اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پی ٹی آئی کے علاوہ پاکستان میں پانچ سال کے لیے قومی حکومت کی تجویز


شہباز شریف
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے تجویز دی ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو چھوڑ کر پانچ سال کے لیے قومی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔

شہباز شریف بدھ کی رات جیوز نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹالک کے میزبان حامد میر سے گفتگو کر رہے تھے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میری اپنی یہ رائے ہے کہ اگر ن لیگ کو موقع ملتا ہے تو ہمیں پی ٹی آئی کے علاوہ ایک نیشنل گورنمنٹ بنانی ہو گی جو پانچ سال مل کر، سر جوڑ کر، ملکی مسائل حل کرے۔ اس کے بعد ایک سٹیج سیٹ ہو جائے گا۔‘

شہباز شریف نے واضح کیا کہ قومی حکومت کی تشکیل ان کی ذاتی رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف اور ہماری پارٹی کا موقف یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ضروری قانون سازی اور فیصلے کر کے عام انتخابات ہونے چاہیئں۔

’ابھی اس معاملے پر پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر سے مشاورت کرنی ہے جس کے بعد فیصلہ اجتماعی بصیرت سے ہو گا۔‘

’تصادم سے جمہوریت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے‘

شہباز شریف نے اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے اسلام آباد میں سپورٹرز کو اکھٹا کرنے سے تصادم کے خطرے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ (تحریک انصاف) آئین اور قانون کا راستہ چلنے دیتے اور دھمکی نہیں دیتے کہ ہم لاکھوں لوگ لائیں گے، اور ممبرز کو اسی ہجوم سے گزرنا ہو گا۔۔۔ یہ تو تشدد کی بات کر رہے ہیں۔‘

’ہم بلکل ایسا نہیں چاہتے۔ یہ ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں خوش اسلوبی سے جائیں، جس کو چاہتے ہیں ووٹ دیں، اس میں یہ رکاوٹ ڈالیں گے تو یہ آئین، قانون اور پارلیمانی روایات سے تصادم ہو گا۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’ہم اپنے لوگ لائیں گے اپنے ووٹرز کا دفاع کرنے کے لیے اگر یہ باز نہیں آتے اور صلح کی آواز نہیں سنتے۔۔۔ ہم اہنے کارڈز ابھی سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ میں ان کو کہتا ہوں کہ خدارا اس طریقے سے باز رہیں، اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے تو اپنے ارکان کا تحفظ کرنا ہے ہر صورت۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان تو بہت پہلے ہوا تھا، ’یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘

شہباز شریف

یہ بھی پڑھیے

مسلم لیگ ق نے ’حکومت چھوڑی ہے نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے‘

’اپوزیشن نے لوگوں کو مہنگائی بھلا دی۔۔۔ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے ہیں‘

اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر جلسے جلوس: بات کدھر جائے گی؟

تحریک عدم اعتماد: نمبرز اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

اپوزیشن لیڈر سے جب سوال کیا گیا کہ کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دعوے کے مطابق حزب اختلاف کو دو سو ممبران قومی اسمبلی کی حمایت کا یقین ہے تو شہباز شریف نے کوئی نمبر دینے سے گریز کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش جاری ہے۔ بلاول سمیت باقی لوگ محنت کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اچھی کامیابی ملے گی۔‘

جب شہباز شریف سے حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر سوال کیا گیا تو انھوں نے ان الزامات کی تردید کی۔

انھوں نے حکومت کے الزام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ جہازوں پر ممبر لوڈ کر کے بنی گالا پہنچا رہے تھے، وہ ہارس ٹریڈنگ نہیں تھی؟ ہارس ٹریڈنگ میں پیسہ دیا گیا ہو، تو ثابت کر دیں۔ اگر ہم اتحادیوں کو قائل کرتے ہیں اور وہ اپنی سوچ سے فیصلہ کریں کہ اپوزیشن کے بنچز پر بیٹھنا ہے اور حکومت کا ساتھ نہیں دینا، تو اس کو ہارس ٹریڈنگ نہیں کہا جا سکتا۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’ایسے ہی پی ٹی آئی کے ممبر اگر اپنے ضمیر کی آواز پر عمران خان کا ساتھ نہیں دیتے، تو یہ بھی ہارس ٹریڈنگ نہیں۔‘

شہباز شریف نے ن لیگ کی جانب سے آئندہ الیکشن کے ٹکٹ کے وعدے کے سوال پر کہا کہ ’کئی تحریک انصاف ممبران یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹکٹ ملے یا نہیں ملے، ہم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے کیوں کہ وہ ہار کا ٹکٹ ہے۔‘

پرویز الہی

پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور ق لیگ

شہباز شریف نے ق لیگ سے متعلق سوال پر کہا کہ ’پرویز الہی سے ملاقات کافی عرصے بعد ہوئی۔ ہماری کوشش ہے کہ ق لیگ، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی کو قائل کر سکیں کہ ہمارا ساتھ دیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اپوزیشن کی جانب سے ق لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے مخالف اور کل کے مخالف آج کے دوست۔۔۔ ہمارے لیے پہلی چیز پاکستان کا مفاد ہے۔ نواز شریف کی لیڈر شپ میں فیصلے کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

گجرات کے چوہدریوں کے پاس ایسی کیا طاقت ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے؟

جب بےنظیر بھٹو کو وزراتِ عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے ’بھاؤ تاؤ کا بازار گرم‘ ہوا

ایم کیو ایم کے سیاسی اتحاد: ’حکومت میں آنے جانے کے فیصلے اُوپر سے ہوتے‘

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور پارلیمان میں تیسری قوت کا کردار

وزیر اعظم عمران خان پر تنقید

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ ’متحدہ اپوزیشن کی جدوجہد کے نتیجے میں بہار آنے والی ہے، چاہے عمران خان جتنے مرضی پھول کاٹ لیں، بہار کو نہیں روک سکیں گے۔‘

تحریک عدم اعتماد پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میری یا کسی اور سیاسی لیڈر کی خواہش نہیں۔ یہ عوام کی مشکلات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا جس سے پہلے ہماری جماعت میں مختلف آرا تھیں کہ اس طرف جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ راستہ آئینی بھی ہے، قانونی بھی ہے اور سیاسی بھی۔‘

عمران خان سے ڈیبیٹ کے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ ’ان کے ساتھ ایسا کرنا وقت کا ضیاع ہو گا۔ جو ہاتھ ملانے کا روادار نہ ہو، جو دن رات چور ڈاکو کا منتر کرتا رہے، گالی گلوچ کرے، نا شائستہ زبان استعمال کرے، میں سمجھتا ہوں جو بیٹھنے کو تیار نہیں، ایسے شخص کے ساتھ کیوں بیٹھیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب یہ آئے تو میں نے کہا کہ چارٹر آف اکانومی کرتے ہیں، انھوں نے حقارت سے مسترد کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔‘

شہباز شریف

شہباز شریف نے حکومت کی معاشی اور سفارتی پالسیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان معاسی تباہی کے دہانے پر نہیں، تباہ ہو چکا ہے۔ سفارتی طور پر بھی ملک کو تنہا کر دیا گیا۔ کس نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر پر سعودی سفیر کی ضرورت نہیں، امریکہ سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ایبسولیوٹلی ناٹ۔۔‘

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’پارلیمان میں سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ہمیں بتایا گیا کہ امریکہ نے ہم سے کوئی اڈے نہیں مانگے۔ بتایا گیا کہ پرانا ایئر کوریڈور ہے، وہی نظام چلا آ رہا ہے جو مشرف کے دور میں شروع ہوا۔‘

شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر کرپشن میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی کرپشن پر خلاف چڑھا دیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ احتساب کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp