دیں گے۔ شیخ رشید احمد نے تو اپوزیشن کو کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ ایک سال انتظار کر لے ورنہ اسے 10 سال انتظار نہ کرنا پڑے یہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو کھلم کھلا دھمکی تھی کہ اگر ہمیں کھیلنے نہیں دیا گیا تو ہم کھیل کا میدان ہی خراب کر دیں گے۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے بھارت کی جانب سے 9 مارچ 2022 ء کو ایک تیز رفتار میزائل پاکستانی حدود میں پھینکنے کے بارے میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا جسے پاکستان ائر فورس نے بروقت مار گرایا اس موقع پر سوال جواب کی نشست ہوئی تو ایک سینئر صحافی نے ایک ہی سانس میں تین سوالات کر لئے ان سے ایک سوال ملک کی موجودہ سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے تھا جس کا میجر جنرل بابر افتخار نے کچھ اس طرح جواب دیا ”پاک فوج کا سیاست میں کوئی لینا دینا نہیں اس سلسلے میں غیر ضروری افواہیں نہ پھیلائیں جو لوگ مداخلت کی بات کرتے ہیں۔ اس کا جواب بھی ان ہی سے مانگا جائے ان سے ثبوت بھی مانگے جائیں اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کے پاس اس کے ثبوت بھی ہوں گے۔ فوج پر ماضی میں بھی الزامات لگائے گئے مگر کوئی ثبوت پیش نہ کیے جا سکے“ انہوں نے کہا وہ سیاسی امور پر بات نہیں کرنا چاہتے۔
اگلے روز وزیراعظم عمران خان نے لوئر دیر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نہ جانے کس تناظر میں نیوٹرل کی تعریف جانور سے کی انہوں نے کہا کہ ”جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ اس میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔“ انہوں نے جلسہ عام وہ بات کہہ دی جو آرمی چیف نے ان کو نجی محفل میں بات کہی انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھ سے کہا ہے کہ فضل الرحمن کو ڈیزل نہ کہنا لیکن میں ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔
جلسے کے شرکاء نے ”ڈیزل ڈیزل“ کے نعرے لگائے۔ جلسے کے شرکا کے نعروں پر عمران خان نے کہا کہ ابھی میری جنرل باجوہ سے بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران دیکھیں فضل الرحمن کو ڈیزل نہ کہنا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں تو جنرل باجوہ نہیں کہہ رہا لیکن عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ہے۔ فضل الرحمن تو وہ شخص ہے جس نے امریکی سفیر سے کہا کہ مجھے بھی موقع دے دیں، آصف علی زرداری ملک کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو سوشل میڈیا پر امریکی صدر کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا ہو گا۔ اس نے ہاتھ میں پرچی پکڑی ہوئی تھی اور اس کی ”کانپیں ٹانگ“ رہی تھیں
وزیر اعظم کے خطاب کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تو دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم کے خطاب پر شدید رد عمل کو اظہار کیا انہوں نے کہا کہ نیوٹرل کو جانور کہنا آئی ایس پی آر کے بیان کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ ، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ حرام حرام کی باتیں کر رہے ہو، اے ٹی ایم کے پیسوں کا حرام کھاتے رہے ہو، سب جانتے ہیں۔ بنی گالہ میں کیا ہوتا ہے۔ تم ڈی چوک آنا چاہتے ہو تو آؤ ہم تمہیں ناکوں چنے چبوائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تم گالیاں دیتے ہو، نام بگاڑتے ہو، بداخلاقی کرتے ہو، تم وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں، سیاسی جنگ لڑو، حواس باختہ کیوں ہو رہے ہو، عمران خان سن لو، ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں۔
شنید ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 18 مارچ 2022 ء کو طلب کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے۔ سپیکر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ووٹوں کی گنتی نہ کر کے وزیر اعظم عمران خان کو بچا لیں پہلی کوشش یہ ہو گی کہ حکومتی ارکان ایوان تک ہی نہ پہنچ پائیں اگر کوئی پہنچ جائے تو تنہا سپیکر سے ان کے بارے میں ایسی رولنگ حاصل کی جائے جس کے تحت منحرفین کے ووٹوں کو شمار ہی نہ کیا جائے جس پر اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
100 سے زائد اپوزیشن ارکان نے سپیکر کے خلاف تحریک پر دستخط کر دیے ہیں۔ لہذا کسی وقت بھی سپیکر کا بھی ”گھونٹ“ پیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بھی منقسم ہے۔ پارٹی کا ایک دھڑا اپوزیشن کے ساتھ دینے کے حق میں ہے جب کہ دوسرا تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے متحدہ اپوزیشن کے سامنے اپنے تمام مطالبات رکھ دیے ہیں۔ تاحال ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کی حمایت میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے باعث اپوزیشن نے ارکان سے رابطے ٓقائم کرنے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چیمبر ہفتہ اور اتوار کو کھلا رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم بارے میں صورت حال ایک دو روز میں واضح ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی حلقوں میں مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، باپ اور بی این پی کے واضح لائحہ عمل کا انتظار ہے۔ دوسری طرف پی ٹی میں جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ کے ارکان کی اہمیت بڑھ گئی ہے جن کی حال ہی لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اگر اتحادی جماعتیں حکومت سے الگ ہو جائیں تو بھی عمرانی حکومت زمین بوس سکتی ہے۔ بصورت دیگر عمران کی جماعت کے باغی ارکان ہی ان کی لٹیا ڈبونے کے لئے کافی ہیں۔

