جانور بھی نیوٹرل نہیں ہوتے
ہماری ہمسائیگی میں ایک خاندان رہائش پذیر ہے، جن کے پاس ایک تگڑا، موٹا تازہ چاکلیٹی رنگ کا فربہ کتا ہے، جس کے گلے میں انہوں نے سرخ اور سبز پتھر جڑا چمڑے کا گھیروی ٹکڑا ڈال رکھا ہے، جس کی چوڑائی لگ بھگ دو انچ ہوگی اور یہ ٹکڑے ایک لوہے کے کلپ نما دہانے سے باہم جڑا ہوا ہے جہاں سے ایک لوہے کی زنجیر لٹکتی ہے جو اس کتے کو پکڑنے کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہے، عمومی زبان میں اس چمڑے کے ٹکڑے کو ”پٹہ“ کہتے ہیں مگر ہمارے سماج میں جانور اور ان کے متعلقات جس طرح زیر بحث ہیں، مناسب نہیں کہ ان کی تکریم کا کوئی موقع ضائع جانے دیا جائے، موٹا تازہ آنکھوں کو بھانے والا یہ مضبوط جبڑے کا جانور گلی میں سے گزرتے ہر شخص، بچے، بڑے، بوڑھے، جوان، عورت، مرد پر بھونکتا ہے۔
گھر کی دوسری منزل کی چھت پر موجود اس کتے کا بھونکنا اس قدر لرزہ خیز ہوتا ہے کہ گلی میں گزرتے لوگ بھی خوفزدہ ہو کر کانپ سے جاتے ہیں اور بعض کمزور دل تو گلی سے بھاگنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں، اس کتے کی موجودگی کا یہ فائدہ بھی ہے کہ سوسائٹی کے شرارتی بچے گلی میں ادھم مچانے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ہر عمر، رنگ اور نسل کے لوگوں کے اعصاب پر سوار یہ پرکشش جانور جونہی اپنے گھر کے کسی فرد خواہ وہ بڑا ہو یا بچہ، عورت ہو یا مرد کو دیکھتا ہے تو فوری طور پر بھونکنا بند کر دیتا ہے، دم ہلانے لگتا ہے اور ادھر ادھر مٹرگشت میں مشغول ہو جاتا ہے۔
اگر مالک اس کے قریب موجود ہوں تو تشکر آمیز نگاہوں، رقص کرتی دم اور لجاجت بھرے جسم کے ساتھ ان کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہونے لگتا ہے گویا ہمارا ہمسایہ ”جانور“ نیوٹرل نہیں ہے، اسے اپنے پرائے، دوست دشمن کی پہچان ہے اور اسی پہچان کے بل پر وہ اپنے مالکوں کا وفادار ہے، ان کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہوتا رہتا ہے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر راہ گیر پر اپنی دہشت کی دھاک بٹھانے کے لیے سرگرم رہتا ہے۔ ہمارے زمانہ طالب علمی میں ہمارے تایا جی کے پاس ایک دیوقامت داجلی نسل کا سفید بیل ہوا کرتا تھا، جس کی لمبی دم کے سرے پر لہراتے بالوں میں کچھ سیاہ رنگ کے ہوا کرتے تھے۔
یہ بیل پنجاب کی سطح پر دوڑ بازی کے مختلف مقابلوں میں فتح یاب ہو چکا تھا، نہیں معلوم اس کو ملنے والی طاقت ور خوراک کا اثر تھا یا اس کے جسم میں بہتے منہ زور خون کی تاثیر تھی (یاد رہے اس بیل کو بیس کلو دودھ، دس کلو سیب کابلی، دیسی گھی، متفرق مربہ جات بطور خوراک روزانہ پیش کیے جاتے ) کہ بعض اوقات اچانک سے یہ بیل اردگرد موجود ہر فرد پر پھنکارنے لگتا، اس کے ناک سے بلند ہوتی شوں شوں کی آواز ایک خاص طرح کی ہیبت اور رعب سے بھری ہوئی ہوتی، وہ اپنے اگلے دونوں پیروں سے زمین کھودنے لگتا اور مٹی پر زور زور سے سینگ مارنے کی کوشش کرتا، اپنے اطراف موجود انسانوں، جانوروں پر حملہ آور ہوتا اور کامیابی کی صورت میں ان کی ہڈیوں کا کچومر بنا دیتا، اپنی ناک سے گزرتی دو موٹی بان کی رسیوں کو خاطر میں نہ لاتا اور غصے کی آگ میں اپنی ہی ناک سے خون کے فوارے جاری کر لیتا، اس بیل کے خدمت گار لاکھ کوشش کرتے کہ یہ ”جانور“ سکون میں آ جائے لیکن وہ اس میں ناکام رہتے مگر جونہی ہمارے تایا جی کی آواز اس باڑے میں گونجتی، جہاں یہ بیل زمین میں دھنسے لکڑی کے دو کلوں سے بندھا ہوتا تو بتدریج اس منہ زور جانور کی پھنکار کم ہونے لگتی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا سارا غصہ رفو چکر ہو جاتا اور وہ آئندہ چند منٹ میں اپنے استھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا تھا۔
ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب کتا، بلی، بیل، گھوڑا حتی کہ شیر، ہاتھی بھی مختلف لوگوں کے لیے مختلف طرح کے جذبات رکھتے ہیں اور ان کا اظہار بھی کرتے ہیں اپنے مالکوں کی خوشی کے لیے ممکن جتن کرتے ہیں اور ان کے دشمنوں پر حملہ اور ہو جاتے ہیں۔ گویا یہ تو طے ہے کہ ”جانور نیوٹرل نہیں ہوتے“ سوائے ان جانوروں کے جن کو طبی زبان میں ”نیوٹرل“ یعنی خسی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی شناخت کے نمائندہ مثانے کو طبی صلاحیت کے بل پر فارغ کر دیا جاتا ہے اور یوں مذکر اور مونث، عورت اور مرد کے درمیان تفریق پیدا کرنے والے عضو کی غیر موجودگی میں اس حیوان کو ”نیوٹرل“ قرار دیا جاتا ہے گویا نیوٹرل ہونا محض رائے تک نہیں، عمل تک پھیلا ہوا معاملہ ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے نزدیک جانور کے نیوٹرل ہونے کا معیار طبی ہے تو پھر تو ان کے بیان کا سیاق کچھ اور صورت بناتا ہے لیکن اگر ان کا منتہا نیوٹرل سے وفاداری کا حصول ہے، جس کی خواہش میں وہ اپنے لوگوں کو پیغام پہنچا رہے ہیں تو یہ الگ معاملہ ہے جس کی سنگینی سے شاید پاکستان تحریک انصاف سے باہر کے لوگ تو اس طرح آگاہ نہیں ہیں، جس طرح سے حکمران جماعت سے وابستہ سیاست دان واقف ہیں کہ معاشرتی زندگی اور لوگوں کے ساتھ لین دین کا وسیع تجربہ رکھنے والے ان سیاست دانوں کی غالب تعداد چیئرمین تحریک انصاف کی ہاں میں ہاں ملانے اور روز و شب ان کی قصیدہ خوانی میں اپنا وقت گزارتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے کہ شاید انہیں پورا ادراک ہے کہ ان کے لیڈر کے نزدیک ”نیوٹرل“ ہونے کا کیا معیار مقرر ہے اور اگر کسی دانستہ و غیر دانستہ بھول چوک پر وہ اس معیار کی کسوٹی سے ادھر ادھر ہوئے تو شومئی قسمت ان کا گھیراؤ کر سکتی ہے اور ایک بڑی تعداد میں برقی ذرائع سے ان کے کردار کو پوری دنیا کے سامنے سرکسی تماشا بنایا جا سکتا ہے، یاد رہے ہوبہو یہی منظرنامہ آدھا عشرہ پہلے پوری طاقت کے ساتھ مسلم لیگ نواز کا مرکزی قانون سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنماء عوامی حمایت سے محروم ہوتے چلے گئے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے جلسہ عام میں خطاب کے دوران کہا کہ کسی ”انسان“ سے نیوٹرل ہونے کی توقع کرنا نہایت بری بات ہے کیونکہ جیتا جاگتا انسان رائے رکھتا جبکہ ”جانور نیوٹرل“ ہوتے ہیں کیونکہ جانوروں کو اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو سیاسی تجزیہ کار موجود سیاسی اتھل پتھل کے ماحول میں ملک کے خاص طاقت ور ادارے کی طرف سے جاری ”نیوٹرل“ ہونے کے بیان کے ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس بیان کے سیاسی نتائج کیا ہوں گے اور آئندہ چند روز میں ملک کا سیاسی منظرنامہ کیا ہو گا یہ تو قابل سیاسی مبصرین ہی بتا سکتے ہیں مگر یہاں جناب وزیر اعظم کے اس بیان بارے کچھ باتیں عام آدمی سے شیئر کرنے کی ہیں۔
اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ جناب وزیر اعظم نے یہ بیان نہایت سوچی سمجھی ترتیب کے ساتھ مقتدر حلقوں کے لیے دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں خان حکومت کا ساتھ دیں، اسی لیے اس بیان کا مقصد ان طاقت ور حلقوں کی توجہ بٹورنا ہے، تو کافی امکان ہے کہ آپ غلطی پر نہیں ہوں گے ، آپ میں سے بعض یہ سوچتے ہیں کہ وزیر اعظم سادہ لوح انسان ہیں اور بنا سوچے سمجھے بیان داغتے رہتے ہیں جبکہ ان کا من بالکل صاف ہے تو آپ غلطی پر ہو سکتے ہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کو ”جانوروں“ کے نیوٹرل نہ رہنے کے مزاج کا علم نہیں ہے تو شاید آپ غلطی پر ہیں کیونکہ وہ ان طبی اور نفسیاتی عوامل پر اس قدر طاق ہیں کہ انہوں نے اپنے پالتو کتے ”نیوٹرل“ کرائے ہوئے ہیں، تو بات اتنی سادہ نہیں ہے۔
درحقیقت یہ بیان وزیر اعظم خان صاحب کی سوچ کا عکاس ہے کہ وہ خود سے متصادم کسی رویے، فکر، صورت حال کو نہ صرف ناپسند کرتے ہیں بلکہ کسی بھی حد تک جا کر اسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں، جس کے عملی اثرات آپ ان کی زندگی، سیاسی کیریئر اور عملی حکمت عملی میں بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت طاقت کی غلام گردشوں کا لازمہ بنی جب اس کی طرف کامیاب سیاستدان یعنی الیکٹ ایبل نے اپنا رخ پھیر لیا یہ وہی کامیاب سیاست دان ہیں جو بہت بڑی تعداد میں 2002 میں مسلم لیگ ق کے پرچم کو تھام کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا حصہ بنے اور جنرل پرویز مشرف کے ہر غلط درست کا دفاع کیا، تو 2008 میں یہی جیت کے دھنی سیاسی اکھاڑے کی نفسیات سمجھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اپنی ”وطن پرستی“ کا ثبوت دیا۔
ان ہی کامیاب سیاست دانوں نے 2013 میں ہوا کے رخ کو بھانپ کر مسلم لیگ نواز کی چلتی ریل گاڑی پر چھلانگیں لگائیں اور اپنے مفاد بھری نشستیں بٹوریں، پھر یہی منہ زور گھوڑے 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے اور آج موسمی حالات کے پیش نظر اپنے ڈبے بدلنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ایسا سوچنا کہ یہ لوگ اپنی رائے نہیں رکھتے، بہت کمزور ہیں، محض وقت گزاری کے لیے سیاسی وابستگی بدل لیتے ہیں صاف معصومانہ خیالات ہیں کیونکہ یہ نیوٹرل نہیں ہیں اور وقت آنے پر پوری شدت کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
کون کہتا ہے کہ خانیوال کے ہراج کمزور لوگ ہیں اور انہوں نے محض خان صاحب کو ڈھال بنا کر اقتدار حاصل کیا ہے؟ کون سے سیاسی تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ ندیم افضل چن نے صرف خان صاحب کی شخصیت سے مرعوب ہو کر پیپلز پارٹی چھوڑی تھی؟ کس کا خیال ہے کہ ملک عامر ڈوگر نے محض رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے لیے اپنی پارٹی کو الوداع کہا؟ درحقیقت یہ سب اپنی اپنی پارٹی میں موجود اس فکر سے تنگ تھے جو انہیں ”نیوٹرل“ رہنے پر مجبور کرتی تھی کیونکہ پاکستان میں طاقت کے ایوانوں میں موجود کچھ لوگ اپنی آواز کے علاوہ کوئی آواز پسند نہیں کرتے، بس فرق یہ ہے کہ یہ نمائندہ سیاست دان، خان صاحب کی طرح وقت بے وقت چیختے چلاتے نہیں ہیں یہ اپنے منصب سے نیچے جا کر بداخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرتے، اپنے حلقے کی عوام کے ساتھ جڑے رہنا ان کی مجبوری ہوتا ہے اور اپنی ان ذمہ داریوں سے یہ لوگ جان نہیں چھڑاتے۔
پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد ان جہاں دیدہ سیاست کے کھلاڑیوں نے اپنے ایک خاص رنگ کو واضح کیا اور وہ رنگ تھا وقتی طور پر نیوٹرل ہونا مگر اب وقت ہے کہ درست فیصلے سے عوام کے درمیان موجودگی کو ترجیح دی جائے یا حکومت کے ایوانوں میں طاقت کے جھولے پر سرمست نیند کے ہلکورے لیتا جائیں؟ تحریک انصاف میں ہر زبان کا خان صاحب کی قصیدہ خوانی درحقیقت وہ نیوٹرل ہونا تھا جو خان صاحب کی لغت کے عین مطابق ہے۔ آپ 2013 سے 2018 تک پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے ”کامیاب سیاست دانوں“ کو دیکھیں تو ان کی ایک خاص خوبی جناب وزیر اعظم کی لغت کے مطابق نیوٹرل ہونے کی ہے یعنی ہر صورت حال میں جناب عمران خان صاحب کو درست کہنا اور ان کی بے تھکان حمایت کے عمل میں روز و شب جتے رہنا۔
اگر کسی سیاست دان نے اپنے اس ”نیوٹرل کردار“ سے روگردانی کی تو اسے بطور سزا پارٹی سے دیس نکالا دیا گیا خواہ وہ جاوید ہاشمی ہوں یا احمد جواد، جسٹس وجیہہ الدین ہوں، ایڈوکیٹ حامد خان ہوں یا اکبر ایس بابر۔ ایسا ہی منظرنامہ ریاست پاکستان کی طرف سے بھی اختیار کیا گیا یہ کہنا کہ بہت سے لوگ، ادارے وزیر اعظم خان صاحب کے ساتھ اپنی انفرادی محبت نبھانے کے لیے کھڑے ہو گئے اور پورا ملک عشق کی ہیر بن کر محبت کے رانجھے پر وار دیا گیا کچھ درست نہیں ہے۔
ملک کے عوام کی اکثریت ہو یا خواص کی جمعیت، سب نے اپنی طرف سے ملک کے مجموعی مفاد کے پیش نظر خان صاحب کو مسند اقتدار تک پہنچانے کی سعی کی اور پھر پوری کوشش کی اس ہائبرڈ نظام کے پیر پرفارمنس، کارکردگی اور عوامی فلاح کی بنیاد پر مضبوط کیے جائیں مگر خان صاحب کو کچھ اور ہی منظور ہے، انہیں صرف نیوٹرل لوگ چاہیں خواہ وہ ان کی جماعت میں ہوں، خواہ وہ ملک کے اہم انتظامی اداروں کے مسندوں پر براجمان ہوں یا عام آدمی کی صورت میں ووٹ کا ٹھپا لگانے کے عمل کا حصہ ہوں۔ ان کی لغت کے مطابق نیوٹرل وہ ہے جو ان کی خواہش پر لوٹ پوٹ ہو جائے یا ان کی منشاء کی تکمیل کو اپنے مثانے کو طبی عمل سے ناکارہ کرا لے اور ان کی غلامی کو اپنا اعزاز سمجھے۔
اس صورت حال میں ملک کے عام آدمی نے ووٹ کے استعمال کے حوالے سے، مقتدرہ نے ملکی سلامتی کے پیش نظر، حکمران جماعت میں موجود حلقہ کی سیاست کرنے والے سیاست دانوں نے اپنے عوام کا سامنا کرنے کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ، ملٹری اور سول بیوروکریسی کریسی نے خارجہ اور داخلہ امور کی سنگینی کو پیش نظر رکھتے ہوئے، فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ”نیوٹرل“ رہنا ہے جیسے شہباز گل، شبلی فراز، فرخ حبیب جیسے صاحب فراست ہیں یا کم از کم اس ملک اور قوم کے ساتھ وفادار رہنا ہے کہ ہماری آخری پناہ گاہ یہ ملک اور اس کی مٹی ہے جس کو اوڑھ کر ہم نے روز محشر تک کا سفر طے کرنا ہے اور جس کے گود میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جانا ہے۔ اب ہم نے طے کرنا ہے ہماری ترجیح کیا ہے کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ جانور بھی ”نیوٹرل“ نہیں ہوتے، وہ اپنے اچھے برے کی تمیز کرتے ہیں اور اپنے خیرخواہوں کے دامن پر حملہ آور نہیں ہوتے۔


