یہ سب یاجوج ماجوج کا جھگڑا ہے


قرب قیامت کی نشانیوں میں یاجوج ماجوج کی دنیا پر یلغار کا ذکر کئی روایات میں ملتا ہے۔ یہود بھی یاجوج ماجوج کے متعلق پیشگوئیوں کے قائل رہے ہیں۔ قدیم یہودیوں پر بہت مصائب آئے۔ اور جب بھی کوئی بیرونی قوم ان پر حملہ آور ہوتی، وہ انہیں یاجوج اور ماجوج قرار دے دیتے۔ یہاں تک کہ جب اسلامی لشکر نے یروشلم فتح کیا تو وہاں کے یہود راہبوں نے ان کے متعلق بھی یاجوج ماجوج کا قیاس کیا۔ عہد نامہ قدیم میں یاجوج ماجوج کا تعارف یافث کی اولاد کے طور پر موجود ہے جو حضرت نوح کے بیٹے تھے۔ اور لکھا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کی اقوام ماسکو اور جارجیا کے علاقے میں آباد ہیں۔ یافث کی نسلوں نے یورپ کے کئی علاقوں میں ہجرت کی اور جدید تحقیق یہی ظاہر کرتی ہے مشرقی اور مغربی یورپی اقوام ہی یاجوج اور ماجوج ہیں۔ ڈاکٹر اقبال بھی متفق نظر آتے ہیں کہ

کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ینسلون

ڈاکٹر صاحب نے یہاں قرآنی استعاروں کی تفسیر کی ہے۔ وہ اس رائے میں اکیلے نہیں۔ مولانا آزاد بھی ان سے متفق نظر آتے ہیں۔ دراصل ہر دور کے مسلمان دانشوروں نے یاجوج ماجوج کی حقیقت کو اپنے دور کے حالات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی۔ جب عرب دنیا کا شمالی یورپی وائیکنگز کے ساتھ رابطہ ہوا تو ان کے قوی ہیکل جثوں اور جنگجو طبائع کی وجہ سے انہیں یاجوج ماجوج سمجھا گیا۔ جب منگول لشکروں نے بغداد کو تاراج کیا تو وہ بھی یاجوج ماجوج کہلائے۔ اور اس دور کے خیالات سینہ بہ سینہ اساطیری طور پر ہم تک پہنچے اور ہم کبھی چینی قوم کو یاجوج ماجوج سمجھتے ہیں اور کبھی کسی مافوق الفطرت زیر زمین مخلوق کو۔

پچھلی تین صدیوں کی جنگی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یورپی اقوام ہی تمام عالمی جنگوں کا باعث نظر آتی ہیں۔ نپولین، روس اور ترک، انگریز اور ترکی، انگریز اور روس، انگریز اور ولندیزی، انگریز اور فرانسیسی، جنگ عظیم اول کے یورپی اتحادی اور جرمن آسٹرین اتحاد، جنگ عظیم دوم کے اتحادی اور جرمن جاپان اتحاد، سرد جنگ میں سوویت یونین اور یورپ اور امریکہ۔ اور موجودہ دور میں انہیں اقوام کی پراکسی جنگیں کبھی کوریا، کبھی ویت نام، کبھی افغانستان اور کبھی شام اور عراق۔ غرض ساری دنیا میں قتل و غارت کا سبب انہیں اقوام کی باہم ضد اور مقابلے کا نتیجہ ہے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ان اقوام کی براہ راست جنگ کا نظارہ دیکھنے کو ملا ہے جب روس نے یوکرین پر چڑھائی کی ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہم یاجوج ماجوج کی یلغار کے دور سے گزر رہے ہیں۔ احادیث میں ذکر ہے کہ یہ ابن آدم کی وہ نسل ہے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ پس ان سے مقابلہ کرنا اور جنگ سے ان کی شورش پر قابو پانا عبث فعل ہو گا۔ خدا ہمیں یاجوج ماجوج کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین

Facebook Comments HS