جمہوریت: دائروں کا سفر
یہ مشرف کی سیاہ ترین آمریت تھی۔ آمریت میں جمہوریت کے لئے سپنے سجائے جا رہے تھے۔ بہتر مستقبل کی آرزو کی جا رہی تھی۔ کالم نگار اور الیکٹرانک میڈیا میں اینکر، تجزیہ کار ان خوابوں کو نئی مہمیز بخش رہے تھے۔ افتخار چوہدری کی عدلیہ مہم کسی نئے انقلاب کی نوید محسوس ہوتی تھی۔ اعلی عدلیہ کے اوصاف گلی گلی بتائے جا رہے تھے۔ آمریتوں کی برائی کو لفظ لفظ جوڑ کے بتایا جا رہا تھا۔ اسی دوران مشرف کا زوال دن بدن گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا میثاق جمہوریت جمہوریت پسندوں کے لئے عید سعید سے کم نہ تھا۔ جمہوریت پسندوں نے اقتدار کے قلعے میں گہرا شگاف ڈالا اور حالات اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور جنرل مشرف کی آمریت نے تاریخ کی قبر میں اپنی جگہ بنائی۔
پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کے ہاتھ میں میان اقتدار آئی، یہ نی امید کا زمانہ تھا۔ توقع تھی کہ عام آدمی کے دن بدلیں گے۔ جمہور اور جمہوریت کو طاقت ملے گی۔ مگر جمہوریت پسند عدلیہ بحالی محاذ پہ ابھی سرگرم تھے اور آصف علی زرداری ”معاہدے قرآن حدیث نہیں ہوتے“ پہ بضد، بعد میں عوامی مارچ کے بعد عدلیہ بحال ہوئی مگر جمہوری حکومت کو اس نے مفلوج رکھا، بدترین طرز حکمرانی اور کرپشن تو تھی ہی سیاستدانوں نے ماضی سے کچھ نہ سیکھا اور اشارہ ابرو پا کے کالے کوٹ پہن کے ملک کی اعلی ترین عدلیہ میں جمہوری حکومت کو لرزانے کے لئے پیش ہوئے. اسی دوران ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“ اور نئے عمران خان کے سیاسی ظہور نے بھی حکمرانوں کی چولیں ہلائی رکھیں اور میڈیا کا وہ بڑا حصہ جو امید سحر اور نئے مستقبل کے لئے اذان حق دے رہا تھا وہ طوطوں نجومیوں اور ”اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے“ کی نظموں کا ہم نوا آیا اور کسی جمہوری حلقے کو یہ خیال نہ آیا کہ آج پوری طرح حکومت نہ کرنے دیں گے تو عوامی حکومت دائروں میں ہی سفر کرتی رہے گی۔ پیپلز پارٹی نے بھی عوامی مسائل کے لئے بھی رتی برابر کوشش نہ کی اور امیدوں کا خون کرتے ہوئے اقتدار سے باہر ہوئی۔
اس کے بعد نون لیگ کے سر پہ اقتدار کا ہما بیٹھا، دہشتگردی کو جڑ سے اکھیڑنے کے بعد اور افتخار چودھری کے عدالتی مارشل لاء سے آزاد یہ حکومت ابھی پوری طرح سانس بھی نہ لے پائی تھی کہ تحریک انصاف کے مطالبات یکسر نظر انداز کرنے کی پاداش میں دھرنوں اور جلسوں کا شکار ہوئی، سینکڑوں گھنٹے میڈیا حکمرانوں اور حکمران خاندان کے خلاف رہا، رہی سہی کسر پانامہ اور حکمرانوں خاندان کے عدالت میں جمع کیے گئے جواب نے پوری کی، کرپشن کہانیوں اور پارلیمنٹ سمیت جمہوری قدروں کے لئے سنجیدگی نظر نہ آئی، اقتدار عملی طور پہ سمدھی اور بھائی کے ہاتھ رہا اور کچن کیبنٹ کے ذریعے ریاست کو چلایا جاتا رہا، جمہوریت اور عوامی مسائل کے لئے حکمرانوں کے پاس کابینہ اجلاس کی بھی فرصت نہ تھی۔ یوں پانامہ کیس کے بعد نا اہلی نے تو آرزوؤں کا اور قبرستان بنایا۔
بات اب تحرک انصاف کی طرف بڑھنے لگی اور عوام کی ایک واضح اکثریت نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دیا، مگر وزیراعظم کے پہلے دن کی تقریر کو اپوزیشن کی منتشر کرنے کی کاوش نے بتلا دیا کہ سیاسی استحکام کا خواب اس دور حکومت میں بھی خواب ہی رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان اس پورے دور میں اشتعال میں دکھائے دیے مگر پہلے سال مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں دھرنوں سے لے کر عدم اعتماد کی تحریک تک نہ حکومت نے سیاسی استحکام کی کوشش کی اور نہ اپوزیشن نے حکومت کو چین کا سانس لینے دیا، نتیجہ بے چینی، عدم استحکام اور عوامی مسائل کے نہ ہونے میں نکل رہا ہے۔ اب وہ اپوزیشن جو پانچ سال پورے ہونے کے حق میں دلیلیں دیتی نظر اتی ہے وہی حکمرانوں کے اقتدار کی رخصتی کے لئے مہم برپا کیے ہوئے ہیں۔ عمران خان صاحب جو کل نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کی کوشش کر ہے تھے وہی اپنے اپ کو بچانے لئے پوری طرح سرگرداں ہیں۔ اپنی جماعتوں اور ملک میں جمہوریت کے لئے سنجیدگی کم کم نظر اتی ہے۔ دائروں کا سفر جا رہی ہے جس میں جمہور اور جمہوریت کے لئے شاید کچھ نہیں ہے۔ اشارہ ابرو کے لئے بے چینی بہت سے جمہوریت پسندوں کے لئے تکلیف دہ ہے۔ صرف اپنے لئے حکمرانی کا قرعہ ہی جمہوریت کا اصل باب گنا جا رہا ہے۔ اگر جمہوریت کا مطلب صرف پانچ سال پورا کرنا ہے تو یہ سراب ہے۔ اگر جمہوری قدروں کے معانی اقتدار نسلوں اور دوستوں کو نوازنا ہے تو یہ عوامی امنگوں کا خون ہے۔ اگر جمہوریت یہی ہے کہ اپنی پارٹی ہو تو جمہوریت کے حق میں دلیلیں اور مخالف کو حق حکمرانی نہ دینا ہے تو یہ سراسر گمراہی ہے اور یہ دائروں کا سفر ہے۔
قاسم پیرزادہ نے کہا تھا۔
صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھر۔
ایک شب اور مری شب سے ملا دی جائے۔


