فطرت اللہ، اسلام کا نظریہ عدل اور امام شاہ ولی اللہ
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
مرزا غالب کا یہ شعر انسانی فطرت کے لا متناہی وصف کا ترجمان ہے اور یہ فطرت درحقیقت فطرت اللہ ہے جو انسانی صورت میں عکس ریز ہے۔ اس فطرت کو جو فی الوقت دنیا کے ساڑھے سات ارب انسانوں کے اندر موجود ہے کو مقصدیت دینے کا واحد اور ناگزیر تقاضا معاشرے کی عادلانہ تشکیل ہے۔ عدل کو بنیاد بنا کر جو سیاسی، معاشی اور سماجی نظام قائم کیا جائے گا وہی دین اسلام کے نظام عدل کا مظہر ہو گا جسے قرآن میں ”انا اللہ یاآمر بالعدل“ کے ذریعے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
انسان کی بے کنار فطرت کا اظہار جب معاشرے میں ہوتا ہے تو اس کا اثر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ کبھی جامد نہیں رہتا اور ہر لمحہ تبدیلیوں سے ہمکنار رہتا ہے۔ اس لیے عدل ایک اضافی (Relative) اصطلاح ہے جسے خاص زمانے کے خاص حالات کو مدنظر رکھ کر سمجھا جاتا ہے۔ جیسے بادشاہی نظام ایک وقت میں عدل کو قائم کر سکتا تھا لیکن اب بادشاہت یا خاندانی حکمرانی انسانیت کے لیے ظلم کا نشان ہے۔ اس لیے اس بات کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ ہر زمانہ خاص قوانین عدل کا متقاضی ہوتا ہے جبکہ دائمی و سرمدی حیثیت حکمت کو حاصل ہوتی ہے۔ تاریخ میں عدل کا اطلاق خاص زمانے کے تقاضوں کے مطابق کی گئی تشکیل کے صالح ہونے پر ہو گا اور آج کے صنعتی عہد میں پچھلے ادوار میں رہی حکمت کی بنیاد پر جدید صنعتی خطوط پر عادلانہ معاشرہ قائم ہو گا۔
فطرت کے ناگزیر تقاضوں، صنعتی عہد کی ڈیمانڈ، دین اسلام کے بنیادی اصول (عدل) اور تاریخ کو سمجھ کر اگر کسی نے جامع اور مربوط فلسفہ و فکر پیش کیا ہے تو وہ قطب الدین احمد المعروف امام شاہ ولی اللہ ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ نے ہندوستان کے زوال کے اسباب کو جان کر زوال سے نکلنے کا واحد راستہ ازسر نو معاشرتی تشکیل قرار دیا اور ”فک کل نظام“ (ظالم نظاموں کو یکسر بدل کر عادلانہ نظام کو قائم کرنے ) کا نعرہ بلند کیا۔
امام شاہ ولی اللہ نے اسی فکر پر ولی الہی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا کردار تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ برطانوی استعماریت کہ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا کے خلاف عظیم جدوجہد کی اور بارش کے لاتعداد قطروں کی طرح جان کا نذرانہ پیش کیا اور کسی محاذ پر ایک انچ بھی پیچھے ہٹ کر ظلم کو تسلیم نہیں کیا اور برطانوی استعمار کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس پر مزید کمال یہ کہ مولانا عبیداللہ سندھی جو ولی الہی تحریک کے عظیم سپوت ہونے کے ساتھ ساتھ امام شاہ ولی اللہ کی فکر کے سب سے مستند شارح ہیں نے صنعتی انقلاب کے تمام تر ارتقا اور سماجی نظریات سے امام شاہ ولی اللہ کی فکر کو ریلیٹ کیا جو آج کے انسانی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ اسلام کی جدید عمرانی تعبیر ہے۔ اسی کاوش کی بنا پر مولانا عبیداللہ سندھی امام انقلاب اور جدید مسلم ذہن کے معمار ہیں۔
انقلاب عبیداللہ سندھی کی تشریحات کے مطابق فطرت انسانیہ کے بطن سے پھوٹنے والی عالمگیر اخلاقی اقدار ”اخلاق اربعہ“ ہیں۔ اور یہ ”اخلاق اربعہ“ طہارت، اخبات، سماعت اور عدالت ہیں ”۔ نیز دنیا کے تمام مذاہب، فلسفوں اور اخلاقی نظاموں کا جوہر بھی یہی“ اخلاق اربعہ ”ہی ہیں۔ شاہ ولی اللہ کی تعبیر دین کی رو سے“ فک کل نظام ”کے تحت انقلابی عمل سے تمام باطل استحصالی نظاموں کو توڑ کر“ اخلاق اربعہ ”کی بنیاد پر نئے سیاسی، معاشی، معاشرتی، سماجی، عمرانی اور تہذیبی نظام کی بنیادیں قائم کرنا ہی آج کے عہد کا تقاضا اور دین اسلام کی عصری تعبیر ہے۔
اس فلسفے کی روح سے سب سے بنیادی نظریہ وحدت انسانیت ہے کہ تمام انسانوں میں رنگ، نسل، زبان، عقیدہ، جنس کے فطری فرق کے باوجود وحدت ہے اور یہی وحدت سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کی بنیاد ہو گی جو معاشرے میں کسی بھی طرح کی تفریق کا تریاق ہے اور انسانوں میں فطری فرق (diversity) گلدستے میں جمع پھولوں کی مانند ہیں۔
وحدت انسانیت کے بنیادی نظریہ کی اساس پر سیاسی نظام میں عدل کا نظریہ جمہوریت ہے کہ خلق خدا پر حکمرانی کا حق کسی جبر اور آمریت کے برعکس عوام کی منتخب شدہ پارلیمنٹ کو ہو گا، عوام کے حق حکمرانی کو کسی بھی عنوان سے تسلیم نہ کرنا سیاسی اعتبار سے ظلم کا نظریہ ہو گا۔
معیشت میں عدل کا نظریہ ”معاشی عدل“ کا نظریہ ہے جسے آج کی پولیٹیکل اصطلاح میں سوشلزم کہا جاتا ہے، سوشلزم جس کی روح سے دولت کی بنیاد محنت ہے کے علاوہ کوئی بھی نظریہ سرمایہ داریت (ظلم) کا نظریہ ہو گا جس میں کہیں نہ کہیں محنت پر سرمائے کی فوقیت کا ناسور کارفرما ہو گا۔
وحدت انسانیت کی اساس پر سماجی عدل کا نظریہ سیکولرازم ہے کہ جس میں تمام انسان بنا کسی تفریق کے ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے، بلا امتیاز سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کے علاوہ ہر نظریہ فرقہ واریت اور گروہیت کا شاخسانہ ہو گا۔
قومی اور بین الاقوامی تشکیل میں عدل کا نظریہ نیشنلزم اور نظریہ قومی جمہوریت ہے کہ جس میں قوم کی تشکیل کی بنیاد وطنیت ہو اور اس قوم کی وحدت کی اساس جغرافیہ، زبان اور ثقافت ہو جس کی وہ قوم ہزاروں سال سے وارث ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم فیڈریشن میں شامل ہو تو قوم کی رضامندی اور برابری کی نمائندگی کا حق حاصل ہو، وسائل کو تصرف میں لانے کا پہلا اختیار ہو اور زبان، ثقافت اور جغرافیہ کو تحفظ حاصل ہو۔ اقوام کے مندرجہ بالا حقوق کے علاوہ کسی بھی تشکیل کا نظریہ اقوام کی بے چینی اور تقسیم کا باعث ہو گا۔
نیز ”اخلاق اربعہ“ پر استوار جدید سیاسی، معاشی، معاشرتی، سماجی، عمرانی اور تہذیبی نظام سیکولرازم، سوشلزم، نیشنل ازم، جمہوریت اور قومی جمہوریت سے موسوم ہو گا۔ یہی روح اسلام کا عصری قالب ہے اور اسلام کی اس فکر کے علاوہ ہر تعبیر عصر حاضر سے (irrelevent) متصادم ہے۔ ان نظریات پر ہمہ گیر انقلاب سے ایک ایسا سماج تعمیر ہو گا جس میں فرد کی ہمہ گیر فلاح و بہبود، نشوونما اور ترقی ہو گی اور جہاں فرد کی بے پناہ و لامحدود باطنی تخلیقی قوتوں کے چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ یعنی سماج جملہ افراد معاشرہ کا نگہبان ہو گا اور فرد معاشرے کا مفید ترین رکن ہو گا۔ یہی تاریخ کی حرکیات کا اٹل اور لا ابدی تقاضا ہے۔


