بیٹی کی تعلیم: الفاظ دل

ترقی کے اس دور میں دنیا نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اگر کوئی انسان مخلص ہے، بے غرض ہے، تو وہ بے وقوف سمجھا جاتا ہے، اگر کوئی جھوٹا ہے دھوکے باز ہے، فریبی ہے تو وہ عقلمند ہے۔ اگر کوئی مخلص ہے، کسی کو چالاکیاں نہیں آتی تو لوگ سمجھتے اس کے پاس عقل کی کمی ہے، اسے دنیا کے ساتھ چلنا نہیں آتا، کیا ضروری ہے کہ واقعی عقل کی کمی ہو، شاید وہ انسان اپنی اچھائی کی وجہ سے کم عقل سمجھا جاتا، وہ اچھائی جو اس دنیا کے لوگوں کی ڈیمانڈ نہیں ہے، انہیں محبت، خلوص، وفا سے کوئی واسطہ نہیں، کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ اس دنیا کے لوگوں کی مانگ اب پیسہ ہے، دھوکہ ہے۔
ہر لکھاری کی ایک خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریر ایک خاص مقصد کے لئے لکھے اور میری اس تحریر کا مقصد اس ذات کے لئے ہے جو مجھے سب سے خاص ہے۔ میری اس ذات کی زندگی میں ایک ایسا انسان آیا نیک پاک، مخلص، ایماندار، اور اعتبار کرنے والا جو اسے باپ کے روپ میں ملا زندگی میں ہر انسان کو جو اس دنیا میں آیا باپ کی وجہ سے آیا صرف ایک ایسی ہستی (حضرت عیسیٰ ) کے علاوہ۔ باپ سب کے ہوتے ہیں مگر ایسا باپ جس نے ساری زندگی ایمانداری، وفاداری، خدا ترسی میں گزار دی کسی نعمت سے کم نہیں۔
میرا اور میری زندگی کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں بیٹیوں کی تعلیم پہ خاص توجہ نہیں دی جاتی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان کو تعلیم سے جان بوجھ کے دور کیا جاتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہاں پہلے تو کوئی شخص اپنی بیٹی کو تعلیم نہیں دلواتا اگر کوئی یہ فرض پورا بھی کرنا چاہیے تو سینکڑوں لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے ہی میری زندگی کی لائف میں ایک موڑ آیا جب اس کے اپنے اور پرائے سب ایک ہی صف میں اکٹھے ہوئے ان کی یہ ڈیمانڈ تھی کہ اپنی بیٹی کو تعلیم نہ دلواؤ اور ہر بار اس مرد مجاہد نے ان کی ایک بھی نہ سنی بلکہ ان کو نصیحت کی تم بھی اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلواؤ۔ یہاں بات صرف تعلیم کی نہیں ہے بات اس اعتبار کی ہے جو اس شخص نے اپنی بیٹی پہ کیا، بات اس ہمت کی ہے جو اس نے اپنی بیٹی کو دی، بات اس مان کی ہے جو اس شخص نے رکھا اور اپنی بیٹی کو تعلیم دلوائی۔
ہر ماں باپ کے لئے بیٹی آنگن کا پھول ہوتی ہے اور وہ جان بوجھ کر اس پھول کو مرجھانے نہیں دیتے۔ مگر نہ جانے کیوں بیٹیوں اور بہنوں والے دوسروں کی بیٹیوں کے دل توڑتے ہیں ان کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔ ہمارے علاقے کی روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ترقی کر رہا ہو تو سب اسے گرانے کی کوشش کرتے ہیں سب مل کر اس کے خلاف سازشیں بناتے ہیں ایسے ہی میری زندگی کے خلاف لوگوں نے کیا مگر میں سلوٹ پیش کرتا ہوں اس عظیم ہستی کو جس نے ان ساری سازشیں کے جواب میں اپنی بیٹی کو ہمت دی وہ ہمت جس کی وجہ سے آج وہ اس مقام پر ہے جس کا خواب اس کے باپ نے دیکھا تھا۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اس کی آنکھوں میں لوگوں کی وجہ سے بہت آنسو آئے جنہیں یہ بھی نہیں پتا کہ آنسو کیا ہوتے ان کے نزدیک جب آنسو نکل آتے ہیں تو ان میں صرف نمک اور پانی نہیں ہوتا!
ان میں ماضی کی تکلیفیں، درد دکھ، اپنوں کے ستم، چاہنے والوں کی بے اعتباری، کبھی نہ لوٹ آنے والوں کا غم، وعدوں کی پامالیاں اور نہ جانے کیا کیا احساسات اور جذبات چھپے ہوتے ہیں!
لکھاری کے لئے سب سے مشکل کام ہوتا ہے اپنی زندگی کے لئے لکھنا۔ میری اس تحریر کا مقصد اپنی بے پناہ محبت کا اظہار ہے مگر میں اس اظہار میں اگرچہ نام نہیں لکھ سکتا مگر اپنے جذبات ضرور لکھ سکتا ہوں
مجھے نہیں پتہ کہاں سے شروع کروں بہت ساری خوشیاں بھی دیکھی ہیں ہم نے ایک ساتھ اور بہت دکھ بھی لیکن ساتھ رہے ہیں مجھے اس بات پہ خوشی ہوتی ہے ورنہ لوگ اکتا جاتے ہیں ایک دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں لیکن نہ تم نے کبھی مجھے چھوڑا اور نہ میں نے۔ میں نے ہمیشہ تم سے صرف محبت ہی کی ہے اور تم نے بھی بدلے میں اسی جذبے سے میری محبت کے پودے کو سینچا ہے زندگی اور کوئی بھی اس محبت کو میرے دل سے کبھی نہیں نکال سکتا میں دور بھلے ہوں تم سے لیکن میں ہمیشہ تمھارے دل میں رہوں گا اور تم جب چاہے مجھے آواز دے سکتی ہو میں کبھی تمھارا دل نہیں دکھانا چاہتا زندگی لیکن پھر بھی اگر کبھی ایسا ہو تو صرف اس وجہ سے خود کو مجھ سے دور مت کرنا تمھیں پورا حق ہے تم ناراض ہو میں ہزار بار منا لوں گا لیکن تم چھوڑ دو گی تو میں کچھ نہیں ہوں پھر۔ جانم پہلے کی طرح ہمت نہیں رہی کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی لیکن میں بس اتنا جانتا ہوں تم میری زندگی میں ہمیشہ رہو یہ باعث تسکین ہے میرے لیے۔
آخر میں اپنی جان سے گزارش کروں گا کہ جیسے میرے خواب ہیں اپنی جان کو بلندیوں پر دیکھنے کے پلیز آپ خود پر توجہ دیں جیسے اپنے بابا کے خواب کو حقیقت کیا ہے ویسے میرے دل کا مان بھی رکھو اور ہر میدان میں اپنا نام بناؤ شیرنی بن کے جیو۔
ایک عرصہ ہو گیا میں نے دعائیں مانگنا چھوڑ دی ہیں یہ نہیں کہ میں رب کی ذات سے مایوس ہوں ہرگز نہیں بلکہ اس نے جو مجھے دیا ہے میری حیثیت سے بڑھ کے دیا ہے اور وہ تم ہو اور آج میں اتنے عرصے بعد صرف تمھاری خوشیوں کے لیے اللہ کے سامنے اپنا دامن پھیلا رہا ہوں اللہ پاک تمھارے حق میں جو بہترین ہے اس سے نوازے تمھیں وہ سکون ملے جو تم ہمیشہ سے چاہتی آئی ہو۔

