عمران خان اور تبلیغ



عمران خان نے اپوزیشن راہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے۔ کہ آنے والے دنوں میں وہ تین چوہوں کا شکار کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے۔ وہ سیاست میں اس لیے نہیں آئے کہ ٹماٹر اور آلو کی قیمت کا پتہ کریں۔ بلکہ ان کا مقصد قوم کی تشکیل تھا۔

پٹواریوں، ٹرانسپورٹرز اور ملکی وسائل سے منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا۔ وہ پچیس سال سے تبلیغ کر رہے ہیں۔ اگر پاکستانی ایک عظیم قوم بننا چاہتے ہیں تو ان کا ساتھ دیں۔

اگر خان صاحب کے اس دعوے کو ان کی باتوں اور تقاریر سے پرکھا جائے تو ان کی 22 سال کی جدوجہد دیکھ کر بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ کیوں کہ ان کے قول و فعل میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ ہرگز ایسے نہیں ہیں۔ جیسے کہ وہ جلسوں میں فرماتے

ہیں۔ ان کی ڈکشنری میں درگزر اور صلہ رحمی کے الفاظ بالکل نہیں ہیں۔ تبلیغی ذہن کا مالک تو بڑا نرم مزاج اور میٹھی زبان والا ہوتا ہے۔ مگر عمران خان بڑی کڑوی زبان رکھتے ہیں۔ اور ان کا رکھ رکھاؤ بھی بڑا متکبرانہ ہوتا ہے۔

اگر بطور وزیراعظم ان کا کام ملک میں معیشت کو ٹریک پر ڈالنا، مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرنا نہیں تھا۔ تو وہ اتنا عرصہ وزیراعظم کی کرسی سے کیوں چپکے رہے۔ انہوں نے سیاست میں آ کر اپنا اور قوم کا قیمتی وقت کیوں برباد کیا۔ بجائے اس کے وہ سیاست میں آتے انہیں عالم یا سکالر بننا چاہیے تھا۔ وہ قاسم علی شاہ کی طرح یوٹیوب چینل بنا کر عوام کو بہتر انداز میں ایجوکیٹ کر سکتے تھے۔ چونکہ وہ بطور کرکٹر انتہائی مقبول رہے ہیں۔ اور نوجوان طبقے کی ایک بڑی تعداد ان کو فالو کرتی ہے۔ لہذا وہ سکالر اور مبلغ کی حیثیت سے بڑے کامیاب رہتے۔

کیا انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی ذمہ داری تبلیغ نہیں ہے۔ اس کام کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور علماء کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ وزیراعظم کی اصل ذمہ داری امور مملکت چلانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

خان صاحب کا مقصد اگر نئی نسل کی اصلاح ہوتا تو وہ اس کارخیر کا آغاز اپنی ذات سے کرتے۔ اپنے اندر سے بغض، نفرت اور تکبر کا خاتمہ کرتے۔ اپنی جماعت کی نوجوان لیڈر شپ کی کردار سازی کی طرف توجہ دیتے۔ جو مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ عمران خان کو سب سے پہلے اپنے کارکنوں کو تہذیب اور شائستگی کا درس دینا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کا مشن لوگوں کی اخلاقی گراوٹ دور کرنا ہرگز نہیں تھا اور نہ ہے۔ درحقیقت ان کے منہ میں جو بھی آتا ہے وہ بول دیتے ہیں۔ ان کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو وہ کہتے ہیں۔

دھرنے کے دوران خان صاحب نے جو سبق نوجوان نسل کو پڑھایا تھا۔ وہ قوم کو ابھی تک یاد ہے۔ انہوں نے ماضی میں اسلام آباد میں ایک متوازی سٹیٹ قائم کر دی تھی۔ وہ عوام کو سول نافرمانی پر اکساتے رہے، بجلی کے بل جلائے گئے، پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرایا گیا، ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا، اسلام آباد کے شہریوں کو یرغمال بنا دیا گیا۔ اور غیر ملکی شہریوں کو چیکنگ کے نام پر ہراساں کیا جاتا رہا۔ اس دھرنے کی وجہ سے چین جیسے دوست ملک کا دورہ پاکستان منسوخ ہوا۔ مگر نہ عدلیہ اور نہ کسی دوسرے ادارے کو اس بات کی توفیق ہوئی۔ کہ وہ سٹیٹ کی رٹ بحال کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے۔

وزیراعظم صاحب کو قوم بنانے کا مشن تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے کیوں نہیں یاد آیا۔ اب جب کہ کرسی ان کے نیچے سے سرکنے والی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مبلغ کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔

وہ اپنے آپ کو مبلغ تو سمجھتے ہیں مگر وہ نہ کسی میت کے لواحقین سے پرسہ کرتے ہیں۔ اور نہ ہی بم دھماکے یا کسی حادثے کی جگہ کا دورہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کیا مبلغین اور خاص کر ریاست مدینہ کے نام لیوا اس طرح دکھی انسانیت سے لاتعلق رہتے تھے۔ کیا خلفاء راشدین رعایا کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتے تھے۔

وزیراعظم دراصل اپنے فالورز کو مشتعل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح اپنی چرب زبانی سے ماضی میں نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ جمع کیا تھا۔ اب بھی ان کا مقصد زمین اور آسمان کے قلابے ملا کر ایک بے قابو ہجوم تیار کرنا ہے۔ جو ماضی کی طرح سرکاری عمارات پر چڑھ دوڑے۔ خان صاحب ہر قیمت پر اپنا اقتدار بچانا چاہتے ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ اگر وہ اپنے عہدے پر برقرار نہ رہے تو اپوزیشن حکومت میں آ کر انہیں جیل میں بھی ڈال سکتی ہے۔

کابینہ کے بعض اراکین جنہوں نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے قائدین پر تنقید کے دوران ریڈ لائن کراس کی تھی۔ آج وہ بھی پریشانی کے عالم میں ہیں۔ انہیں اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ دراصل ان کے نیچے سے نہ صرف وزارت کی کرسی نکل رہی ہے۔ بلکہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں ان کو کوئی امید کی کرن نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ حکومت کی بری گورنس کے باعث حکومت کے اتحادی بھی نالاں ہیں۔ وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے دوسرے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ تاکہ آنے والے الیکشن میں انہیں عوام کے غیض و غضب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تین سال تک ”فون کالوں“ کی مدد سے چلنے والی حکومت کے کرتا دھرتا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کہ ان کے سر سے اسٹیبلشمنٹ کی چھتری ہٹ جائے گی۔ اس بات کے آثار پیدا ہو رہے ہیں کہ حکومت کے لیے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ والا دن بہت بڑا سرپرائزنگ ہو گا۔ وزیراعظم صاحب کو بھی علم ہے۔ کہ ان کے دو درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی بغاوت کرنے جا رہے ہیں۔ محض اسی خطرے کے پیش نظر حکمران جماعت اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنا چاہتی ہے۔ تاکہ باغی ممبران پر پریشر ڈالا جا سکے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بھی 23 مارچ کو لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی تک ڈی چوک میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

سپیکر جو پورے ہاؤس کا کسٹوڈین ہوتا ہے۔ اور اسے آئینی طور پر پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایوان کو چلانا پڑتا ہے۔ مگر موجودہ سپیکر اسد قیصر کا چیمبر غیر جمہوری سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو بیرونی ایجنڈا قرار دے کر اپنی غیرجانبداری کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ ان حالات میں وہ کوئی غیر قانونی اقدام بھی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اپوزیشن نے سپیکر کو غیر آئینی قدم اٹھانے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

جمہوریت میں کسی بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا پیش ہونا آئین سے ماورا عمل نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی کئی بار وزیراعظم اور سپیکر صاحبان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی رہی۔ مگر کبھی کسی نے اتنی آہ و بکا نہیں کی۔

جہاں تک تحریک اعتماد کا تعلق ہے ملک کے نامی گرامی صحافی کا فرمانا ہے۔ کہ جس کام کا بیڑا آصف علی زرداری اٹھا لیں اسے وہ پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس مشق کا مقصد صرف عمران خان کو اقتدار سے نکالنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ہدف آرمی چیف کا تقرر یا توسیع، اگلے عام انتخابات اور اگلے سیاسی سیٹ اپ کا منظر نامہ تیار کرنا ہے۔

Facebook Comments HS