صحرا میں بہار۔ ”ویرانے کی دلکش رات“ ۔ (چوتھی قسط) ۔


کھانا کھانے کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔ تھر کے سرحدی علاقے کی اس دور افتادہ چھوٹی سی آبادی میں ہونے والی اس محفل سخن کا ایک اپنا ہی تاثر تھا جو بہت ہی مختلف تھا۔ ذرا سوچیئے خاموش رات ہر سمت ایک پرسکون سناٹا اور اس سناٹے میں ہوا کے دوش پہ پھیلتے ہوئے شعر و سخن کے دل نشین آہنگ۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ بڑے شہروں میں تو رات بھی روشنیوں سے بھرپور ہوتی ہے ایسی کہ شب کی سیاہی اس طرف کا رخ کرنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتی لیکن کم آبادی والے چھوٹے شہروں میں ایسا نہیں ہوتا وہاں آفتاب غروب ہونے کے ساتھ ہی رات اپنا آنچل پھیلائے ہر سمت تاریکی بکھیرنے چلی آتی ہے چناں چہ رات ساڑھے دس بجے ہی ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے نصف سے زیادہ شب گزر چکی ہے۔

جس وسیع و عریض چبوترے پہ یہ محفل جمی تھی اس کے قریب پیپل اور برگد کے درخت تھے۔ تھر کئی معاملوں میں خاصا بدقسمت ہے۔ یہاں زندگی بہت مشکل ہے کیوں کہ یہاں اب تک بنیادی سہولیات ہی پوری طرح نہیں ہیں۔ جیسے کہ بجلی کا گھنٹوں نہ ہونا۔ یقین نہیں آتا کہ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسا ہے۔ کسی بھی حکومت نے اس علاقے کی ترقی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا کہ یہاں کے باشندے بھی آسان زندگی گزار سکتے۔

محفل غزل اور مشاعرے کا جہاں اہتمام تھا وہاں تیز روشنی والے طاقت ور بلبوں کا انتظام تھا جن کی روشنی نے پورے چبوترے کو بقعہ نور بنا دیا تھا۔ یہ روشنیاں کچھ فاصلے تک ہی تھیں اور تاریکیء شب کو دھندلا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بہت فاصلے سے اس منظر کو دیکھا جاتا تو یہ محسوس ہوتا کہ تاریکی کے سمندر میں روشنی کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اور روشنیوں کے اس جزیرے میں کچھ باصلاحیت فن کار لحن و سخن سے پر سکوت شب کی سحر انگیزی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

کراچی کے جو شعراء اس مشاعرے کا حصہ تھے ان میں علی کوثر، آئرین فرحت، ہدایت سائر، ڈاکٹر لبنیٰ عکس، سلمان ثروت، یاسمین یاس اور نعیم ثمیر تھے جب کہ صدر مشاعرہ مشہور شاعرہ پروین حیدر تھیں۔ مقامی شاعروں میں رمیش کمار کارونجھری تھے جو ایک این جی او سے وابستہ ہیں اور ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ انھوں نے بھی اپنا کلام سنایا۔

مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا۔ ساز و لحن اور شعر و سٰخن کی اس محفل نے تھر کے اس دور افتادہ ویرانے کو گل زار بنا دیا۔ مشاعرہ ختم ہونے کے بعد بھی شعراء اتنے تازہ دم تھے کہ سونے کے بجائے گپ شپ کرنے میں مشغول ہو گئے۔ شاعر حضرات کی شاعری چاہے کتنی ہی غمگین اور افسردہ کردینے والی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بہت ہنسنے ہنسانے والے، پرمزاح فطرت کے مالک زندہ دل لوگ ہوتے ہیں۔ ان شعراء نے ایک اور دل چسپ محفل سجا لی۔

ہنسی مذاق، گپ شپ، لطیفے اور کہانیاں سننے سنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا جو رات کے آخری پہر تک چلا۔ پھر سب لوگ سونے کے لیے لیٹ گئے کہ علی الصبح واپسی کا سفر بھی تھا۔ صبح صبح سورج نکلنے سے بھی پہلے مندر کے احاطے میں کچھ عجیب سی آوازوں نے پر سکوت ماحول کی خاموشی کو توڑ دیا۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ بیدار ہوچکے تھے۔ خواتین تو سبھی جاگ چکی تھیں۔ ہم لوگوں نے باہر جاکر دیکھا تو مندر کا احاطہ موروں سے بھرا ہوا تھا۔

تھر آنے کی دعوت دیتے ہوئے ہمارے میزبان نے اس علاقے کی جو خصوصیات ہمیں بتائی تھیں ان میں سے ایک تو یہ ہی تھی کہ یہاں اتنے مور نظر آئیں گے کہ آپ گن نہیں پائیں گے۔ واقعی وہاں بے شمار مور تھے نہ صرف مندر کے صحن کی کچی زمین پر بلکہ احاطے میں لگے ہوئے پیپل اور برگد کے گھنے درختوں پر بھی بہت سے مور تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ مور درختوں کا ہی حصہ ہیں۔ تھر کے ان موروں کی خاص بات یہ کہ رنگین نہیں تھے بلکہ تھر کے روایتی مور تھے جنھیں کالے مور کہا جاتا ہے۔

صحن اور درخت ان موروں سے بھر چکے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ان کی تصویریں اور ویڈیوز بنا رہے تھے تاکہ یہ منظر یادداشت کے ساتھ ساتھ کیمروں میں بھی محفوظ ہو جائے۔ ایک آدھ کے سوا ہم سبھی بیدار تھے۔ خواتین تو سب سے پہلے ہی منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہو چکی تھیں۔ پھر ہم سب نے مندر کے احاطے میں گھوم پھر کے جائزہ لیا۔ راما پیر کے اس مندر کے احاطے میں ایک دو اور بھی چھوٹے چھوٹے مندر تھے۔ میزبان نے ناشتے کرنے کو کہا لیکن ہم لوگوں نے معذرت کرلی۔

ایک دن پہلے ہم لوگ ساڑھے سات بجے کراچی سے تھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے اور اس دن ٹھیک ساڑھے سات بجے ہم لوگ گاڑی میں سوار ہوکے تھر کو الوداع کہتے ہوئے عازم کراچی ہوئے۔ گاڑی کچے راستے پر ڈگمگاتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ راستے کے دونوں اطراف کہیں کہیں کھیت تھے ورنہ زیادہ تر تو ویرانہ ہی تھا۔ صبح صبح ان کچے راستوں پہ مقامی خواتین اپنے سروں اور کمر پر مٹکے اٹھائے ہوئے پانی بھرنے جا رہی تھیں۔ تھر کے روایتی لباس اور زیورات میں یہ خواتین بہت الگ نظر آ رہی تھیں۔ وہ ہماری گاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے ہم لوگوں کو دل چسپی سے دیکھتیں۔ اسی حیرت آمیز اشتیاق سے ہم سب بھی انھیں دیکھتے۔ ان خواتین کو دیکھ کر مجھے تو بس ایک ہی خیال آ رہا تھا کہ ان کی زندگی کس قدر دشوار گزار ہے لیکن یہ کتنی باہمت ہیں کہ اس حال میں بھی مگن ہیں۔

صبح کا وقت ویسے بھی بہت دلکش اور سکون آمیز ہوتا ہے اور پھر اگر صبح تھر جیسے پرسکون علاقے کی ہو تو اس کا تاثر مزید پرسکون محسوس ہوتا ہے۔ ہم لوگ صبح کی نرم دھوپ میں اپنے واپسی کے سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی، سناٹا تھا اور بس ہم ہی لوگ تھے جو ان سب انوکھے مناظر کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہماری گاڑی کچے راستے پہ ڈگمگاتے ہوئے آہستگی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں جس سیٹ پہ بیٹھی ہوئی تھی وہ مشرقی سمت میں تھی چناں چہ میں سورج کو دھیرے دھیرے زینۂ فلک طے کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

گہرا نیلا آسمان رفتہ رفتہ اپنا رنگ تبدیل کرتا جا رہا تھا۔ آسمان کے مشرقی کنارے سے سورج کی زریں کرنیں ہر شے پہ سنہری افشاں چھڑک رہی تھیں۔ آسمان کی نیلاہٹ پہ سنہرا پن غالب آ رہا تھا۔ مشرقی سمت کھیت یا بے ترتیب چھدرا سا جنگل تھا۔ جب کہ مغربی سمت بھی کھیت تھے لیکن ان میں فصل کٹ چکی تھی۔ کھیتوں سے پرے دور کہیں کچھ پہاڑیاں نظر آئیں۔ مجھے تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مسکرا کے ہمیں دیکھ رہی ہوں اور پوچھ رہی ہوں تھر کا سفر کیسا لگا، دوبارہ کب آو ٴگے تم لوگ؟

میں دل میں سوچا جیسے ابھی آ گئے تھے بغیر کسی منصوبہ بندی کے بالکل اچانک۔ ویسے ہی شاید دوبارہ بھی کبھی آنا ہو ہی جائے۔ بہت دیر تک یہ مناظر دامن گیر رہے۔ بزبان خامشی کہتے رہے ”نہ جاوٴ چھوڑ کے ابھی تم نے دیکھا ہی کیا یہاں۔ یہاں کے ویرانوں پہ چٹکی ہوئی جاڑوں کی چاندنی کا تم نے لطف ہی کہاں اٹھایا، یہاں کی پرسکون شاموں کو چلنے والی ہوا کی سرگوشیوں کو سننا تھا، بھری دوپہر میں زمین سے اٹھتی ہوئی گرم ہوا کے لمس کو محسوس کرنا تھا۔ لیکن ہمیں واپس آنا تھا سو ہم سفر کرتے رہے۔

Facebook Comments HS