لال حویلی کا مکین اور چوہدری برادران


لال حویلی کے مکین سے دوستی کم و بیش 54 سال پر محیط ہے۔ اس دوستی میں کئی بار ناراضی نے لی لیکن ناراضی کا موقع فراہم کرنے میں ہمیشہ شیخ رشید احمد نے پہل کی اور اس میں ان کے ذاتی طرز عمل بڑا عمل دخل رہا۔ وہ یک طرفہ دوستی ہی کو دوستی سمجھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کون کس قدر ان کے لئے کارآمد ہے، اس وقت ہی وہ اس کا دوست ہوتا ہے لیکن 2003 ء میں ناراضی نے اتنی شدت اختیار کر لی جو 19 سالوں سے قائم ہے۔ انہوں نے اس ناراضی کو ختم کرنے کوشش کی اور نہ ہی میں نے اس کی ضرورت محسوس کی۔ ذاتی ناراضی کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔

شیخ رشید احمد کو لیڈر بنانے میں اگر آغا شورش کاشمیری اور شورش ملک سمیت کچھ صحافیوں کا کردار تھا، اس کار خیر میں کچھ بندہ ناچیز کا بھی بڑا رول تھا۔ جس وقت شیخ رشید احمد کی خبریں لگانے کی ضرورت ہوتی بھی تو میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کے پریس ریلیز بنا کر اخبارات کے دفاتر کے چکر لگاتا۔ آج شاید اس بات سے انکار ہی کر دیں کہ میرا ان سے کوئی تعلق بھی تھا۔ انہوں نے ناراضی کی وجہ سے مرنا جینا ہی چھوڑ دیا لیکن میں نے آج تک ان کی کوئی خوشی غمی نہیں چھوڑی میرے دل میں آج بھی شیخ رشید احمد کے خاندان کا پورا احترام ہے۔

ان کے بھائی شیخ صدیق احمد اور بھتیجے شیخ راشد شفیق ایم این اے سے آج بھی رابطہ قائم ہے۔ میں نے آج شیخ رشید احمد کی سیاست کے حوالے سے قلم اٹھا رہا ہوں میں کوشش کروں گا۔ ان کی ذات کے حوالے سے کوئی بات نہ لکھوں جس سے ان کو کوئی تکلیف ہو لہذا میں ان کی سیاست بارے میں دیانت دارانہ رائے کا اظہار کروں گا۔ میں آج کے کالم کی اس قدر تمہید باندھی ہے تاکہ کالم پڑھنے والے کو میرے اور شیخ رشید احمد کے تعلقات بارے میں معلوم ہو۔

یہ کالم لکھنے کی وجہ ان کا چوہدری برادران بارے میں تازہ ترین بیان ہے جس کا چوہدری برادران کی جانب سے رد عمل آنے کے بعد انہوں نے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے ان کی دو کتب فرزند پاکستان اور لال حویلی سے اقوام متحدہ تک زیر مطالعہ ہیں جن کے مطالعہ سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے۔ شیخ صاحب کا شمار بلا شک و شبہ ملک کے بڑے رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاست میں ایک مقام پیدا کیا ہے لیکن ان کی تمام تر توانائیاں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی وکالت کرنے میں گزر گئی ہے پھر عمر کے اس حصے میں جہاں سچ لکھنا اور بولنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے جہاں فرزند پاکستان میں مبالغہ آرائی کی ہے۔

وہاں انہوں نے اپنے آپ کو جس قدر غریب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ حقائق کے برعکس ہے۔ وہ میری طرح مڈل کلاس کی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کو سیاست میں عروج اپنی شعلہ بیانی سے ملا وہ جیل کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس میں بڑی حد تک حقیقت ہے۔ اس میں گواہ ہوں لیکن بعض واقعات کچھ اس طرح بیان کیا جیسے ان جیسا لیڈر پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔ شیخ صاحب اچھے خاصے لیڈر ہیں لیکن انہوں نے نصف صدی دوسروں کے گیت گاتے اور مخالفین کو رگیدنے میں صرف کر دی بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ شیخ رشید احمد کو جو کچھ بننا چاہے تھا وہ نہ بن سکا۔

غالباً 2003 کی بات ہے۔ میری جدہ میں سرور پیلس میں میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو میں ان سے کہا کہ میں نے فوج کے ٹیک اوور کرنے دو روز بعد ( 14 اکتوبر 1999 ء) کو چوہدری تنویر خان کی موجودگی میں محمد اعجاز الحق سے کہا کہ اگر اس وقت آپ پارٹی کو ٹیک اوور کر لیں تو مسلم لیگ (ن) منتشر ہونے بچ سکتی ہے تو میاں نواز شریف نے محمد اعجاز الحق بارے میں مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ کاش! شیخ رشید احمد میری عدم موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سنبھالتے، ان میں سیاسی سوجھ بوجھ ہے لیکن وہ فوجی حکومت کا حصہ بن گئے ہیں۔

میں نے سعودی عرب سے واپسی پر شیخ رشید احمد کو میاں نواز شریف سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا تو ان کی باچھیں کھل گئیں اور مجھ سے خبر چھاپنے لئے حلف لیا۔ میں نے روزنامہ نوائے اسلام آباد میں خبر تو شائع کر دی لیکن اس پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے شدید رد عمل ہوا لیکن میاں نواز شریف نے اس بات کی تردید نہیں کی البتہ جب میں اگلے سال سعودی عرب گیا تو میاں صاحب نے دوستانہ انداز میں شیخ رشید احمد کے بارے میں گفتگو کو شائع کرنے پر گلہ ضرور کیا۔ چونکہ میرا ان سے اخلاص پر مبنی تعلق تھا۔ لہذا انہوں نے ناراضی کا اظہار نہیں کیا یہ الگ بات ہے۔ شیخ رشید احمد نے اپنے بارے میں میاں نواز شریف کے ریمارکس شائع کروا کر جنرل پرویز مشرف سے کیش کروا لئے۔

شیخ رشید احمد اکثر و بیشتر فخریہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ لال حویلی کے دروازے طاقت ور لوگوں کی طرف کھلتے ہیں۔ جب تک ان کے راہ رسم نہیں تھے۔ انہیں ان قوتوں نے راولپنڈی کا ناظم نہیں بننے دیا جب تعلق بڑھا جسے وہ دوستی کا نام دیتے تھے تو پھر ان کا نمبر ون سے براہ راست رابطہ قائم ہو گیا پھر نمبر ون سے دوستی کا یہ عالم کہ اسلام آباد کلب میں ان کے ساتھ ٹینس کھیلنا اور پھر جان بوجھ کر اس سے ہارنا اپنا معمول بنا لیا۔

جب پہلی بار شیخ رشید احمد کو عوامی مسلم لیگ کے قلم دوات کے نشان پر راول پنڈی کے دو انتخابی حلقوں سے انتخاب لڑا تو دونوں نشستوں پر ضمانت ضبط کروا دی اس کے بعد انہوں نے 2013 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی راہ تلاش کرنے کے لئے چوہدری نثار علی خان کے کندھوں کو استعمال کیا لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر بھلا ہو راولپنڈی کے طاقت ور دوستوں کا جنہوں نے ان کا عمران خان سے سیاسی نکاح پڑھوا دیا سو وہ آخری خبریں آنے تک اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کا اعلان کر کے عمران خان کو باور کرا رہے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں۔ ”عمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں“ لیکن جب وہ مڑ کر دیکھیں تو پیچھے کوئی نظر نہ آئے گا۔ موجودہ صورت حال میں شیخ صاحب کے پاس کوئی دوسری چوائس بھی نہیں مسلم لیگ نون ان کو نہیں لے گی۔ اس لئے ان کے پاس پی ٹی آئی کا سہارا ہی ہے۔

اس وقت وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کے نشانے پر ہیں اور وہ اتحادیوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔ ان کی فرمائشیں اور مطالبات پورے کرنے سے رہے ایسے موقع پر شیخ رشید احمد کا مسلم لیگ (ق) کے بارے میں بیان میزائل سے کم نہ تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ میری ایک نشست ہے، 5 نشستوں والی پارٹی پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر بلیک میل کر رہی ہے۔

شیخ رشید احمد کے بیان کی سیاہی خشک نہیں ہو پائی تھی کہ وفاقی وزیر آبی وسائل چوہدری مونس الہی نے وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنا رد عمل جاری کر دیا اور کہا کہ کہ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن شیخ رشید صاحب شاید یہ بھول رہے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ طالبعلمی میں ہماری جماعت کے بزرگوں سے پیسے لیا کرتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے بھی شیخ رشید احمد کو آڑے ہاتھوں لیا جب کامل علی آغا کسی کو تختہ مشق بناتے ہیں تو پھر الاماں الاماں کوئی ان سے کس طرح بچ سکتا ہے۔

بہرحال چوہدری برادران نے خود شیخ رشید احمد کو جواب دینے سے گریز کیا لیکن شیخ رشید احمد نے چوہدری برادران کے بدلتے تیور دیکھ کر فوراً ہی پسپائی اختیار کر لی اور کہا کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک عمومی بات کی تھی کہ جن کی 4، 5 سیٹیں ہیں۔ وہ بھی وزارت اعلی مانگ رہے ہیں۔ میں نے چوہدری برادران کا نام ہی نہیں لیا تھا لیکن لوگ میری بات سے خفا ہو گئے۔ شیخ رشید نے کہا کہ چوہدری ظہور الہی اور خواجہ صفدر کے مجھ پر احسانات ہیں۔ جب گرفتار ہوا تھا تو چوہدری شجاعت کی والدہ گھر سے کھانا بھیجتی تھیں، چوہدری شجاعت حسین میرے بھائی ہیں۔ ان کے خلاف کوئی بات نہیں کہوں گا۔ انسان کو امتحان کے وقت دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں، جو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اسے اللہ اور قوم عزت دیں گے۔

شیخ رشید احمد کی پہلی سوانح حیات ”فرزند پاکستان“ اور اس کی توسیع ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک“ میرے زیر مطالعہ ہیں جن میں جگہ جگہ انہوں نے چوہدری ظہور الہی سے اپنے تعلق اور نوازشات کا ذکر کیا ہے۔

کچھ نوازشات کا تو میں خود عینی شاہد ہوں شیخ رشید احمد نے کوئٹہ جا کر ویسے ہی چوہدریوں کے خلاف بیان نہیں داغا یقیناً عمران خان نے ان کو چوہدریوں کو ایکسپوز کرنے کہا ہے۔ شیخ صاحب کی کتاب میں جہاں انہوں نے چوہدری برادران سے اپنے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔ وہاں انہوں نے جگہ جگہ ان سے اختلافات کا بھی ذکر کیا ہے۔ شنید ہے جب چوہدری برادران نے اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لئے پنجاب کی وزارت اعلی مانگی تو عمران خان نے چوہدری برادران کو مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی تجویز پیش کر دی جسے قبول کرنا مسلم لیگ (ق) کی سیاسی موت کے مترادف ہے۔

چوہدری پرویز الہی نے تو واضح طور کہہ دیا ایم کیو ایم، باپ اور مسلم لیگ (ق) ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ اپوزیشن میں گئے تو وزارتیں چھوڑ دیں گے۔ متحدہ اپوزیشن ایم کیو ایم کے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی ایم کیو ایم کے تمام مطالبات ماننے پر رضامندی اختیار کر لی ہے۔ ایم کیو ایم کو سندھ کی گورنر شپ بلدیات سمیت 6 وزارتیں، ملازمتوں میں شہری علاقوں کے نوجوانوں کو 40 فیصد کوٹہ دینے کا معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدہ پر عمل درآمد کی ضمانت مولانا فضل الرحمنٰ اور میاں شہباز شریف نے دی ہے۔

اگلے روز چوہدری پرویز الہی نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیا کہ تحریک عدم اعتماد پر اتحادی جماعتوں کا 100 فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔ ہے۔ اسے بدلنا عمران خان کی ڈیوٹی ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نیوٹرل ہیں تو انہوں نے بولا کہ یہ تو صرف جانور ہوتا ہے۔ اس لئے پہلے سوچو پھر بولو۔ وزیر اعظم نے ہمارے ایم این اے سے کہا کہ 3 سال اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کی اس لئے ڈیلیور نہیں کر سکے پشاور سے مدد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر اللہ نے ہی کام کر دیا حکومت نے دیر کر دی شگاف پڑ گیا ہے۔ اپوزیشن کے پاس زیادہ ارکان ہیں۔

چوہدری پرویز الہی کا انٹرویو جہاں عمران خان کے انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں انہوں نے کھلم کھلا پیغام دے دیا ہے۔ انہیں اس بات کا علم ہے کہ حکومت سے الگ ہونے کے بعد سب سے پہلے چوہدری مونس الہی کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ چوہدری برادران چوہدری مونس الہی کی گرفتاری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ پشاور کا اشارہ بھی سب کو سمجھ آ رہا ہے۔

18 مارچ 2022 ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جا رہا ہے جس کے بعد سپیکر 28 مارچ تک اجلاس کی کارروائی ملتوی کر کے معاملہ کو طوالت دے کر حکومت کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔ ادھر فواد چوہدری نے دھمکی دے دی ہے۔ کس مائی کے لعل کا جگر ہے کہ وہ 10 لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس چلا جائے اسی طرح متحدہ اپوزیشن نے بھی اسی روز اسی مقام پر جلسہ رکھ لیا جہاں پی ٹی آئی اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ 20 لاکھ کا جلسہ ہو گا۔ دیکھیں گے۔ حکومت کیسے راستہ روکتی ہے۔ تصادم کے خطرہ کے پیش نظر چوہدری شجاعت حسین نے حکومت اور اپوزیشن کو ڈی چوک میں جلسے منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔

Facebook Comments HS