دفتری سیاست: اپنے ادارے سے مخلص رہیں

سیاست دراصل کسی ملک کے انتظامی امور کو سنبھالنا ہے۔ فساد کو دور کرنا، معاشرے کو پرامن بنانا اور اصلاح کے لئے کام کرنا حقیقی سیاست ہے۔
پاکستانی معاشرے میں لفظ سیاست ذہن میں آتے ہی بے ایمانی، زیادتی، جھوٹ اور دھوکہ دہی کا خیال آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک اور معاشرے میں سیاست کا عملی طور پر اچھے مقاصد کے لئے کم جب کہ حق تلفی، قبضہ، ناجائز اختیارات، ذاتی مفادات کو ترجیح اور دیگر برے مقاصد کے لئے زیادہ استعمال ہوتا ہے خواہ یہ ملکی سیاست ہو یا پھر دفتر کی۔
آج ہم بات کریں گے دفتری سیاست کی جو تقریباً تمام محکموں اور اداروں میں ہر سطح پر پائی جاتی ہے۔ اگر آپ نوکری پیشہ ہیں تو یہ مضمون آپ کی رہنمائی کے لئے ہے۔
ہر انسان کی سوچ، صلاحیت، عہدہ اور اختیارات میں فرق پایا جاتا ہے، کسی بھی دفتر میں سیاست وہ عمل ہے جو ایک ملازم اپنے عہدہ میں ترقی یا ذاتی مفاد کے لئے غلط راستے پر چل کر انجام دیتا ہے۔
دفتری سیاست سے محفوظ رہنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اپنے دفاع کے لئے اس کو سمجھا جائے تاکہ محتاط رہا جا سکے اور لاعلمی کی وجہ سے دفتر کے سیاست دانوں کے ہاتھوں کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔ دفتر کی سیاست سے بے خبری روزگار کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ بقول شاعر
کس درجہ منافق ہیں سب اہل ہوس ثاقبؔ
اندر سے تو پتھر ہیں اور لگتے ہیں پانی سے
دفتری سیاست مختلف وجوہات اور مقاصد کے لئے کی جاتی ہے جیسے جلد ترقی، کوئی بڑا عہدہ حاصل کرنا، افسران اور انتظامیہ کو متاثر کرنا، حق دار یا نا پسندیدہ شخص کو پیچھے چھوڑنا، جب کارکردگی کا سالانہ تجزیہ ہو تو اضافی سکور کی خواہش، اور اگر خود سینئر ہیں تو پردہ داری کے لئے جونئیرز میں سے اپنے جیسے لوگوں کا انتخاب کرنا بھی شامل ہے۔
جی حضوری کے نمبر ہمیشہ اضافی ہوتے ہیں جو اکثر خوشامدی ماتحت لے لیتے ہیں، اس کے لئے کرنا کچھ نہیں ہے، صرف ہاں میں ہاں ملاتے جائیں، چاہے بات غلط ہو یا صحیح۔ آپ خوشامد نہ کر سکیں یا طاقتور کا ساتھ نہ دیں تو اپنا برا حال جلد دیکھ سکتے ہیں۔ خوشامدی افراد اور دفتری سیاست کے ہاتھوں نقصان اٹھانے والوں کے لئے ایک شعر
منصب تو ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی
یہ شرط ہمیں منظور نہ تھی، بس اتنی سی مجبوری تھی
دفتری سیاست کے لئے اپنے افسر کی سوچ پر قبضہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اپنا ہی لائن مینجر ناپسند ہو اور اس کی کرسی آپ کو پسند ہو تو پھر اس کے بھی سینئر کے ساتھ تعلق بنانا آنا چاہیے جو کہ یقینی طور پر اچھا عمل نہیں جب مقصد کسی کا نقصان ہو۔
سمٹ کے بیٹھ گیا ہوں میں ایک کونے میں
مری سمجھ میں جو آیا منافقت کیا ہے
بعض دفعہ آپ کا سینئر افسر آپ سے جان چھڑانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی بھی کرتا ہے، آپ کے کچھ ساتھیوں کو فوری مخالف نہ بھی کر سکے تو خوف زدہ کر کے آپ کی ہمدردی سے ضرور روک لیتا ہے، اور آپ کے ماتحتوں میں اپنا قریبی شخص شامل کر دیتا ہے جو کچھ عرصے بعد آپ سے کام سیکھ کر آپ کو گھر کا راستہ دکھا سکتا ہے۔
دفتری سیاست سے ناواقف ایک تعلیم یافتہ شخص نے اچھے ادارے میں نوکری کی، شروع شروع میں علانیہ کہتا رہا کہ وہ سیاست کو دفتر میں ناپسند کرتا ہے، کسی کے ساتھ برائی کو برا سمجھتا ہے اور صرف میرٹ پر یقین رکھتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ادارے نے کچھ ملازمین فارغ کیے اور فہرست میں اس کا نام بھی شامل تھا۔ اس شخص کے نکالے جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کے کام میں کوئی کمی تھی بلکہ وہ دفتری سیاست کو نہیں سمجھ سکا تھا۔ وہ ادارے کے طاقتور افسران کے پسندیدہ لوگوں میں شامل نہیں ہو سکا اور اس کو باہر کر کے منظور نظر ملازمین کو بچا لیا گیا تھا۔
دفتر میں سیاست کو فروغ ملنے میں اہم کردار اعلی افسران اور ان کی منفی سوچ کا بھی ہوتا ہے، سینئر افسر کا کنٹرول جتنا اچھا ہو گا ماتحتوں میں اتحاد بھی اتنا زیادہ ہو گا۔
دفتر کی سیاست کے نقصانات سے بچنے کے لئے زبان پر قابو بہت ضروری ہے، آپ جو بات دیوار کے سامنے کرتے ہیں، وہ دیوار سے آگے پہنچتی ہے اور مرچ مصالحے کے ساتھ آپ کے خلاف استعمال ہو جاتی ہے۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، ان کو آگے بھی نہ پھیلائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دفتری سیاست سے کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے، اکثر دوست دشمن نظر آنے لگتے ہیں اور جب توجہ صرف اپنے فائدے پر رہے تو ادارے کا بھی نقصان ہوتا ہے۔
جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ دفتر میں منفی سیاست کرنا اچھا نہیں لیکن اپنی حفاظت کے لئے اس کو سمجھنا بہت اہم ہے۔ کسی بھی ادارے کی ترقی کے لئے اس کے ملازمین کا متحد ہو کر ایک ہی مقصد کے لئے کام کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہر ادارے میں کچھ لوگوں کے پاس اختیارات زیادہ ہوتے ہیں لیکن ان کا استعمال دوسروں کی بھلائی کے لئے ہونا چاہیے، کسی کو تکلیف دینے یا کسی سے اس کے اختیارات چھیننے کے لئے نہیں، اس لئے ہمیشہ اپنا تجزیہ کریں اور ادارے کے چارٹ کو ضرور دیکھیں، کہیں آپ اپنی حدود سے آگے تو نہیں نکل رہے، تاکہ جوابی سیاست سے بھی بچے رہیں۔
کوشش یہ کریں کہ سیاست سے زیادہ محنت اور نصیب پر بھروسا کریں، دل میں کینہ اور حسد کو جگہ نہ دیں، اللہ سے لو لگائیں۔ یاد رکھیں کہ ہر ادارہ محنت کرنے کی تنخواہ دیتا ہے، سیاست کے لئے نہیں۔ اپنے ادارے سے ہر حال میں مخلص رہیں۔
