عمران خان سے غلطی کہاں ہوئی


تحریک عدم اعتماد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی منظر واضح نہیں ہوا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے کامیابی کے دعووں کے بعد اب طاقت کے مظاہرے اور بات دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ تک کرانے کا وعدہ کیا جا رہا ہے تا کہ 23 مارچ کو منعقد ہونے والی پریڈ اور اس کے بعد او آئی سی کانفرنس بخیر و خوبی گزر جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک بڑے جلسے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

جوابی وار میں پوزیشن نے لانگ مارچ اور پھر حکومت سے پہلے ڈی گراؤنڈ میں ہی جلسے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جاسکتا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن تک اس محاذ آرائی میں کوئی کمی آئے گی۔ عمران خان نے لگاتار تین کامیاب جلسے کر کے نفسیاتی دباؤ کم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ تحریک انصاف کے کچھ منتخب اراکین اگر پارٹی چھوڑ کر دوسری طرف جانے کا سوچیں بھی تو کم از کم یہ بات یاد رکھیں کہ کپتان کی عوام میں مقبولیت ابھی کم نہیں ہوئی۔

دوسری طرف اتحادی جماعتیں ابھی تک واضح فیصلہ نہیں کر سکیں کہ آیا وہ تحریک عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ دیں گی یا اپوزیشن کا ۔ دونوں فریقین کی سیاسی کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ تھوڑی سی پسپائی بھی اس کی سیاسی ساکھ کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔ حکومت بظاہر مطمئن اور پر اعتماد ہونے کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن حقیقت میں اس کے پاؤں سے بھی زمین کی کھسکتی معلوم ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان جو کہ اپنی خود پسندانہ فطرت کی وجہ سے اپنی ہی جماعت کے کئی اراکین کو ناراض کر بیٹھے تھے اب روزانہ کی بنیاد پر مختلف اراکین قومی اسمبلی سے مل رہے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ اتحادیوں کی جلی کٹی بھی سن رہے ہیں اور انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے تمام جتن کر رہے ہیں۔

2018 کے انتخابات میں سادہ اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے تحریک انصاف نے با امر مجبوری مخلوط حکومت بنائی۔ مخلوط حکومت بنانا اور پھر تمام لوگوں کو خوش رکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن کئی معاملات ایسے ہیں جہاں وزیراعظم نے بظاہر دانائی سے کام نہیں لیا اور آج ان کے وہی کام ان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں وزیر اعلی کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری عمران خان کی ایسی غلطی ہے جس کی وہ چاہے جتنی بھی صفائی دیں بات بنے گی نہیں۔

پنجاب بارہ کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے جو کہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بہت بڑا ہے۔ یہاں انتظامی سوجھ بوجھ رکھنے والی انتہائی متحرک شخصیت کی ضرورت تھی۔ کوئی ایسا شخص جو نہ صرف پنجاب کو خوش اسلوبی سے چلاتا اور عوامی سطح پر اپنا اثر قائم کرتا بلکہ آئندہ انتخابات کے لئے بھی تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے اثاثہ ثابت ہوتا۔ نہ صرف تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی میں مقبول ہوتا بلکہ عوامی سطح پر بھی عمران خان کا دست و بازو بنتا۔

جبکہ موجودہ حالت یہ ہے کہ سوائے عمران خان کے تحریک انصاف کے اندر اور عوامی حلقوں میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو عثمان بزدار کا دفاع کر سکے۔ موجودہ دن تک عثمان بزدار عمران خان کے لئے صرف بوجھ ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ماضی قریب کی شاید ہی کوئی سیاسی حکومت ہو جو کہ اتنے ضمنی انتخابات ہاری ہو جتنے کہ تحریک انصاف۔ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان تحریک انصاف کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط نہ بنا سکے۔ ہر ضمنی انتخاب کے وقت حلقہ بھر میں تحریک انصاف کے کئی گروپ سامنے آ جاتے۔

ہر گروہ اپنے لیے ٹکٹ کا مطالبہ کرتا۔ ظاہر ہے ٹکٹ کسی ایک کو ملتا۔ ایک دوسرے کی ضد میں تحریک انصاف کے ہی مختلف دھڑے اور شخصیات ایک دوسرے کے مقابل الیکشن لڑتے اور فائدہ اپوزیشن کو پہنچتا۔ متعدد انتخابات میں تحریک انصاف اپوزیشن کی خالی کردہ نشست حاصل کرنا تو دور اپنی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ اگر ساڑھے تین سال میں ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کو ہی اچھے طریقے سے لڑ کر جیت حاصل کی ہوتی تو آج تحریک انصاف کی پارلیمنٹ کے اندر پوزیشن بہتر ہوتی۔ حکومتوں کے پاس دینے کو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی کمزوریوں کی وجہ سے حکومت اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو اپنے ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہوئی۔

عمران خان کی ذاتی پسند اور ناپسند پر مبنی فیصلوں نے بھی پارٹی کو کمزور کیا۔ مثال کے طور پر فیصل واوڈا عمران خان کے بہت قریب ہوں گے لیکن ان کے حق میں کیے گئے فیصلوں سے عمران خان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر قانون سازی کے موقع پر اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا۔ اس کے جو بھی محرکات تھے، لیکن اہم بات یہ تھی کہ آرمی چیف کو ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہو ورنہ دشمن قوتوں کو پراپیگنڈہ کا موقع ملتا کہ آرمی چیف کو ملک کی بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

لیکن جب اپوزیشن نے اس قانون کے پاس ہونے میں حکومت کا ساتھ دیا تو حکومتی سطح پرا پوزیشن کو طعنے دیے گئے۔ کاشف عباسی صاحب کے پروگرام میں فیصل واوڈا نے فوجی بوٹ کو میز پر رکھ کر اپوزیشن پر فقرے کسے۔ کسی بھی باشعور شخص کے نزدیک یہ حرکت انتہائی گھٹیا تھی۔ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو مطعون کرنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں تاہم اس موقع پر فیصل واوڈا کی حرکت قابل مذمت تھی۔ جسے یقیناً طاقتور حلقوں نے بھی ناپسند کیا۔ دوسری طرف خود

فیصل واوڈا اپنی امریکی شہریت کی متعلق غلط بیان حلفی جمع کروانے کی وجہ سے نا اہلی کے قریب تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان فیصل واوڈا سے متعلق غیر جانبدار رہتے لیکن انہوں نے ممبر قومی اسمبلی سے انہیں سینٹر بنا دیا۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے سندھ کے کئی لوگ ناراض بھی ہوئے۔ فیصل واوڈا کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا۔ یوں تحریک انصاف اپنی ہی ایک اور نشست سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

اب فیصل واوڈا کی سینٹر شپ سے نا اہلی کے بعد سینیٹ کی نشست بھی پیپلز پارٹی لے اڑی۔ عمران خان کی ضد اور ذاتی پسند اور ناپسند کی وجہ سے تحریک انصاف سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دو نشستیں گنوا بیٹھی۔ عمران خان نے اپنے اردگرد بہت سارے غیر منتخب لوگوں کو اکٹھا کر لیا جس کی وجہ سے منتخب اراکین کی ایک بڑی تعداد عمران خان سے دور ہو گئی۔ موجودہ سیاسی بحران سے پہلے وزیر اعظم صاحب کی طرف سے اپنے ناراض اراکین کو منانے کی کوئی خاص کوشش نہ کی گئی۔

بلکہ اندرون خانہ غیر منتخب اور وزیر وزیراعظم کے چند قریبی لوگوں کے بیانات اور اقدامات پارٹی کے اندر دراڑیں ڈالتے گئے۔ آئی ایس آئی چیف کی تقرری کو لٹکا کر مقتدر حلقوں کو ناراض کیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی کے معاملہ میں حکومت بلاوجہ فریق بنی۔ پیکا قوانین کی وجہ سے صحافتی حلقے حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ اس قانون پر حکومت کے اتحادیوں نے بھی حکومتی فیصلے یا قانون کی تائید نہیں کی۔ پٹرول کی قیمت سے لے کر ڈالر کی قیمت کے بڑھنے تک، دھرنے کی سیاست سے لے کر موجودہ نیوٹرل کی تعریف تک، شاید ہی کوئی ایسا معاملہ ہو جس پر وزیراعظم صاحب کے اپنے ہی بیانات ان کے مقابل نہ آن کھڑے ہوں۔ ان حالات میں اپوزیشن سے زیادہ وزیراعظم عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ کیسے موجودہ بحران سے کامیاب ہو کر نکلتے ہیں۔

Facebook Comments HS