نکمے کے ایڈونچر


اور مجھے لگا کچھ دیر میوزک سن لینے سے شاید طبیعت بہتر محسوس کرے مگر اب میری گردن میں درد ہو رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے کھل اٹھتے ہیں ہم لوگ اور چھوٹے مسائل ہمارا پلان ہی چوپٹ کر دیتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کتنا بے بس ہے انسان اپنی انا، ضد، شوق، وہم اور ادراک کے آگے۔ اول تو آنکھیں غلط دیکھتی ہیں، پھر ذہن عجیب و غریب زاویے کھینچتا ہے اور حضرت انسان ایک نئی تھیوری بنائے اپنی مٹی پلیدنے نکل پڑتا ہے۔ ہمارا آرام، چڑھتا سورج، نیکی، خدمات، ریاضت آخر کار ایک نئے المیے کو کیوں جنم دے دیتا ہے اور وہ بھی ہر دفعہ۔

ہم بڑی محنت سے اپنے خیالات کی آبیاری کرتے ہیں اور آخر کار خود ہی ان سے چڑ کر جلا ڈالتے ہیں۔ کیا انسانی تاریخ ایسی نہیں۔ انسانوں کے دلوں میں نفرت پلتی ہے۔ انقلاب فرانس، چین، روس غرض ہر مہم جس کے بعد انسان نے کوئی قابل قدر کام کیا، ڈھیروں انسانوں کے بے دریغ قتل سے عبارت ہوئی۔ امن کا راگ الاپنے والے بھی پس پردہ قاتل، بھرکوں کے پیچھے ویشیا، ٹوپیوں میں پنہاں سینگ۔ انسان کا انت قریب ہے۔ شاید یہ اپنا گلا خود گھونٹ لے یا اس کار خیر کے لیے اپنے ساتھی کی خدمات لے۔

آنے والا دن کتنا شاندار ہو گا، گرمیوں کی روشن صبح، آپ اٹھیں گے، تگڑا سا ناشتہ کریں گے اور دفتر جائیں گے۔ اب وہی طے شدہ روٹین کے تحت ٹامک ٹویاں ماریں گے۔ وہ دیکھو باس آیا، ہوشیار، ارے یہ مضمون کتنا، پرپیچ ہے، خیالات کتنے منتشر ہیں۔ تو بڑے، بھیے حیات جاوداں ایسی ہی ہوتی ہے، آپ سولی پر بھی اونگھ سکتے ہیں۔ میرا ایک دوست دوران آپریشن سو گیا، اور سرجن کے اوپر آ رہا، قریب تھا کے سر بجتے سنبھل گیا۔ میڈیسن میں آپ کی نیند کبھی پوری نہیں ہوتی اور آپ کے اندرونی گھڑیال کا ردہم بھی ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔

آج ناک، کان، گلا ( ای این ٹی) کا امتحان تھا۔ ایک دوست نے مریض کی زبان کو ایسے مروڑے دیے کہ سب ہنسنے لگ گئے۔ دور سے کتنا شاندار لگتا ہے، پہلی دفعہ جب مثانے کی پتھری کا آپریشن دیکھا اور سر نے ایک بتاشے جتنی پتھری ٹن کی آواز سے ٹرے میں پھینکی تو دل باغ باغ ہو گیا۔ پھر وہ بھی دن آئے کہ بطور سزا دستانوں کے بغیر مریضوں کے ہرنیا کے ٹیسٹ کیے اور کراہت اتنی کہ اللہ۔ مگر ہیبت ناک دن ہمیشہ سے وائیوا ہی ہوتا ہے، ممتحن کا ایک سوال ڈراپ ہوا نہیں اور دنیا بیرنگ۔

مگر اس کے پیچھے سینکڑوں کتابوں کا بوجھ اور ڈھیروں امتحانوں کا بوجھ بھی لاد رکھا ہے۔ مگر جب بھی موقع ملا، اپنی سپنوں کی وادی میں خوب دھما چوکڑی مچائی، الم غلم کہانیاں لکھیں، کہیں بھی سو گئے، بے ربط گانے لکھے اور ڈھیر سارے مایوسی کے سوٹے لگائے۔ یقین جانیے ملامتی طبیعت کا بھی ایک نشا ہے، بے وجہ فیض کو پڑھ، آب دیدہ۔ ساحر کے دل گرفتہ گیت اور کچھ نہ بن پایا تو سلیبس کی کتاب کھول لی۔ زندگی لغو ( absurd) تھی اور ہے مگر ہم بے طرح ڈھیر ہوتے جا رہے ہیں۔ زندگی روز ہی اپنا کوئی راز آشکار کر دیتی ہے اور ہم سدا کے ناتجربہ کار اور اناڑی اپنی سے شکل لے کر رہ جاتے ہیں۔

اب خداؤں سے دوستی ہے میری
شرف انسانیت سے گر چکا ہوں میں
جھوٹ لکھتا ہوں ہر حقیقت کو
روبرو ایک مجاز دیکھتا ہوں میں

Facebook Comments HS

One thought on “نکمے کے ایڈونچر

  • 19/03/2022 at 12:06 شام
    Permalink

    ❤️❤️❤️

Comments are closed.