قومی میڈیا کا متعصب رویہ


میڈیا کسی بھی ریاست کا چوتھا اور اہم ستون ہوتا ہے۔ ان کا کام ریاست میں ہونے والے نا انصافیوں کو سامنے لانا ہے اور ان کو ریاست کے شہریوں اور ان کے حکمرانوں کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔

تاکہ ان مسائل پر مباحثہ ہوں اور ان کا ایک بہتر حل سامنے آ سکیں۔ یہ عمل ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں ہم اس کا مثال دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں میڈیا کے بابت نظریات اس کے متبادل ہے۔

ہمارے ہاں میڈیا کو دشمن کا آلہ کار اور ان کی سازش سمجھا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں ہماری قومی رائے بنائی جاتی ہے تاکہ ان کے شر سے ہم محفوظ رہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں دشمن ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ اس خود ساختہ جنگ کو ففتھ جنریشن وار کا نام دیا ہوا ہے۔

لیکن حقیقت اس کی برعکس ہے۔ مملکت خداداد میں منظم طریقے سے عوام کو بے خبر رکھنے کے لئے ایک مقتدر طبقے نے ملک کے شہریوں پر اپنی رائے تو پنے کے لئے ففتھ جنریشن وار کا سہارا لے رہیں ہے، تاکہ عوام کا اصل مسائل پر توجہ مبذول نہ رہے۔ وہ ٹرک کی بتی کے پیچھے چلتے رہے اور ان کے لئے ٹرک کا انتظام بھی یہی مقتدر قوتیں ہی وقتاً فوقتاً کرتے آرہے ہیں۔ تاکہ ان کی مفادات کو زک نہ پہنچے اور وہ اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنے رہیں۔

اپنے مقصد کے تکمیل کے لئے اس طبقے نے میڈیا کو مکمل طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اور اس کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت سے سخت قوانین بنائے ہیں۔

جس کی وجہ سے میڈیا گروپس ان ہی چیزوں کو کوریج دیتے جن کے لئے ان کا ایجنڈا سیٹ ہوا ہو۔ عوامی مسائل کی بھی انہوں نے کیٹگریز بنائی ہوئی ہوتی ہے۔

بلوچستان کے عوام کے مسائل کیا ہے ان سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان سے کھلبھوشن یادو گرفتار ہوا ہے تو لازمی اس صوبے کا باسی اگر کسی مسئلے پر بات کر رہا ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے را کا ہاتھ ہو گا۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کی کیٹگری ہے وہاں پر بھی میڈیا کا رویہ تعصب اور ایجنڈے پر مبنی ہے۔ اس کا واضح مثال بنوں میں ہونے والے پشتون قومی جرگے کو کوریج نہ دینے سے ہم اخذ کر سکتے ہیں۔

بنوں میں ہونے والے جرگے میں ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے مندوبین آئے ہوئے ہیں۔ جو کہ پشتونوں کو درپیش مسائل پر بات کر رہے ہیں۔ لیکن قومی میڈیا نے اس جرگے کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کیا حالانکہ اس جرگے میں ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے مندوبین شامل ہے۔ اور جرگے میں اکثریت تقاریر پاکستان کی آئین کی تقدس بحال رکھنے اور اس آئین میں درج قوموں کی حقوق اور ان کی منصفانہ تقسیم پر بات ہوئی جو کہ ایک مثبت بحث ہے۔

لیکن اس کے باوجود میڈیا نے ایک منٹ کی کوریج تک نہیں دی جس کا ذکر مندوبین نے اپنے تقاریر میں بھی کیا اور کہا کہ ملکی میڈیا میں پشتونوں کے لئے کوریج کے لئے وقت نہیں ہوتا اور اگر تھوڑا بہت ہوتا ہے تو وہ پشتونوں کی پروفالنگ اور منفی کرداروں پر مبنی ہوتا ہے۔ جو کہ ایک ناروا اور قابل نفرت عمل ہے۔

ملکی میڈیا کا یہ رویہ باعث نفرت ہے میڈیا مالکان، مقتدر قوتوں اور صحافی تنظیموں کو اس بابت سوچنا چاہیے اور صحافت کی اصل روح کو بحال کرنے کے لئے آواز اٹھانا چاہیے تاکہ محکوم قوموں کی شکایات کا ازالہ ہو۔

Facebook Comments HS