عدم اعتماد اور چودھری برادران کا مخمصہ

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی یا ناکام۔ اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر مختلف سیاسی ماہرین اپنے اپنے تجزیے اور پیش گوئیاں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا خیال یہ ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا زیادہ دار و مدار حکومت کی اتحادی جماعتوں بالخصوص ق لیگ پر ہے۔ اگر یہ اپوزیشن کے ساتھ مل گئیں تو پھر عدم اعتماد کا کامیاب ہونا یقینی ہے بصورت دیگر اپوزیشن کو حکومتی جماعت کے منحرف ارکان سے مک مکا کرنا ہو گا جو ان کے مطابق بعض حوالوں سے قدرے پیچیدگیوں یا مشکلات کا باعث بھی ہو سکتا ہے
بادی النظر میں ق لیگ کے چودھری پرویز الہی کے اپوزیشن رہنماؤں اور پی ٹی آئی کے ناراض ارکان سے ملاقاتوں اور رابطوں کے علاوہ مختلف بیانات سے تو بعض تجزیہ کار یہ تاثر لیتے آ رہے ہیں کہ چودھری حکومت اتحاد سے نکلنے کی تیاری تو کر رہے ہیں مگر اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں تردد کا شکار بھی لگ رہے ہیں۔ چودھریوں کا اتحاد میں رہنے یا نکلنے کا فیصلہ کرنے کے بارے مبہم طرز عمل کی اہم ممکنہ وجوہات عمومی طور پر درجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔
1۔ بہتر سودے بازی کی توقع۔
2۔ دوسری اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل کی کوششیں۔
3۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح ہدایات کا انتظار۔
یہاں ان کا ایک مختصر جائزہ لیا جاتا ہے
جہاں تک بہتر سودے بازی کی توقع کی بات ہے تو یقیناً یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ سیاست بالخصوص پاکستان میں تو نام ہی مفادات کا ہے۔ موقع ملنے پر ہر سیاست دان اور سیاسی فریق زیادہ سے زیادہ مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہتا ہے۔
چودھری برادران کی ق لیگ ایک چھوٹی جماعت ہے۔ اور وہ ضرور چاہتے ہوں گے کہ موقع ملنے پر اس کو زیادہ موثر بنانے کی سعی کریں۔
اب عدم اعتماد کی تحریک نے اس کو ایک ایسا موقع فراہم کر دیا ہے جس سے وہ اپنے تئیں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یوں اس ضمن میں ان کا بہتر سودے بازی کی توقع اور کوشش حیران کن نہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں ان کے لیے بہتر سودے بازی کیا ہو سکتی ہے اور کون سا فریق کیا دے سکتا ہے؟ فی الوقت یہ حکمران جماعت کی اتحادی اور حکومت میں حصہ دار ہے
مرکز میں اگرچہ ق لیگ کی کل پانچ اور پنجاب اسمبلی میں دس نشستیں ہیں۔ مگر اس کو مرکزی اور پنجاب حکومت میں جو حصہ دیا گیا ہے وہ ’زائد از جثہ ”ہے۔ نارمل حالات میں تو ق لیگ اس سے زائد کا تقاضا شاید نہ کرتی مگر حکومت چونکہ تحریک عدم اعتماد کے باعث مشکلات کا شکار ہے اور لگتا ہے کہ ق لیگ اس موقع پر اس کی ضرورت یا مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے سودا بازی پر مصر ہے۔ حکومت سے سودے بازی کے لیے اس کی شرط پنجاب کی وزرات اعلی ہو گی جس سے کم پر شاید یہ راضی نہ ہوں۔ اگر حکومت اس کے لیے تیار نہ ہو تو پھر اس حوالے اس کا دوسرا آپشن اپوزیشن ہے۔
اپوزیشن کے ساتھ اس کی متعدد ملاقاتوں اور رابطوں کے علاوہ چودھری پرویز الہی کے بیانات سے تو عمومی تاثر اب تک یہ لیا جا رہا تھا کہ اس کے ساتھ معاملات طے ہو گئے ہیں اور ق لیگ والے جلد اس کا باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔ مگر اس حوالے سے اب تک صورت حال واضح نہیں۔ بہر حال اگر چودھریوں کے مبہم طرز عمل کی وجہ بہتر سودے بازی کی توقع ہو۔ تو ان کی طرف سے واضح فیصلے اور اعلان کا دار و مدار اس پر ہو گا کہ کس فریق کے ساتھ اس کے معاملات طے ہوتے ہیں۔
البتہ یہ الگ بات ہے کہ اگر ایسے میں اپوزیشن کو پی ٹی آئی سے منحرف ارکان کی مطلوبہ تعداد مل گئی تو پھر چودھریوں کی بہتر سودا بازی کی توقع نہ صرف دھری کی دھری رہ سکتی ہے۔ بلکہ اس کا یہ طرز عمل ان کے لیے الٹا نقصان کا موجب بھی ہو سکتا ہے۔
2۔ بہتر سودے بازی کی توقع کے ساتھ چودھریوں کے طرز عمل کی دوسری ممکنہ وجہ بھی وزن رکھتی ہے وہ یوں کہ چودھری برادران دوسرے اتحادیوں اور خاص کر ایم کیو ایم کا ساتھ مل کر چلنے کی یقین دہانی حاصل کرنے کے منتظر اس لیے ہوں کہ ایم کیو ایم کا ساتھ آنے سے عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے جبکہ اس کے بغیر اپوزیشن کا ساتھ دینے کے اعلان کا رسک نہیں لینا چاہتے ہوں۔
اگر ایسا ہے تو اس سلسلے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ایم کیو ایم حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرے گی یا نہیں؟ ایم کیو ایم سے حکومت اور اپوزیشن دونوں رابطے میں ہیں۔ اگر واقعی کوئی بیرونی فیکٹر نہ ہو تو ایم کیو ایم فیصلہ اس فریق کے حق میں کرے گی جو ان کے لیے زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہو۔ اگرچہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت کے اتحادی ہے مگر اس کی قیادت کا وقتاً فوقتاً حکومت کے بارے سخت روئے یا تنقید سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات میں رخنے موجود ہیں۔ حکومتی اتحاد میں رہنا شاید اس کی مجبوری ہو اور اس کی بڑی وجہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اس کا بگاڑ ہے۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ اگر اس کے اختلافات ختم ہو گئے تو پی ٹی آئی کے بجائے وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنے کو ترجیع دے گی۔ کیونکہ ایم کیو ایم کی سیاست سندھ اور بالخصوص کراچی کے گرد گھومتی ہے اور ایم کیو ایم اس حقیقت کو نظر نہیں انداز کر سکتی ہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی جگہ فی الحال کوئی دوسری پارٹی نہیں لے سکتی ہے۔ یوں اس کی کوشش یہ ہوگی کہ کراچی وغیرہ میں اس کے مفادات کے حوالے سے اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ اس کے موجودہ اختلافات اور تناؤ کے خاتمے کی راہ نکل آئے تو پھر اس کے ساتھ مصالحت ایم کیو ایم کے بہتر مفاد میں ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں ایم کیو ایم کا اپوزیشن کا ساتھ دینے کا بنیادی دار و مدار اس کا اور پیپلز پارٹی کے درمیان افہام و تفہیم پر ہے۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اور ایم کیو ایم کے وفد کے درمیان ملاقات بھی ہو گئی ہے۔ اگرچہ اس کے بارے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ تاہم دونوں فریقین نے اس کو مثبت پیشرفت کہا ہے۔ اور مزید مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے
اگر آئندہ دنوں میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی تسلی بخش تصفیہ ہو گیا تو پھر اس صورت میں ایم کیو ایم حکومتی اتحاد سے نکل کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ یوں ایم کیو ایم کے اس طرح کے فیصلے سے چودھری برادران بھی گو مگو کی حالت سے شاید نکل آئیں
3۔ اسٹیبلشمنٹ فیکٹر۔
اگر چودھریوں کی تردد کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے تو پھر اس حوالے سے کئی مختلف سوالات یا شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ نیوٹریلٹی کے علاوہ ایک سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا اس کے پیچھے اس کے کچھ نامعلوم مقاصد اور منصوبے تو نہیں ہیں؟
یا پھر یہ کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی کچھ باہمی کھینچا تانی یا مفادات کی کشمکش تو نہیں؟
اس حوالے اصلی صورت حال کیا ہے یہ تو فی الحال نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم سردست تو اسٹیبلشمنٹ فیکٹر کو چودھریوں کی گو مگو یا مبہم طرز عمل کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی واضح شواہد نہیں۔
ہاں اگر تحریک عدم اعتماد چودھریوں کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے ناکام ہو گئی تو بعض حلقے اسٹیبلشمنٹ یا اس کے کچھ عناصر کو اس کی ایک اہم وجہ قرار دیے سکتے ہیں۔

