تحریک عدم اعتماد: سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، چیف جسٹس
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے دوران تصادم کے خطرے سے متعلق درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ امید ہے تمام سیاسی فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔
یہ درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ عدم اعتماد اور سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔اس درخواست میں وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت نے حکمراں جماعت پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔
سماعت میں کیا ہوا؟
چیف جسٹس نے سماعت کی شروعات میں واضح کیا کہ یہ از خود کارروائی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت آرٹیکل 63a پر رائے نہیں چاہتے ہیں۔ آرٹیکل 63a پر صدارتی ریفرنس پر اس درخواست کی سماعت کریں گے۔‘
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ بار کی درخواست کا تعلق نہیں ہے۔ مگر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دونوں معاملات کا اپس میں لنک موجود ہے۔ ’سپریم کورٹ بار کی درخواست میں سپیکر کی ذمہ داریوں کی بات کی گئی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹیرین اور سپریم کورٹ بار کا بہت احترام ہے۔
انھوں نے تصادم کے خطرے پر کہا کہ وہ ’امید کرتے ہیں تمام سیاسی فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔‘
سندھ ہاؤس پر حملے سے متعلق اٹارنی جنرل نے کہا کہ سو احتجاج کرنے والوں کو پولیس نے سندھ ہاؤس سے منتشر کیا اور اس کے بعد 20 لوگ سندھ ہاؤس احتجاج کرنے آگئے۔ ’تیرا لوگوں کو سندھ ہاؤس پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا (اور) تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کرُ لیا گیا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ آج مجسٹریٹ نے تیرہ مظاہرین کو رہا کر دیا۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ’جو کچھ ہو ہو رہا ہے ہمیں اس سے مطلب نہیں۔ آئین کی عملداری کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔‘
انھوں نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا پبلک پراپرٹی پر دھاوا بولنا بھی قابل ضمانت جرم ہے۔ ’سیاسی عمل آئین و قانون کے تحت ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پبلک پراپرٹی اور قومی اداروں کو دھمکیاں ملی جبکہ ارکان اور اداروں کو تحفظ آئین کے مطابق ملنا چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ عدم اعتماد اور سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہاؤس پر دھاوا بولنے والے پی ٹی آئی کارکنان ضمانت پر رہا
پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان کون ہیں اور یہ پی ٹی آئی میں کب شامل ہوئے؟
سندھ ہاؤس میں ناراض حکومتی اراکین اور تحریک عدم اعتماد: عمران خان کے پاس اب کیا آپشنز ہیں
مائنس تحریک انصاف قومی حکومت کی تجویز، آئینی تصور یا نظریہ ضرورت
انھوں نے آئی جی اسلام آباد سے سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ پیر تک طلب کی ہے۔ ’سندھ ہاؤس کو نقصان پہنچایا گیا۔ تمام سیاسی جماعتیں قانون کے مطابق برتاؤ کریں گی۔ تمام فریقین خلاف قانون کوئی اقدام نہ کریں۔‘
عدالت نے پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں اور درخواست کی سماعت ہیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ معمول میں سپریم کورٹ سنیچر اور اتوار کو مقدمات کی سماعت نہیں کرتی۔
جمعے کو پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجودگی کی خبر کے بعد پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی اپنے کارکنان کے ہمراہ سندھ ہاؤس پہنچے جہاں ڈنڈے اور لوٹے اٹھائے مشتعل کارکنان نے سندھ ہاؤس پر حملہ کر دیا تھا۔
سندھ ہاؤس پاکستان کے چیف جسٹس کے گھر کے بالکل سامنے واقع ہے۔
سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ بار کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں کہ اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو سیاسی کارکنان میں تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ ’عدالت اب اس معاملے کو بھی از خود نوٹس کے ساتھ ہی سنے گی۔‘
اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر ان 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے حراست میں لے لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں حکمراں جماعت کے دو ارکانِ قومی اسمبلی بھی شامل تھے، جنھیں بعد میں شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دھاوے اور ہنگامہ آرائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے صورتحال کو دیکھنے کو کہا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر حملے کو ’سندھ پر حملے‘ کے برابر قرار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’سندھ ہاؤس پر حملہ دہشت گردی پر مبنی کارروائی ہے۔‘


