انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کمائی اور ای کامرس

اگر آپ کے پاس اسمارٹ فون ہے اور آپ کا انٹرنیٹ ڈیٹا پیکج آن ہے تو آپ کوئی بھی گھریلو یا دفتری استعمال میں آنے والی چیز آن لائن خرید کر آرڈر کر سکتے ہیں۔ آن لائن آرڈر دینے کے بعد مطلوبہ چیز آپ کو دیے گئے پتہ پر کورئیر/ ڈاک کے ذریعہ موصول ہو جائے گی۔ چیز پہنچنے پر آپ ادائیگی کریں گے اور اپنا پارسل/سامان موصول کر لیں گے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے کی جانے والی تجارت ای کامرس کہلاتی ہے۔ تاہم کاروبار سے متعلق اگر آپ کوئی سروس دیتے ہیں اور اس پر اپنی فیس لیتے ہیں تو وہ بھی ای کامرس کے زمرے میں آتی ہے۔
گلشن اقبال کے رہائشی 23 سالہ نوید احمد گزشتہ دو سالوں سے آن لائن سروسز دے کر ماہانہ 500 سے 700 ڈالر کما رہا ہے۔ لیکن وہ اس ماہانہ اچھی انکم تک پہنچنے سے پہلے دو بار آن لائن فراڈ کا بھی شکار ہوا اور اپنے ایک لاکھ روپے محروم بھی ہوا۔ نوید سے جب اس سلسلہ میں معلومات لی گئیں کہ تو اس نے بتایا کہ کرونا آنے کے بعد لاک ڈاؤن ہوا تو اس کے معاشی حالات بہت خراب ہو گئے تو ان دنوں گھر بیٹھے ایک دوست نے آن لائن کام کا مشورہ دیا اور ایک کمپنی (B 4 U) سے متعارف کروایا جو آن لائن کاروبار میں پیسے لگانے پر ہر ہفتے منافع دے رہی تھی۔
نوید نے بتایا کہ اس نے ابتداء میں احتیاطاً تھوڑے پیسے لگائے اور پھر اسے ہفتے بعد منافع کے پیسے بھی مل گئے۔ اسی طرح اس کے لگائے گئے پیسے پر منافع آتا رہا تو اس نے سوچا کہ کمپنی میں مزید پیسے لگائے جانے چاہئیں اور اپنے رشتے داروں کو بھی اس سہولت کا بتانا چاہیے۔ نوید نے بتایا کہ یہی اس کی غلطی تھی اور اس نے دوستوں اور رشتے داروں کے پیسے لے کر آن لائن کمپنی میں انویسٹ کر دیے اور کمپنی نے ایک دو بار لگائے گئے پیسوں پر پرافٹ دیا اور پھر میرا کمپنی نے اکاؤنٹ بند کر دیا اور کمپنی نے میرے جیسے دیگر ہزاروں لوگوں کے اربوں روپے لیے اور فرار ہو گئی۔
نوید نے بتایا کہ اگر کوئی آپ کو یہ آفر دے کہ پیسے دیں اور میں آپ کو آن لائن کام کر کے کما کے دکھاؤں گا تو یقیناً وہ دھوکہ ہی ہو گا کیونکہ کوئی بھی آپ کو آپ کے پیسے سے آن لائن کمائی کر کے دینے والا نہیں۔ نوید نے بتایا کہ اپنی رقم لٹانے کے بعد اس نے فری لانسنگ پر تحقیق کی اور پاکستان کے معروف ٹرینرز ہاشم سرور، سنی علی اور ثاقب اظہر کے بارے میں یو ٹیوب پر جا کر ویڈیوز دیکھیں۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ آن لائن کام کرنے کا جو بہترین ذریعہ ہے وہ ای کامرس سے متعلقہ خدمات دینے میں ہے جس میں دنیا کی معروف کمپنی ایمازون پر بطور ورچوئل اسسٹنٹ کی نوکری کرنا بھی ہے۔ نوید نے بتایا کہ اس وقت 150 سے زائد آن لائن سکلز ہیں جنہیں سیکھ کے ماہانہ لاکھوں فری لانسنگ کے ذریعے کمائے جا رہے ہیں۔
فروری 2020 ء میں پاکستان کا پہلا کرونا سے متاثرہ مریض کا کیس سامنے آیا جس کے بعد حکومت پاکستان نے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا اور پورے ملک میں کاروباری مراکز بند کر دیے گئے صرف میڈیکل اسٹورز اور اشیاء ضروریہ کے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی۔ جس کے باعث بہت سے کاروبار متاثر ہوئے اور پاکستانی شہری راتوں رات جہاں بے روزگار ہوئے وہیں بیشتر کاروبار کرنے والے دکاندار بنے بنائے کاروباروں سے محروم ہو گے۔ کرونا کی اب تک پانچ جان لیوا لہریں آ چکی ہیں کبھی حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تو کبھی سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جس سے مختلف چھوٹے کاروبار کرنے والے دکاندار شدید متاثر ہوئے تاہم اس لاک ڈاؤن میں آن لائن کاروبار اور ای کامرس کا بھی رجحان تیزی سے بڑھا اور بہت سے لوگوں نے اس سے فائدہ بھی اٹھایا۔
گلشن راوی کے رہائشی 25 سالہ ثناء شادی کے بعد گھریلو ذمے داریاں نبھا رہی تھیں۔ ثنا نے ماسٹر ڈگری کمپیوٹر سائنس میں کی تھی اور شادی کے بعد وہ اپنی ڈگری سے متعلقہ کوئی کام یا نوکری حاصل نہیں کر سکیں تھیں۔ پھر ثنا کو آن لائن کام کے بارے میں ایک نجی کمپنی کی مفت فراہم کردہ تربیت سے معلومات ملیں تو انہوں نے ویب ڈیزائننگ اور گرافک ڈیزائننگ کی سروس بطور فری لانس سروس آفر کر دیں۔ جس کے بعد ثنا کو آن لائن کام ملنا سٹارٹ ہو گیا اور ثنا اب 500 ڈالر سے زائد ماہانہ گھر بیٹھے کما رہی ہیں۔
ثناء کا بھی یہی کہنا ہے کہ آپ پہلے کوئی صلاحیت سیکھیں اور پھر اپنی سروس دے کر آن لائن کمائی کریں تو بہتر ہے۔ جرمنی کی ایک ویب سائٹ (statista.com) جو ای کامرس کے متعلق دنیا بھر کے اعداد و شمار اکٹھے کرتی ہے کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں ای کامرس کے حوالے سے 37 ویں نمبر پر ہے اور سن 2021 میں 6 ارب ڈالر کا ریوینیو ای کامرس سے کما چکا ہے۔ سن 2021 میں گزشتہ سالوں کی نسبت 45 فی صد اس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
اسپیشل اسسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر آن ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی کے ایک بیان کے مطابق ملکی ای کامرس کا کاروبار 9.1 ارب ڈالر سن 2025 تک ہو جائے گا۔ ای کامرس یا آن لائن کاروبار کے حوالے سے دھوکہ دہی/ فراڈ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اور ان کی بھی میڈیا میں رپورٹس شائع ہوئی ہیں تاہم ملک میں ایسا کوئی ادارہ سامنے نہیں آیا جو ان فراڈ کے اعداد و شمار بتا سکے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے شاپنگ کا آج کل دور دورہ ہے اور موجودہ مصروف ترین زندگی میں بازار جا کر اور وقت نکال کر خریداری کی بجائے آن لائن شاپنگ کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء، فاسٹ فوڈ تو اب معروف موبائل ایپ کے ذریعے ہی منگوا جاتی ہیں۔ بعض صارفین اس خریداری سے مطمئن نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بازار سے خود جا کر اگر چیز لیں تو وہ ان کو مہنگی ملتی ہیں اس لیے وہ آن لائن خریداری کرتے ہیں جہاں مختلف آفرز کی مد میں انہیں کم قیمت پر مطلوبہ اشیاء مل جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ سے آن لائن خریداری کرنے والے کچھ صارف ایسے بھی ہیں جو مطمئن نظر نہیں آتے اور کہتے ہیں جو چیز تصویریں یا ویڈیوز دیکھا کر ویب سائٹس بیچ رہی ہوتیں اس کے بر عکس ان کو چیز ملتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خریدار کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ اس ویب سائٹ سے خریداری کرے جس کے بارے میں صارفین کی آن لائن دی گئی رائے اچھی ہو اور وہ ڈیلیوری وقت پر دے رہی ہو۔ آج کل تو کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کو ڈیلیوری کے وقت پارسل کھول کر چیک کر کے پھر ادائیگی کی آفرز شروع ہو چکی ہیں جس سے آنے والے دنوں میں صارف کا اعتماد بڑھے گا۔

