تحریک عدم اعتماد: ’معاملات حل نہ ہوئے تو دما دم مست قلندر ہو گا‘، اپوزیشن کا عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ


اپوزیشن
پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کی حتمی تاریخ تو تاحال سامنے نہیں آئی ہے تاہم حکومت اور اپوزیشن دونوں کیمپوں میں اس حوالے سے تیاریاں اور تند و تیز بیان بازی کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کو تحریکِ انصاف کے حامیوں کے ’سمندر‘ کو عبور کر کے پارلیمان تک جانا ہو گا اپوزیشن نے اس تحریک پر ووٹنگ کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے عدالت کا در کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپوزیشن اور ارکان اسمبلی کو ہراساں کرنے کے لیے غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات اٹھا رہی ہے اور اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے منتخب نمائندوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کو بتایا کہ متحدہ اپوزیشن بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کرے گی جس کے ذریعے حکومت کو غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات اٹھانے سے روکنے کی استدعا کی جائے گی۔

ان کے مطابق یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اور دیگر جماعتوں کی طرف سے دائر کی جائے گی جس پر ہر جماعت کے سیکریٹری جنرل کے دستخط ہوں گے۔ ان کے مطابق منگل کو مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، پی پی پی کے فرحت اللہ بابر اور جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفور حیدری کے نام عدالت میں اندر داخل ہونے کے لیے رجسٹرار آفس کو دے دیے گئے ہیں۔

اس درخواست پر دلائل پی پی پی سے تعلق رکھنے والے سینیئر وکیل اور سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک دیں گے۔

عمران

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ’اس وقت کبھی پارلیمنٹ لاجز پر ریڈ کیا جاتا ہے، کبھی سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں تو کبھی پارلیمنٹ کے رستوں پر پہرے بٹھانے کی بات کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ارکان اسمبلی کو ہراساں کر رہی ہے کہ اگر ووٹ ڈالا تو نتائج بھگتنے ہوں گے۔‘

ان کے مطابق ایسا کرنا آئین اور قانون کے منافی ہے اور یہی وہ اقدامات ہیں جن کو بنیاد بنا کر متحدہ اپوزیشن نے عدالت کا دروازہ کٹھکٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحریک انصاف کے ایک رہنما عامر محمود کیانی نے اس سے قبل یہ بیان دیا تھا کہ 27 مارچ کو ڈی چوک میں تحریک انصاف کا جلسہ ہوگا ’جس نے ووٹ ڈالنا ہو گا، وہ اس دس لاکھ کے ہجوم میں سے گزر کر جائے گا اور جب ووٹ ڈال کر آئے گا تب بھی یہیں سے گزر کر جائے گا۔ اس لیے اپنی پیٹیاں کس لیں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر اعظم نذیر کے مطابق وہ سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے ڈی چوک میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کے 27 مارچ کے جلسے کے بارے میں کوئی اعتراض نہیں کیا ہے مگر عدالت سے یہ ضرور استدعا کی ہے کہ انھیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے صاف رستے اور شفاف طریقہ کار ضرور چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان 27 مارچ کو اسلام آباد میں ہی ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر چکے ہیں جس میں تحریک انصاف نے 10 لاکھ افراد اکٹھے کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ مارچ کتنے دن تک اسلام آباد میں رہے گا، اس کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔‘

فواد

پی ڈی ایم سربراہ کے لانگ مارچ کے اعلان کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'پہلے ہی کہا تھا کہ فضل الرحمنٰ کا اصل ایجنڈا اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس کے خلاف ہے۔ 15 سال بعد اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کا اجلاس ان کو ہضم نہیں ہو رہا، اس لیے 23 مارچ کو اسلام آباد بلاک کرنا چاہتے ہیں جب پورا ملک یوم تشکر منا رہا ہو گا، ہم فسادیوں سے نبٹنا جانتے ہیں۔'

اگر معاملات حل نہ ہوئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا: وزیر داخلہ

ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے جسے خوش اسلوبی سے نمٹانا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے والوں کو یہ موقع ملنے کو یقینی بنائیں گے

جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا ابھی آپ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار کر سکتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’مختیاریا گل ودھ گئی اے‘۔

حکومتی اتحادیوں کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ چوہدری برادران کو کچھ کہوں گا تو وہ جلدی خفا ہو جاتے ہیں اور انھیں مشورہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ رہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اللہ ایسا وقت نہ آئے کہ پیپلز پارٹی یا آصف زرداری پنجاب فتح کر لیں‘۔

شیخ رشید کے مطابق انھوں نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ انھوں نے جلسے کرنے میں دیر کی ہے۔ وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’راولپنڈی میں 26 اور 27 مارچ کو کرکٹ کا میچ بھی ہے۔ ہمیں بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں اور پاکستان کا تقاضا یہ ہے کہ انارکی نہ پھیلے۔’

پرویز خٹک

فوج ہمیشہ سے نیوٹرل ہے: وزیر دفاع

اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد وزیردفاع پرویز خٹک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمران خان ملک کے لیے کھڑا ہے حکومت اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو عوام کے ذریعے اور اسمبلی میں بھی شکست دے گی۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ان کی آرمی چیف سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسی ملاقات کی تصویر کیوں نہیں جاری ہوتی تو ان کا جواب تھا کہ وزارتِ دفاع اپنا کام کرتی ہے، سیاست میں نہیں آتی۔

ان سے جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا فوج نیوٹرل ہے تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہمیشہ۔‘

تحریک عدم اعتماد اور ملاقاتیں

پاکستان کے دارالحکومت میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں افواہوں اور اندازوں کے درمیان سیاسی جماعتوں کے رابطوں، ملاقاتوں اور مشاورت میں تیزی دیکھنے کو ملی۔

ایک جانب وزیر اعظم عمران خان خود چل کر اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے سے ملنے پارلیمنٹ لاجز پہنچے تو دوسری جانب شہباز شریف نے اپوزیشن رہنماؤں کو عشایے پر اکھٹا کیا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے بیشتر رہنما گزشتہ چند دنوں سے یہ بات دہرا رہے ہیں کہ ان کو اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین ہے۔

ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کا اچانک سینیئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے ساتھ پارلیمنٹ لاجز جانا بھی قیاس آرائیوں کا باعث بنا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ بی اے پی اور جی ڈی اے دونوں اتحادی حکومت کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔

اس غیر یقینی کی فضا کی ایک بڑی وجہ شاید وہ دو بڑی حکومتی اتحادی جماعتیں ہیں جن کا فیصلہ اپویشن کی تحریک عدم اعتماد کا بھی فیصلہ کرے گا۔ یہ جماعتیں ق لیگ اور ایم کیو ایم ہیں جن کے درمیان پیر کی رات ایک اہم ملاقات کی اطلاع تو سب نے سنی لیکن وہ ساتھ کس کا دیں گے، یہ راز اب تک سینے سے ہی لگائے بیٹھے ہیں۔

حمزہ شہباز، ترین گروپ میں ’عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق‘

پیر کے دن کی ایک اور اہم پیش رفت میں لاہور میں ن لیگی رہنما حمزہ شہباز سابق تحریک انصاف رہنما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ان کے حامی گروپ سے ملنے گئے۔ واضح رہے کہ جہانگیر ترین خود لندن میں موجود ہیں۔

حمزہ شہباز شریف اور جہانگیر خان ترین گروپ کی ملاقات کے بعد ن لیگ کے سوشل میڈیا ہینڈل سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو ہٹانے پر اتفاق ہوا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ترین گروپ کے اراکین نے صوبے کے معاملات پر مایوسی کا اظہار اور مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی کرپشن پر تشویش کا اظہار کیا۔

ق لیگ اور ایم کیو ایم کیا فیصلہ کریں گی؟

ایم کیو ایم کے وفد نے ق لیگ کے رہنما چوہدری شجاعت کے گھر پر جانے سے پہلے اسلام آباد میں ہی پیپلز پارٹی کے وفد سے اہم ملاقات کی جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات میں پی پی پی کا ایم کیو ایم کے تمام تر نکات سے اتفاق ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ایم کیو ایم کا موقف بھی سامنے آیا جس میں واضح کیا گیا کہ خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں پیپلزپارٹی سے ملاقات گزشتہ دنوں دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کا تسلسل تھی اور سیاسی صورت حال بشمول تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل پر ایم کیو ایم نے اپنا موقف پیش کیا جس پر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے مستقل اور بہتر روابط پر اتفاق کیا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp