"ظلوماً جھولاً”


زمانہ اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ ایک دنیا ہے جو ہمارے دیکھتے دیکھتے بدل گئی۔ وہ اقدار و روایات جن کے بغیر زندگی ایک قدم نہ بڑھ سکتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے قصۂ پارینہ ہو گئیں، باوجود اس کے ایک دنیا ہے جو ابھی بھی ماضی کی دیوار گریہ پر سر جھکائے کھڑی ہے اور ادھر وقت کا ریلا ہے جو کسی طالع آزما کے لشکر کی طرح ہر شے کو اپنے گھوڑے تلے روندنے کا عزم لیے ہوئے ہے۔

گھوڑے سے یاد آیا ایک وقت میں گھوڑا قوت و شوکت کی علامت تھا کتنے ہی شہنشاہ گھوڑے کے بغیر بونے لگتے تھے۔ یہ گھوڑا ہی تھا جس نے چنگیز و سکندر کے خوابوں کی تکمیل کے لئے اپنا سہارا فراہم کیا۔ جہانگیر کو آخر کار دو ترک گھوڑوں نے ہی قائل کیا کہ تاج برطانیہ کو ہندوستان میں تجارتی پروانہ عطا کیا جائے۔ اور آج یہی گھوڑا بجز بار برداری کسی مصرف کا نہیں۔ کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ ملٹری کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ گھوڑے کے بغیر مکمل نہیں مگر اس پر کسی اصیل گھوڑے کی رائے لی جائے تو وہ زبان حال سے کہے گا ”میاں میری پیٹھ فاتحین کی سواری باد بہاری ہوا کرتی تھی نا کہ نو آموزوں اور توے سے اترے لونڈوں کی“ ۔ اور بار برداری والی بات تو یونہی گھوڑے کا دل رکھنے کے لیے کہی گئی ہے ورنہ تانگے کا گھوڑا بھی شہروں میں اب ماضی بعید کی کوئی شے لگتا ہے۔ کہیں کہیں دیہاتوں میں کوئی گھوڑا پیٹھ پر گدھوں کی طرح بوجھ اٹھائے ناقدریٔ زمانہ کا شکوہ کرتے نظر آتا ہے۔

اگر کوئی گھوڑا یہ تحریر پڑھ رہا ہو یا گھوڑوں سے گہرے اور نجی تعلقات رکھنے والا کوئی شخص اسے پڑھ رہا ہے تو میری طرف سے گھوڑے کو یہ پیغام پہنچا دے کہ میاں تم جس بوجھ کی وجہ سے تلملا رہے ہو وہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت تم میں فطری طور پر ودیعت کی گئی ہے اور پھر یہ بھی کہ تم نے یہ بوجھ ازخود اپنی پیٹھ پر نہیں لادا ہے۔ تمہارے علاوہ زمین پر ایک انسان نامی دو پایہ ہے جسے اپنے بارے صحیفہ فطرت کا شارح ہونے کا وہم لاحق ہو گیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے اپنے کاندھوں پر معنی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور فطرت سے داد کا طالب ہے گویا یہ فریضہ اسے فطرت کی طرف سے ہی سونپا گیا تھا۔

نادان یہ تک نہیں جانتا کہ برادر عزیز کے دل میں کیا پنپ رہا ہے۔ نہیں جانتا کب حسین کے لباس میں ابن زیاد شہر میں آ وارد ہو اور یہ کھجور کی شاخ ہلاتا رہ جائے۔ باوجود اس کے آج کل جناب کو کائنات کی وسعتوں میں جھانکنے کا شوق چرایا ہے۔ یہ شوق اگرچہ نیا نہیں مگر اب تو بالکل آپے سے باہر ہو گیا ہے۔ کہتا ہے میں بالضرور کائنات میں اپنے جیسی ذہین مخلوق ڈھونڈ نکالوں گا جس کی موجودگی کے میرے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

کائنات اگر ہم سے ہماری زبان میں گفتگو کر سکتی تو پکار اٹھتی کہ تم انسانوں جیسی ”ذہین مخلوق“ میری پہلی اور آخری غلطی تھی۔ میں نے تمہیں جنم دیا اور جس دایہ کی آغوش میں پرورش پانے کو دیا تم نے اسی کا گھر اجاڑ دیا۔ مجھے معلوم ہے تم نے اس بڑھیا کے تمام کھیت کھلیان جلا کر راکھ دریاؤں میں بہا دی، تمام مال مویشی ہڑپ کر گئے اور بڑھیا کی اولاد کو اپنا غلام بنا لیا اب جبکہ تمہیں عنقریب تمہارے ہی کرتوتوں کی وجہ سے گھر میں اشیائے خورونوش کی کمی سے پالا پڑنے والا ہے تو اپنے جی میں کسی اور کے گھر پر قبضہ کرنے کی ٹھانی ہے۔ میں تمہیں خوب جانتی ہوں اور تم بھی جان لو اب سے کوئی غلطی معاف نہیں کی جائے گی، آئندہ سے کسی قسم کی رو رعایت کی امید نہ رکھنا ورنہ بدترین موت مارے جاؤ گے۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کائنات کی زبان سے یہ سب کچھ سننے کے بعد شرمندہ پڑے گا تو یہ آپ کی بھول ہے۔ اس دو پائے نے ”علم اور سچائی“ نامی دو لفظ رٹے ہوئے ہیں۔ کہتا ہے میرا مقصد سچائی کی دریافت ہے، تحقیق میرا شعار ہے اور کھوج میرا مزاج ہے۔ بقول اس دو پایہ کے اس کی تحقیق اور کھوج نے دنیا کو پہلے سے بہتر بنا دیا ہے اور زمین کے مکین قوانین فطرت کو بدلنے پر قادر ہیں۔ یہاں کے باسی اب گھٹاؤں کے محتاج نہیں رہے نہ سورج کی روشنی پر نظریں نہیں لگائے بیٹھے ہیں۔ جب اور جہاں چاہیں بارش برسا سکتے ہیں۔ سورج اپنی کرنیں روک رکھے تو بجلی کے قمقمے سارا جہاں اجال دیں گے۔

اس احمق کو یہ نہیں سوجھتا کہ بجلی کے قمقموں نے اس سے چاندنی رات چھین لی۔ پہلے یہ دو پایہ صرف دن میں زندگی کی گاڑی کھینچتا تھا اور رات کو آغوش فطرت میں آرام کرتا تھا اب دن رات زندگی کی گاڑی کھینچتا ہے اور زندگی ہے کہ جمود کی دلدل میں دھنس چکی ہے۔ پچھلی صدی میں اسی دو پایہ کی مستی نے زمین کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، جوہری توانائی کے مظاہر اب بھی روز افزوں ترقی پر ہیں کون جانے کب کسی غول کا سرغنہ کوئی ہتھیار چلا دے اور فطرت کو اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے کا بھی موقع نہ ملے۔

آپ بتائیں جس سیارے پر روزانہ ہزاروں افراد بھوک سے مر جاتے ہوں، اس کے باسیوں کو زیب دیتا ہے کہ مریخ پر کمندیں ڈالیں۔ کہنے والے کہتے ہیں تحقیق کا مطمح نظر علم کا پھیلاؤ ہوتا ہے، پہلا قدم کسی خاص مقصد کے لئے نہیں اٹھایا جاتا۔ اس سفر میں انسانوں کے فائدے کے لئے کوئی ایجاد وجود میں آ جائے تو وہ ایک ثانوی فائدہ ہے۔ کتنی ہی ایجادات ہیں جن کے موجدین کے ذہن میں ان کا خاکہ تک نہ تھا، کسی فطری مظہر پر تحقیق کے دوران وہ ازخود منصہ شہود پر آ گئیں۔ یہ بھی خوب ہے گویا لا مقصدیت ہی مقصدیت ہے۔ اس کے برعکس اگر زمین پر بسنے والے انسانوں اور مظاہر حیات کے مفاد کو ہی سامنے رکھ کر علم و تحقیق کا سفر کیا جاتا تو آج یہ دنیا بہرحال اپنی موجودہ حالت سے مختلف ہوتی۔

انسان نامی دو پائے نے کہیں سے علم اور سچائی جیسے دو لفظ پڑھ لیے اور وہ بوجھ اٹھا لیا جس کا اہل نہ تھا۔ کہنے والے نے صحیح کہا تھا

”وکان الانسان ظلوما جھولا“

Facebook Comments HS