کپتان سوچے کہ اس کے اپنے اسے کیوں چھوڑ گئے
شہر اقتدار کی گلیوں میں جو سناٹا اور سکوت چھایا ہوا تھا وہ پہلے سرگوشیوں میں پھر آہستہ آہستہ شور میں تبدیل ہو گیا اور ایسے شور میں تبدیل ہوا جس میں اب کوئی کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی۔
ہر طرف بس آوازیں ہی آوازیں ہیں یہ وہی آوازیں ہیں جو پہلے ان گلیوں کے بند دروازوں کی طرف پکار پکار کر تھک رہی تھیں لیکن اب یہ آوازیں اس سناٹے کو توڑنے میں کام یاب ہو گئی ہیں جو ساڑھے تین سال سے ان گلیوں میں چھایا ہوا تھا عمران خان پاکستان کے وہ وزیراعظم تھے جن کو بڑے جوڑ توڑ، ارمانوں اور خواہشوں کے ساتھ اقتدار میں لایا گیا تھا۔ کیا کیا ہوا تھا یہ سب دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
خان صاحب تو بائیس سال بس چیخ چیخ کر احتساب کے نعرے لگاتے رہے تھے ان کے سب حریف ان کے لیے ناقابل قبول تھے نہ ہی وہ ان کو اس قابل سمجھتے کہ ان سے بات بھی کریں۔ ان کو یہ زعم تھا کہ میں پاکستان کا سب سے بہترین حل ہوں لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہی زعم نواز شریف کو لے ڈوبا نہ کبھی اتحادیوں کی سنی نہ کبھی ناراض اراکین کی سننے کی زحمت گوارا کی۔ اور تو اور اپنے ان دوستوں کو اپنا دشمن بنالیا جنہوں نے کل سارے الزام اپنے سر لے کر ان کو اقتدار کی خاموش اور سنگین گلیوں کا مہمان بنوا دیا تھا۔ ان کے چند ایک خیر خواہ کوشش کر رہے تھے کہ ان کو سمجھا دیں لیکن خان صاحب نے تو اپنے گرد ایسی دیوار بنا رکھی تھی جہاں کوئی آواز نہیں پہنچ رہی تھی۔
ان کے ارد گرد جیسا میلہ لگا رہا اس نے ان کو ایسے سناٹے میں دھکیل دیا جہاں ان کو سوائے اپنی من پسند آوازوں کے علاوہ کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔ اپنی من مانی کی تو وہ شروع سے ہی عادی رہے ہیں لیکن حساس ترین معاملات پر ان کی جانب سے جس قسم کی لاپرواہیوں کا مظاہرہ کیا گیا اس پر اب سانپ نکلنے جانے کے بعد لکیر ہی پیٹی جا سکتی ہے۔ فوج کے حساس ترین ادارے کے سربراہ کی تقرری کے نوٹیفکیشن اور معمول کے تبادلوں پر سائن کرنے میں جس طرح اختیارات کا مظاہرہ کیا گیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں اجلاس کی تن تنہا صدارت کی۔ اس سے قبل جی ایچ کیو میں ہونے والے اجلاسوں کی صدارت وزیر اعظم اور آرمی چیف مشترکہ طور پر کرتے تھے۔ ان کے وزیر مشیر بس یہ گاتے پھرتے تھے کہ سب ایک پیچ پر ہیں لیکن اس پیچ پر بھی خان صاحب صرف اپنی عبارت لکھنا چاہتے تھے جو ممکن نہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کے بارے میں جیسی زبان استعمال کی وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
سیاست کرکٹ کا میچ نہیں ہوتا جہاں ایک ٹیم کے گیارہ کھلاڑی ایک ٹیم سے کھیلتے ہیں یہ سیاست ہے یہاں امکانات مفاہمت اور مفادات پیش نظر رہتے ہیں۔
وہی پنچھی جو پکڑ پکڑ کر جہاز میں لائے جا رہے تھے تب کہا جا رہا تھا کپتان وکٹیں گرا رہے ہیں۔ جب ان پنچھیوں کو دانے ڈال کر سینیٹ کے الیکشن میں گیم پلٹا گیا اور انہی پنچھیوں کے بل پر بلوچستان میں باپ بنا دی گئی تب کہاں تھے ضمیر۔ ابھی کچھ دن پہلے بھی کپتان صاحب جلسوں میں چیخ چیخ کر نہیں چھوڑوں گا کے نعرے لگا رہے تھے لیکن ان آواز دینے والوں کو بھول گئے جو ان کو پکار پکار کر اب تھک کر کسی اور دروازے پر چلے گئے۔ اب بولیاں لگ رہی ہیں ضمیروں کا سودا ہو رہا ہے تو یاد کریں کہ یہ سب کیوں ہوا۔ اب بھی نہیں چھوڑوں گا کے نعرے لگانے کے بجائے یہ سوچیں یہ سب کیسے ریت کی طرح ان کے پیروں سے پھسل گیا ہے۔
بچپن میں دوپہر میں ہمارے گھر کی ڈور بیل بجتی تھی تو ہم سب کزنز مین گیٹ کی طرف دوڑیں لگاتے تھے کہ گیٹ پہلے کون جاکر کھو لے گا اور گیٹ پر آواز دینے والا کوئی آئس کریم والا نہیں ہوتا تھا بلکہ ننگے پیر گھاگھرے چولی اور میلا سا دو پٹی اوڑھے ایک فقیرنی ہوتی تھی جو بچے کو دیکھ کر ہاتھ آگے کر دیتی تھی اور ایک روپیہ دو روپیہ لے کر مٹھی بند کر لیتی تھی اور ہاتھ پیچھے کر لیتی تھی۔ بہت عجیب تھی وہ چاہے دوسرا بچہ کہتا مجھ سے زیادہ پیسے لے لو وہ سر ہلا کر کہتی سائیں سلامت رہے بس بھاگ لگے رہن اور آگے بڑھ جاتی۔ ہم بچے اس کو جاتا دیکھتے رہتے یہ ہمارا کھیل تھا کہ دوپہر میں سب سے پہلے اس کے لیے گیٹ کون کھو لے گا اور کون اس کے بڑھے ہاتھ پر پیسے رکھے گا اور وہ کہے گی کہ سائیں سلامت رہے بس بھاگ لگے رہن۔
تو بس خان صاحب جب دروازے پر آتی آوازوں کو سنا نہیں جاتا تو پھر کوئی اور آگے بڑھ کر اس آواز کو سن لیتا ہے مٹھی کھلتی ہے سننے والا اس پر روپیہ رکھ دیتا ہے اور وہ مٹھی بند ہوجاتی ہے وہ ہستی اپنی صدا لگاتی ہے، سائیں سلامت رہے بس بھاگ لگے رہن اور آگے بڑھ جاتی ہے اور پیچھے تکنے والے بس تکتے رہ جاتے ہیں۔



بہت خوبصورتی سے موجودہ سیاست کا احاطہ کیا یے۔ سیاست بہت بے رحم ہوتی ہے۔ آپ وہی کچھ کاٹتے ہیں جو کہ بوتے ہیں۔ اہم یہ ہوتا ہے کہ آپنے غلطیوں سے سیکھا کیا مگر سیاست میں دوبارہ موقع بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔ ایسے ہی اچھا اچھا لکھتی رہیں۔