دلال، منشی، چوکیدار
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک علاقے میں سیٹھ نے آ کر اپنا کاروبار شروع کیا وہ کسانوں سے اجناس لیتا اور اس کو باہر منڈیوں میں فروخت کرتا تھا۔ اپنے کام کو چلانے کے لیے اس کے پاس منشی تھا جو وہ اپنے ساتھ لے کے آیا تھا۔ منشی اپنے کام کا ماہر تھا اور تمام کاروبار کے بارے میں جانتا تھا۔ اور اس کا حساب کتاب رکھتا تھا۔ سیٹھ کو شروع میں مقامی لوگوں کی طرف سے بڑی مشکلات کا سامنا ہوا۔ اور وہ اس کو اپنا مال فروخت نہیں کرتے تھے۔
دوسرا ان کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہے۔ سیٹھ نے مقامی لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کچھ مقامی با اثر لوگوں کو اپنا حصہ دار بنا لیا اور وہ دلال کسانوں سے اجناس لے کر آتے اور سیٹھ کو فروخت کر دیتے۔ سیٹھ ایک امیر آدمی تھا۔ کچھ لوگ اس کے دشمن بھی بن گئے تھے۔ ان کو محسوس ہوتا تھا کہ سیٹھ مقامی لوگوں کا استعمال کر رہا تھا۔ اپنی حفاظت کے لیے سیٹھ نے چند چوکیدار بھرتی کر لیے تاکہ مقامی لوگ اسے نقصان نہ پہنچا سکیں اور وہ چوبیس گھنٹے اس کی حفاظت پر مامور رہتے تھے اور اس کی حفاظت کرتے تھے۔
سیٹھ کا کاروبار دن دگنی ترقی کر رہا تھا اس نے منشی کی امداد کے لیے چار مزید منشی رکھ لیے جو بڑے منشی کی کام میں مدد کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ وہ تمام کام سیکھ گئے اور کام میں ماہر ہو گئے بڑا منشی اب بیمار رہنے لگا تھا۔ اس نے سیٹھ صاحب سے رخصت مانگی اور واپس اپنے علاقے چل دیا۔ وہ آخری وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔
سیٹھ کی دھوم پورے علاقے میں تھی، وہ اپنی بات کا پکا تھا۔ غریب کسانوں کی مدد کرنا اور رفاہی کام کرنے کا اسے بہت شوق تھا۔ وہ اکثر ان کاموں میں بھرپور شرکت کرتا اور لوگوں کی ہر ممکن مدد کرتا تھا۔ دلال بھی خوش تھے کہ ان کو اچھا منافع مل رہا تھا۔ چوکیداروں کو اچھی تنخواہ اور سہولت موجود تھی لیکن ان کو دکان میں اندر آنے اور دوسرے معاملات سے دور رکھا گیا تھا۔ تاکہ وہ اپنا دھیان صرف چوکیداری پر کر سکیں۔
ایک دن اچانک سیٹھ کو دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ اس کی وفات کے بعد ایسا غدر مچا۔ سب اس کی دکان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن دلالوں کا یہ خیال تھا کہ وہ اس کے وارث ہیں کیونکہ وہ اس کے کاروبار میں شریک مالک تھے۔ دلالوں نے دکان پر قبضہ کر لیا۔ مگر سب زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہتے تھے۔ دوسرے لوگ بھی دکان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ دلالوں نے فیصلہ کیا کہ ان کو چوکیداروں کی تعداد بڑھا دینی چاہیے تاکہ وہ دکان کو دوسروں سے بچا سکیں۔
دلال کے قبضہ کے بعد دکان کا کام بری طرح اثر انداز ہوا مگر منشی سمجھدار تھے اور ان کا کام بڑھ گیا۔ کیونکہ وہ کاروبار کو سمجھتے تھے کہ کیسے چلانا ہے دلالوں کا کام صرف کرسی پر بیٹھنا تھا اور دلالی کرنا تھا جو پہلے کر رہے تھے لیکن منشی کاروبار چلا رہے تھے وہ کام کو سمجھتے تھے اور اس کام کو کافی عرصے سے چلا رہے تھے۔
ایک دن بڑے منشی نے کہا کہ کام تو ہم سارا کرتے ہیں لیکن دلال پیسے لے جاتے ہیں ان کو نکالو۔ منشی اور چوکیداروں کا گٹھ جوڑ بنا کر دلالوں کو دکان سے باہر نکال دیا اور چوکیدار اور منشی دکان کے مالک بن بیٹھے۔ شروع میں کاروبار بہت چلا مگر دلالوں کو ساتھ ملاتے ہیں تاکہ گاہک کی تعداد بڑھ سکے اور مقامی کسان ان کا ساتھ دیں۔ اب چوکیدار، منشی اور دلال تمام ہی دکان کے مالک بن بیٹھے تھے۔ لوگ سیٹھ کو یاد کرتے کہ وہ ہم میں سے نہیں تھا مگر کتنا اچھا اور کتنے رفاہی کام کرتا تھا کاش اتنے جلدی وفات نہ پاتا تو آج دکان اور گاہک کی حالت بہت بہتر ہوتے۔ اب کیا ہے؟ یہ دلال، منشی اور چوکیدار، دکان کی ملکیت کے لیے لڑ رہے تھے۔ اور ہر بندہ چاہتا ہے کہ اس کا حصہ بڑھ جائے، اس کو کسی غریب کسان کی پرواہ نہیں ہے۔


