مفتالوجی۔
پرانی کہاوت ہے کہ مال مفت دل بے رحم۔ اب کون اتنے مفت کے آسائش و آرام چھوڑ کر ووٹ مانگتے دربدر ٹھوکریں کھاتا پھرے، مفت کی شاہی خرچیاں، مفت کے بیرونی دورے، مفت کے حج و عمرے، مفت کے شاہی پروٹوکول، مفت کے ڈیزل و پٹرول، مفت کے ٹکٹ۔ یہ سب کچھ چھوڑے کا من کس کا ہو۔ کون سادہ لوح یہ چاہے گا کہ اتنے آرام و سکون کو خیرباد کہہ کر تپتی دھوپ میں التجائیں کرتا پھرے۔
Read more
