یہ بعد از مرگ کے قصیدے
بجا ہو گا کہ اسے بھی قومی المیہ کہا جائے کہ ہم کسی کی تعریف اس کے جیتے جی اس کی زندگی میں نہیں کیا کرتے بلکہ ہمارے یہاں تو تعریف سننے کے لئے آخر مر ہی جانا پڑتا ہے۔ تب جا کے کسی کی شان میں دو میٹھے بول بولے جاتے ہیں۔ ایک دو دن خوب مدح سرائی ہوتی ہے۔ پھر کام ختم۔ یہاں کبھی یہ نہیں ہوا کہ کوئی اپنی زندگی ہی میں اپنی تعریف کے دو میٹھے بول سنے اور دل ہی دل میں خوش ہو جائے کہ آخرکار کسی نے اس کی تعریف تو کی۔
کسی نے تو اس کی کاوشوں کو تحسین پیش کیا۔ اور کسی نے تو دل کھول کر اس کی مدح سرائی کی۔ مگر افسوس صد افسوس، کہ زندگی میں ہم کھلے دل سے اور باآواز بلند کسی کی تعریف نہیں کیا کرتے بلکہ اس کے ہزار اچھائیوں کو پس پشت رکھ کر اس کی ایک غلطی پر اسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں۔ اور باتوں کا بتنگڑ بنا کر معاشرے کی نظروں میں اسے قصوروار ٹھہرانے میں دیر نہیں کرتے۔
انسان کو چونکہ قدرت نے سرتاپا محبت اور سرچشمہ محبت بنایا ہے۔ مگر گھریلو تربیت اور اردگرد کے معاشرتی مختلف النوع حالات و واقعات اسے اپنے رنگ میں ڈھال لیتے ہیں۔ اور پھر اسی تربیت کے نتیجے میں ہمارے عادات و اطوار و چال چلن ترتیب پاتے ہیں۔ پھر جس برے یا اچھے تربیت کے عناصر ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ہماری زندگی اسی سانچے میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ”صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالح ترا طالح کند“ کے مصداق معاشرے کے انہی رویوں اور صحبت کی بنا پر ہمارے خیالات پروان چڑھتے ہیں۔
ذرا سوچئیے، ہمارے اردگرد ایسے ہی سینکڑوں ہزاروں ہیرے موجود تھے جو کہ معاشرے کے لئے بہت کچھ کر گزرنے کے باوجود تعریف کے دو میٹھے بول کے لئے ترسے ہم سے رخصت ہو گئے اور شہر خموشاں جا بسے۔ مگر مجال ہے کہ تعریف کے دو بول سنتے جاتے۔ گاون سے شہر اور پھر پورے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہیروں کی قدر زندگی میں کبھی نہیں کی۔ اس کی سب سے بڑی مثال چند مہینے پہلے فوت ہونے والے ہمارے ایٹمی پروگرام کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر ہے جس کے ساتھ اس کی زندگی میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ عرصہ دراز سے گمنامی کی زندگی گزارنے والے ہمارے اس ہیرو کی جب کوچ کر جانے کی خبر آن پہنچی تو تعریف کے ختم نہ ہونے والے کلمات شروع ہو گئے۔ سلامی دی گئی اور سرکاری پروٹوکول میں تدفین کی گئی اور ہر کسی کے زبان پر اس عظیم سائنسدان کا نام تھا۔ مگر مرنے کے بعد ۔
مرنے سے پہلے دوران علالت سرکار کو خبر تک نہ ہوئی اور سلامی کے آرڈر دینے والے بھی پاس آنے سے کتراتے رہے۔ اسی طرح کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جو ہماری اجتماعی بے حسی کے ثبوت ہیں۔ ہمارے اردگرد آج بھی ایسے ہزاروں ہیرے انہی دو بول تعریف کے لئے ترسے موجود ہیں مگر ہم اب بھی صرف ان کے مرنے کے انتظار میں ہیں۔ اور جونہی ان کے یہاں سے کوچ کرنے کی خبر سنتے ہیں تو ان کی واہ واہ اور مدح سرائی شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی میں جن کی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ نکال کر جنہیں رسوائے زمانہ کرنے کے درپے تھے آج گزر جانے کے بعد ان کی خوبیوں کا پرچار واہ۔
خدارا اپنے اردگرد موجود ان ہیروں کو ان کی زندگیوں میں ہی وہ مقام دیں جن کے وہ مستحق ہیں اور ان کی کاوشوں اور گرانقدر خدمات کے عوض اگر کچھ دے نہیں سکتے تو ان کی مدح سرائی میں ایک دو میٹھے بول بول کر ان کی قدر افزائی کریں۔ کیونکہ مرنے کے بعد ہزار بار تعریف کریں، خوبیاں گنوائیں یا تعزیتی کانفرنسیں منعقد کریں، ان کے مزاروں پر چادر چڑھائیں یا پھول رکھ دیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا اور نہ ہی مدفون کو اس امر سے کچھ فائدہ یا خوشی میسر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ قدر کرنی ہو، مدح سرائی کرنا ہو پھولوں کا گلدستہ پیش کرنا ہو تو ان کے جیتے جی کی جائے تو ہزارہا درجہ بہتر ہے۔ بعد از مرگ یہ برائے نام عقیدت و مدح سرائی کا کچھ فائدہ نہیں۔

