یاترا ” ٹلہ جوگیاں“

اس سے پہلے کہ ٹلہ جوگیاں کی یادیں کہیں لاشعور میں چلی جائیں اور پھر غور کرنے پر ہی یاد آئیں سوچا کچھ نا کچھ اس سیاحت پر لکھ لینا چاہیے۔ ان یادوں کو محفوظ کرلینا چاہیے۔ اندازہ نہیں تھا کے ٹلہ کی یاترا زندگی کی حسین اور مشکل ترین یاترا ثابت ہوگی۔ مشکل اس معنوں میں کہ ایک عرصہ سے ہائکنگ جیسی مفید سرگرمی سے دور ہوں لہذا اس کے بعد اگلے چند دن تک تھکاوٹ سے جسم میں ٹیسیں اٹھتی رہیں۔
اس یاترا کی پلاننگ کچھ عرصہ پہلے سے چل رہی تھی کہ عزیز دوست سلمان خالد جو امریکہ شریف میں مقیم ہیں جب پاکستان تشریف لائیں گے تو سب دوستوں نے ان سے ملنے جانا ہے۔ سلمان کا تعلق دینہ سے ہونے کی وجہ سے ان کے ملنے والوں کو ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قلعہ روہتاس کی سیاحت کر لیتے ہیں۔ ہمارا ارادہ ویسے قلعہ روہتاس دیکھنے کے بعد اس سے آگے ٹلہ جوگیاں تک جانے کا تھا۔ دوسرا استفادہ جو حاصل کیا جا سکتا ہے ان کے گھر بڑی ہی خوبصورت ذاتی لائبریری ہے جس سے مختلف نوع کی کتابیں آپ فی سبیل اللہ پڑھنے کے لئے لے جا سکتے ہیں۔ خود تو وہ ملنسار ہیں ہی ان کی فیملی بھی بہت مہمان نواز ہے۔
پلان اتوار کو صبح اسلام آباد سے نکلنے کا تھا۔ مگر برادر حسن جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے پرانی عمارتوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کا ناسٹلجیا بڑا ہی سٹرونگ ہے۔ بڑی ہی شستہ اور تیز اردو بولتے ہیں۔ لہجے میں اعتماد اور جاذبیت جھلکتی ہے۔ سنیچر کی رات کو فون کیا کہ جلدی سے ریڈی ہو جاؤ دینہ کے لئے نکلنا ہے۔ میں نے کہا مگر پلان تو کل صبح جانے کا ہے کہنے لگا بس آپ ریڈی ہوں میں ایک گھنٹہ میں آپ کی طرف پہنچ رہا ہوں۔ میں نے بہتیرے حیلے بہانے کیے مگر حسن جیسے رات کو جانے کا پکا ارادہ کر چکا تھا۔ خیر جلدی سے تیاری پکڑی اور انتظار کرنے لگا۔ گھڑی دیکھی تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ وہ کچھ ہی دیر میں مجھے پک کرنے پہنچ گیا۔
گھر سے نکلے تو پہلا پڑاؤ جی ٹی روڈ پر گجر خان سے تھوڑا آگے ایک ریسٹورنٹ پے کیا۔ ارادہ تھا کچھ کھا لیا جائے ایک ایک کپ چائے پی جائے اور پھر آگے سفر کیا جائے۔ کابلی پلاؤ اور چائے آرڈر کی مگر پلاؤ کے پہلے ہی نوالے میں محسوس ہوا کہ ذائقہ کچھ عجیب کھٹا سا ہے۔ میں نے حسن کو جو دو نوالے نوش کر چکا تھا کہا یار میرا خیال پلاؤ خراب ہے۔ اس نے سونگھ کر دیکھا تو بولا ہاں یار واقعی خراب ہے۔ ویٹر کو بلایا جو بولا میں چیک کرتا ہوں۔
وہ بعد میں مان بھی گیا کہ پلاؤ خراب ہے مگر اس کا مالک ماننے سے کتراتا رہا کہ نہیں اس میں دنبے کا گوشت ہے اس لئے کھٹا لگ رہا ہے۔ وہ سمجھ رہا تھا ان لوگوں نے کبھی دنبے کا گوشت نہیں کھایا سو انھیں چونا لگا دیتا ہوں۔ اور باسی پلاؤ کھلا دیتا ہوں۔ ہم نے پلاؤ فوراً واپس کیا اور چائے بھی مشکوک خیالات کے ساتھ پینے لگے کہ کہیں اس میں گدھی کا دودھ نا ہو۔ اس ریسٹورنٹ سے ایسا دل اٹھا کہ دوبارہ کسی اور جگہ رکے بغیر سیدھا دینہ پہنچ کے بریک ماری۔ گھڑی دیکھی تو وقت ڈھائی ہوا چاہتا تھا۔
سلمان کا کزن احتشام ہمیں رسیو کرنے پہنچا۔ بولا باقی ٹیم آپ لوگوں کا انتظار کرتے سو گئی۔ احتشام بڑا ہی خوش اخلاق اور کم گو نوجوان ہے۔ پوٹھوہار اور پنجاب کے ملے جلے لہجے میں پنجابی بولتا ہے تو بڑا بھلا لگتا ہے۔ اس کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ ہماری نیم فلاسفر ٹولی میں بڑے مزے سے ایڈجسٹ کر گیا۔
مین جی ٹی روڈ پے راولپنڈی کی طرف آتے اگر الٹے ہاتھ قلعہ روہتاس روڈ پے مڑیں تو کچھ ہی دوری پر گاؤں موھال ہے۔ جس میں سب سے الگ اور خوبصورت گھر بردار سلمان کا ہے۔ ہم گھر میں چوروں کی طرح بغیر کوئی کھٹکا کیے داخل ہوئے۔ اور سیدھا بیٹھک میں پہنچے جہاں چارپائیوں پر لگے بستر ہمارے منتظر تھے۔ صبح جلدی نکلنے کا ارادہ تھا اس لئے پڑتے ہی سو گئے۔
صبح حسب توقع سب دیر سے اٹھے۔ ناشتہ دینہ شہر میں کیا۔ اور چھ لوگوں پر مشتمل یہ قافلہ اپنی پہلی منزل قلعہ روہتاس کی طرف نکل پڑا۔ اس قافلے میں شامل حضرات میں سلمان جو ہمارے میزبان ہونے کے ساتھ ہمارے گائیڈ بھی تھے۔ اس پوری یاترا میں سب نے انہی کی فراہم کردہ معلومات سے اپنی پیاس بجھائی۔ علی جو ملتان سے تشریف لائے بڑے ہی زندہ دل شخص موسیقی کے شوقین۔ جناب سعد جن کا تعلق سکھوال سے ہے۔ کتابیں بہت پڑھتے ہیں اور فلمیں شوق سے دیکھتے ہیں۔ یاروں کے یار ہیں اور بڑے ہی دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حسن، احتشام اور یہ بندہ نا چیز۔
قلعہ روہتاس پہنچنے سے پہلے تھوڑی دیر نالہ کس پر رکے۔ نالہ کس پر بنا پل ایک پہاڑی درے کو دوسرے درے سے ملاتا ہے۔ اس پل سے آس پاس کی وادی کا نظارہ دلفریب ہے۔ میرا خیال ہے جب یہ پل نہیں تھا تب قلعہ تک پہنچنے والوں کو انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔ اب تو مقامی لوگوں اور سیاحوں کو بہت سہولت ہے۔
آگے بڑھے تو دیو ہیکل قلعہ دور سے ہی نظر آنے لگا۔ کچھ ہی دیر ہم قلعہ کے دروازہ خواص خوانی کے باہر کھڑے تھے۔ قلعے کے بارے میں جو چیدہ چیدہ معلومات پڑھ پایا اس کے مطابق قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری نے پندرہویں صدی عیسوی میں تقریباً پانچ سال کے عرصہ میں تعمیر کروایا۔ شیر شاہ کے بعد آنے والے حکمرانوں نے بھی اس قلعے کے اندر مختلف عمارات تعمیر کروائیں۔ اس وقت قلعے کے سامنے سے شیرشاہ کی بنائی جرنیلی سڑک بھی گزرتی جو رفتہ رفتہ دور ہٹتی گئی۔
روایت ہے کہ قلعے کی تعمیر میں مزدوروں، مستریوں کے علاوہ اس دور کے بزرگان دین نے بھی اپنی روحانی قوتوں کا استعمال کیا۔ اسی لئے قلعہ کے ہر دروازے کے ساتھ کسی نا کسی بزرگ کا مقبرہ موجود ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قلعے کی تعمیر سے پہلے یہاں بہت بڑا جنگل تھا پھر ایک فقیر نے شیرشاہ سوری کو یہاں قلعہ تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اپنی عظیم الجثہ قد و قامت کے باعث پوری دنیا میں مشہور یہ قلعہ اس دور کی فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چھوٹی اینٹوں کی بجائے بڑے پہاڑی پتھروں کو کاٹ کر بنائی گئی یہ انتہائی اونچی اور چوڑی دیواریں حیران کن ہیں۔ بارہ دروازوں اور عظیم الشان فصیلوں پر مشتمل یہ قلعہ اپنے آپ میں ایک عجوبہ ہے۔
ہماری اصل منزل تو خیر ٹلہ تھی لہذا قلعہ پے ایک سرسری نظر ماری اور آگے نکلنے کی تیاری پکڑی۔ بقول ہمارے گائیڈ قلعہ روہتاس دیکھنے کے لئے ایک پورا دن بھی ناکافی ہے۔
زمانہ قدیم میں ٹلے تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہوں گے۔ جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ انھی میں سے ایک راستہ قلعہ روہتاس سے بھی نکلتا ہے۔ قلعہ کے سہیل دروازہ سے نکلے تو ایک انتہائی تنگ اور خستہ حال سڑک جو ٹلہ جوگیاں کی طرف جاتی ہے۔ ویسے اسے سڑک نا ہی کہا جائے تو ٹھیک ہے۔ ہماری ٹیم اسی راستے پے روانہ ہوئی۔ یہی پر پیچ راستہ مختلف پہاڑی دیہاتوں سے ہوتا ایک سیدھی سڑک سے جا ملتا ہے۔ ہم اس سڑک پے سفر کرتے مختلف دیہاتوں کو پیچھے چھوڑتے گاؤں بھینٹ پہنچ گئے۔ راستے سے جو کھانے پینے کا سامان لے رکھا تھا وہ اٹھایا اور اپنے اگلے پڑاؤ کی طرف چل پڑے۔ گاؤں بھینٹ سے شروع ہونے والا یہ ٹریک انتہائی دشوار گزار ہے۔ جو پہاڑی پتھروں کو توڑ کر بنایا گیا ہے۔ ٹریک کیا ہے ایک نا ختم ہونے والی چڑھائی ہے۔ اسی ٹریک پے ایک کوئلے کی کان بھی موجود ہے۔
ٹلہ جوگیاں کب اور کیسے وجود میں آیا اس بارے میں کچھ ٹھوس حقائق تو نہیں مل پاتے پر کہا جاتا ہے کہ راجہ پورن سنگھ کی داستان میں پہلی بار اس ٹلے کا ذکر ملتا ہے۔ جس کے کٹے ہوئے جسم کو گرو گورکھ ناتھ نے اپنی کرامات سے ٹھیک کیا۔ اس کے علاوہ جن مشہور شخصیات کا ذکر ملتا ہے جو یہاں ٹلہ جوگیاں کی یاترا پر آئے۔ ان میں قابل ذکر بابا گورونانک، مغل بادشاہ جہانگیر اور یونانی جنگجو سکندر اعظم ہے۔ لیکن ایک اور کہانی اس ٹلہ سے وابستہ جس سے بندھ کر بہت سے سیاح یہاں چلے آتے ہیں۔ وہ کہانی ہے ہیر رانجھا کی جسے پنجابی شاعر وارث شاہ نے لکھا۔ کہتے ہیں رانجھا بھی یہیں ٹلہ پر گورو گورکھ ناتھ کے چیلے جوگی بالناتھ سے اپنے کان چھدوا کر جوگی بنا تھا۔
مقامی لوگوں میں بھی ٹلہ کے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ کا ذکر ہم نے بھی سنا۔ کہتے ہیں ٹلہ میں جنات کا بسیرا ہے اگر آپ رات کے وقت اپنے ساتھ ایک کلو گوشت لے کر یا کپڑوں پر خوشبو چھڑک کر جائیں تو یہ جنات آپ کو پکڑ لیں اور آپ پر سوار ہو جائیں گے۔ دوسری کہانی کے مطابق ٹلہ جانے والے جوگیوں کو راستے میں ایک عورت اپنا سینہ دکھا کر ورغلایا کرتی تھی۔ مگر جوگی اس سے بے نیاز ٹلہ کی طرف بڑھتے جاتے تھے۔ پھر ایک جوگی کی بددعا سے وہ وہیں راستے میں پتھر بن گئی۔ کہتے ہیں اس کی مورتی آج بھی انھی راستوں پے کہیں موجود ہے۔ مگر کافی اردگرد نظر رکھنے پر بھی وہ پتھر کی دیوی کہیں نظر نہیں آئی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ ہستی نے یہاں لکڑی کا ایک کلا گاڑا تھا جو بعد میں درخت بن گیا۔ اس بزرگ ہستی نے کہا تھا کہ ”جد تک کلا تد تک ٹلہ“ یعنی جب تک یہ درخت رہے گا تب تک ٹلہ بھی آباد رہے گا۔ وہ درخت آج بھی وہیں موجود ہے جس کا آدھا حصہ سوکھ کر گر چکا ہے۔ اس کہانی کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ ٹلہ بھی اب آدھا کھنڈر بن چکا ہے۔
ہمارا قافلہ دشوار چڑھائی اور پہاڑی پتھروں سے اپنے پاؤں مرمت کرواتے جب ٹلہ پہنچا تو اوپر کا نظارہ مسحور کن تھا۔ سلسلہ کوہ نمک کی بلند ترین چوٹی ہونے کے باعث ٹلہ ایک پرفضا مقام ہے جس کا اندازہ اوپر پہنچ کر ہوتا ہے۔ پہلی چیز جو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ ہے مغلیہ طرز کا بنا ہوا عظیم تالاب۔ کسی زمانے میں اس تالاب میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا جو جوگیوں کی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ تالاب کے اردگرد ہندوؤں اور سکھوں کی سمادھیاں وغیرہ بھی موجود ہیں جو اب کھنڈر بن چکی ہیں۔ ٹلے کے دوسرے حصہ میں پرانی عمارتوں، مندروں کے کھنڈرات ہیں جو کسی زمانے میں یہاں آنے والے جوگیوں کی پناہ گاہ بنے۔ ان یاتریوں میں بابا گرو نانک بھی شامل تھے جن کی وجہ سے آج بھی سکھ یاتری عقیدت سے بندھے یہاں چلے آتے ہیں۔
یہاں آنے سے پہلے دماغ میں جو سوال تھا کہ جوگیوں نے آخر اتنی اونچائی کو ہی ہی کیوں چنا۔ اس کا جواب کسی حد تک یہاں پہنچ کر مل جاتا ہے۔ ٹلے کی فضا میں ایک خاموشی ہے ایک گہرا سکون ہے۔ ایک جادوئی سی فضا ہے۔ یہاں تک کہ پرندوں کے چہچہانے اور ہوا کی سرسراہٹ کو آسانی سے سنا جا سکتا ہے۔
اسی سرسراہٹ میں ٹلہ پر شام اترنے لگی تو ہم نے واپسی کی ٹھان لی۔ ٹلہ کے راستے میں بعض مقامات ایسے آتے ہیں جب آپ اردگرد پھیلے وسیع و عریض رقبہ کو دیکھتے ہیں۔ خاص کر شام کے وقت جب اندھیرا اجالے میں مل رہا ہو یہ بڑا ہی الگ منظر پیش کرتا ہے۔ ٹلہ سے اترتے اردگرد بھی ایسا ہی سما تھا۔ احساس ہوا کہ خدا نے جب یہ دنیا تخلیق کی تو تب بھی کچھ ایسا ہی نظارہ ہو گا۔
”اور خدا نے کہا کہ روشنی اچھی ہے اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا“
ٹلہ جوگیاں جانے والا سیاح کبھی اس کے سحر سے نہیں نکل پاتا چاہے اس کی یادیں لاشعور میں ہی کیوں نا چلی جائیں۔ ٹلہ کی بلند چوٹی پر چلتی ہوا کی سرسراہٹ ہمیشہ اس کے ساتھ چلتی ہے۔ مگر ٹلہ تک پہنچنا ایسا کوئی آسان بھی نہیں۔ ”سیاح تو قلعہ روہتاس جاتے ہیں مگر ٹلہ جوگیاں تک صرف دیوانے ہی پہنچ پاتے ہیں۔“



