مفتالوجی۔

پرانی کہاوت ہے کہ مال مفت دل بے رحم۔ اب کون اتنے مفت کے آسائش و آرام چھوڑ کر ووٹ مانگتے دربدر ٹھوکریں کھاتا پھرے، مفت کی شاہی خرچیاں، مفت کے بیرونی دورے، مفت کے حج و عمرے، مفت کے شاہی پروٹوکول، مفت کے ڈیزل و پٹرول، مفت کے ٹکٹ۔ یہ سب کچھ چھوڑے کا من کس کا ہو۔ کون سادہ لوح یہ چاہے گا کہ اتنے آرام و سکون کو خیرباد کہہ کر تپتی دھوپ میں التجائیں کرتا پھرے۔

Read more

ڈوبتی معیشت اور سرکار کی شاہ خرچیاں

معروف معاشیات دان جناب اشفاق حسن سے ایک ٹی وی شو کے دوران اینکر نے جب پاکستانی معیشت کی حالت زار بارے پوچھا تو انہوں نے ایک زبردست مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ فرض کریں ایک مریض ہے اسے پہلی بار ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کا بڑی احتیاط اور باریک بینی سے دیکھنے کے بعد ضروری دوائیں تجویز کرتا ہے مگر مریض کے خاندان والے ڈاکٹر کے تجویز کردہ ادویات دینے کے بجائے کہتے

Read more

یہ بعد از مرگ کے قصیدے

بجا ہو گا کہ اسے بھی قومی المیہ کہا جائے کہ ہم کسی کی تعریف اس کے جیتے جی اس کی زندگی میں نہیں کیا کرتے بلکہ ہمارے یہاں تو تعریف سننے کے لئے آخر مر ہی جانا پڑتا ہے۔ تب جا کے کسی کی شان میں دو میٹھے بول بولے جاتے ہیں۔ ایک دو دن خوب مدح سرائی ہوتی ہے۔ پھر کام ختم۔ یہاں کبھی یہ نہیں ہوا کہ کوئی اپنی زندگی ہی میں اپنی تعریف کے دو میٹھے

Read more

تبدیلی کے تین سال

بائیس سال کی جہدوجہد، جلسے جلوسوں، بلند بانگ تقاریر اور دعووں کے بعد بلا آخر خان صاحب سادہ اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت کر وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہوچکے تھے۔ اسمبلی سے اپنی پہلی تقریر میں حکومت کے نوے دن کے پلان کا اعلان کرتے ہوئے پوری کابینہ کو اس مشن کی کامیابی کا ٹاسک دے دیا تھا اور خود بھی کام پر لگ گئے تھے۔ معاملات آگے بڑھ رہے تھے اور یہ نوے دن نہیں بلکہ پورے تین

Read more