تحریک عدم اعتماد: شیخ رشید کی ’ملکی عدم استحکام‘ کی تنبیہ، پرویز خٹک نے ’مسلم لیگ ق کے خلاف بیان نہیں دیا‘


وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کس دن ہو گی، یہ تو آئندہ آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہو گا مگر اس دوران ہونے والی ’نمبر گیم‘ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کا کردار نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان ’جیتے یا ہارے، فائدہ عمران خان کا ہی ہو گا۔ میں پھر یہ دہرانا چاہتا ہوں۔۔۔ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

حکومت کی بڑی اتحادی جماعتوں یعنی پنجاب میں مسلم لیگ ق، سندھ میں ایم کیو ایم اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) نے تاحال باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ چلیں گے یا متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن کر عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے گذشتہ روز اپنے انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ حکومتی اتحادی جماعتیں مشترکہ طور پر اس حوالے سے فیصلہ کریں گی۔ اس دوران پرویز الہیٰ کا عمران خان اور ان کی جماعت سے متعلق لہجہ سخت تھا اور بظاہر ان کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف دکھائی دیا تھا تاہم منگل کی دوپہر جاری ہونے والے اعلامیے میں مسلم لیگ ق نے کہا ہے کہ وہ ابھی حکومت سے نکلے نہیں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کا حصہ بنے ہیں۔

ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اے آر وائے نیوز چینل کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہنما مسلم لیگ ن ‘جاوید لطیف کے اس کھلے اعتراف جرم کے بعد کہ عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے مسلم لیگ نون ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے اصولی طور پر الیکشن کمیشن کو مسلم لیگ کو نوٹس جاری کرنا چاہیے اور وضاحت طلب کرنی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا ’لیکن الیکشن کمیشن کو نون کی نظر لگ گئی ہے اور انھیں صرف تحریک انصاف نظر آ رہی ہے۔’

ادھر وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ پرویز خٹک کہتے ہیں کہ ’میں نے پی ایم ایل کیو یا پرویز الٰہی کے خلاف میڈیا پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے تمام اتحادیوں سے رابطے میں ہوں۔’

بدھ کو میڈیا کی جانب سے ان سے ایک بیان منسوب کیا گیا جس کے مطابق انھوں نے مبینہ طور پر یہ کہا کہ پرویز الہیٰ کو ’وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں بنا سکتے، ن لیگ بناتی ہے تو بن جائیں۔ پانچ سیٹوں پر وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ بلیک میلنگ ہے۔۔۔ ہر مشکل پر بلیک میل کرنا مناسب رویہ نہیں۔‘

تاہم پرویز خٹک کی اس تردید کے بعد پرویز الہیٰ کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی مونس الہیٰ نے ٹوئٹر پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دریں اثنا وزیراعظم عمران خان بدھ کو ایک روزہ دورے پر سوات جائیں گے اور وہاں گراسی گراؤنڈ سیدو شریف میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔

’عدم اعتماد کہیں ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل نہ ہو جائے‘

وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ راولپنڈی کی تاریخ آپ کو پتا ہے ’ہم دوستی اور دشمنی قبر کی دیواروں تک نبھاتے ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جلسوں کی مکمل سکیورٹی دیں گے۔ سپیکر سے پوچھوں گا کہ وہ 28، 29 اور 30 (مارچ) میں سے کس دن ووٹنگ کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تاریخ ’29 یا 30 مارچ ہو گی، مگر اس کا فیصلہ سپیکر کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’جس کے ق لیگ جیسے اتحادی ہوں گے وہ مشکل میں ہی ہو گا،‘ پرویز الٰہی کے انٹرویو پر تبصرے

اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر جلسے جلوس: بات کدھر جائے گی؟

ڈی چوک اور دما دم مست قلندر: عاصمہ شیرازی کا کالم

https://twitter.com/ShkhRasheed/status/1500017819475267590

انھوں نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی کہ جلسوں کی صورت میں تمام رہنماؤں کو حفاظت دی جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں جب دونوں طرف سے (یعنی حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کی صورت میں) لوگ آئیں گے تو اس سے کیا تصادم ہو گا تو ان کا جواب تھا ’ظاہر ہے۔‘

شیخ رشید نے کہا ہے کہ 20 مارچ سے اسلام آباد میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کو خصوصی اختیارات دیے جائیں گے۔

انھوں نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے رویے پر حیرت ظاہر کی ہے۔ انھوں نے سوال کیا ’کیا اس ملک کو آپ (مولانا) انتشار کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔۔۔ یہ سب بھاگ جائیں گے، آپ دھر لیے جائیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ مولانا ’مولا جٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ کا احترام ہے۔ آپ دین کے ایک رہنما ہیں۔ جو زبان آپ استعمال کر رہے ہیں اگر اس ملک میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کی قیمت آپ ادا کریں گے؟‘

شیخ رشید نے وزیر اعظم کی حمایت میں کہا کہ ’عمران خان جیتے یا ہارے، فائدہ عمران خان کا ہی ہو گا۔ میں پھر یہ دہرانا چاہتا ہوں۔ عمران خان انشااللہ جیتے گا لیکن اگر نتائج کوئی اور ہوتے ہیں تو۔۔۔ عمران خان کی گذشتہ تین ہفتوں کے دوران مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے اپوزیشن کو مفاہمت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی دوسرے درجے کی قیادت ہم سے بات کرے، جلسوں کے لیے محفوظ راستوں کا تعین کرے۔‘

انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’یہ نہ ہو کہ عدم اعتماد کہیں ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل ہو جائے۔ جمہوری عدم استحکام کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس کی سزا آپ کو ملے گی۔‘

’نہ ہم آپ کو چھیڑیں گے نہ آپ قانون کو چھیڑیں گے۔ اگر آپ قانون کو چھیڑیں گے تو ہم آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔‘

پرویز الہیٰ کے انٹرویو سے متعلق سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ان سے اسد عمر اور پرویز خٹک ڈیل کر رہے ہیں۔ ’اتحادیوں سے مجھے امید ہے، ایم کیو ایم کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔۔۔ میرا کسی سے رابطہ نہیں، کسی مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں۔ ان سے کہوں گا ضرور کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ 25 تاریخ تک سب کا پتا چل جائے گا۔‘

’25 کے بعد عمران خان کا مضبوط، سنہرا، اور مقبولیت کا دور شروع ہو گا۔ حلفاً یہ بات کہنے کو تیار ہوں کہ ان تین ہفتوں میں عمران خان زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔‘

ق لیگ کی قیادت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا۔ میں نے ایک عام بات کی تھی وہ بُرا منا گئے۔ کم از کم الیکشن تک اپنی وجہ سے کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد دیکھوں گا۔‘

’سارا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں سیاسی بصیرت میں عمران خان کو جیتا ہوا دیکھتا ہوں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments