زندگی اے زندگی
زندگی کی سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے نکلیں تو شاید بات بہت دور تک نکل جائے گی۔ تمام زندگی ہم ایک لایعنی جدوجہد میں گزار دیتے ہیں اور اپنے آس پاس ہر طرح کی نعمتیں، آسانیاں جمع کرنے میں زندگی تج دینے کو ہر لمحہ تیار ہوتے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ یہ جدوجہد تیز سے تیز تر ہو رہی ہے۔ آئیے آج کی تحریر میں اپنی اپنی زندگیوں کو آج کل کے تناظر میں ایک آئینے میں دیکھتے ہیں :
ایک بچے کی زندگی کیا ہے؟ مسلسل پڑھائی، گریڈ، امتحان، مقابلے کا جنون۔ اس تمام کے لیے، سکول، ٹیوشن، قاری صاحب، کبھی کبھی کھیل، یا پھر موبائل فون، آج کل ٹک ٹاک سے آمدنی کے حصول کی ایک اور داستان۔ ان سب کے نتیجے میں بچے وقت سے پہلے تھکنے اور بیمار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جس ہسپتال میں جائیے، وہاں بچوں کی ایسی ایسی بیماریاں سننے کو ملتی ہیں، کہ دل رک سا جاتا ہے۔ اتنے چھوٹے بچے اور ایسی تکلیف۔ اس کا سائنسی نام کچھ بھی ہو، ہمارے لائف سٹائل کا بہت سا حصہ بھی اس کی بربادی میں شامل ہے۔ نہ ان بچوں کو خالص ہوا پانی میسر ہے، نہ خالص خوراک، نہ ورزش، نہ ان کو وہ بے فکری میسر ہے جو بچپن کا فطری تقاضا ہے۔ فطرت کے خلاف جا کر کیسے حسب منشا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں؟
ایک گھریلو خاتون کی زندگی دیکھیے جو بہ ظاہر تمام تکالیف سے دور گھر میں محفوظ زندگی گزار رہی ہے، نہ اسے کمانا پڑتا ہے، نہ ٹریفک کی مشکلات کا سامنا ہے۔ بلکہ اس کا شوہر اس کی ضرورت کی ہر شے، گھر میں ہی مہیا کر دیتا ہے۔ لیکن کیا وہ اس پہ خوش اور مطمئن ہے؟ 100 میں سے کتنے فی صد خواتین ہم اپنے اردگرد ایسی دیکھتے ہیں؟ اس کے بجائے ان کے اندر ایک اور نا آسودگی بسی ہوئی ہے۔ گھر کی نامکمل ضروریات کا رونا روتے رہنا، نئے برانڈز کی شاپنگ کے لیے شوہر کو مجبور کرنا، بچوں کے ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اپنے ارد گرد خواتین کی زندگی کو دیکھ کر مقابلے کی فضا میں زندہ رہنا۔ ایسی فضا، جس میں حاصل نعمتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور لاحاصل کی تمنا بھگائے لیے جاتی ہے۔
(حالانکہ انہی خواتین کی زندگی ان کے گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کی نظروں میں قابل رشک ہوتی ہے )
اب آ جائیے صاحب خانہ کی جانب۔ جو صبح سے شام تک انتھک محنت کیے جاتے ہیں۔ کوئی ایک تو کوئی دو نوکریاں کرتا ہے۔ کوئی کاروبار کی بھول بھلیوں میں گم ہے، گھر سے نکل کر ٹریفک کی تکلیف اور بازار کے شور سے تنگ آ کر سکون کی تلاش میں گھر واپسی ہوتی ہے، تو بھی تسکین نہیں ملتی۔ ہل من مزید کا ورد جاری ہے۔ اگر گھر کرائے کا ہے تو اپنے گھر کے لیے کوشش کرنی ہے۔ چھوٹا گھر ہے تو بڑے گھر کی آرزو ہے۔ موٹر سائیکل ہے تو گاڑی لینی ہے، گاڑی ہے تو اگلے ماڈل کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ بچوں کی فرمائشیں، بیگم کی آرزوئیں۔
زندگی کے آغاز میں خواب دیکھے جاتے ہیں کہ گھر میں بچوں کی قلقاریاں گونجیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہسپتالوں کے چکر، دینا دلانا، ہمیں اس قدر تھکا دیتا ہے کہ ان قلقاریوں سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ اس پہ طرہ یہ کہ سال بھر بعد ہی سکولوں میں داخلے کی دوڑ دھوپ کا آغاز ہو جاتا ہے، جس میں مصروف اور فکر مند رہ کر ہم زندگی کا وہ حصہ گنوا بیٹھتے ہیں، جو ہمیں اس بچے کے ساتھ گزارنا تھا۔
پھر اس بچے کی الم ناک کہانی کس سے کہیں، جو ہوش سنبھالتے ہی یہ سنتا ہے کہ اس کی زندگی کا اول و آ خر مقصد زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنا اور اعلی ٰ گریڈ لانا ہے۔ وہ اپنے تئیں اس کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ والدین اس کے لیے جو ٹارگٹ خود سیٹ کر دیتے ہیں، یا کسی رشتے دار کے بچے کی صورت اسے ایک ریس میں جھونک دیتے ہیں، یا تو وہ بچہ اسے حاصل کر لیتا ہے، اور اسے ہی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے، یا ناکامی کی صورت میں حوصلہ ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے سامنے کوئی اور پلان ہوتا ہی نہیں۔ ایسے کتنے ہی بچے ہر سال مطلوبہ نتائج نہ لا سکنے پر خود کشی کرتے اور عطا کی گئی زندگی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
جو طلبہ و طالبات مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں، انہیں زندگی کی دوڑ میں نوکری کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ نوکری حاصل کر کے بھی اطمینان نہیں ملتا اور اگلے درجوں، گریڈوں کا لالچ اپنے پھن پھیلائے جاتا ہے۔ سرکاری نوکریوں، پرائیویٹ اداروں میں ہر شخص اپنے ساتھ کام کرنے والے سے خوف زدہ ہے کہ کہیں وہ اس کی جگہ نہ لے لے۔ حالانکہ وہ خود اپنے سے اوپر والے کی جگہ لینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ اسی حکومت کی جنگ میں کتنی جانیں چلی جاتی ہیں، مگر نوکری نہیں جاتی۔ صائمہ آفتاب کا انتہائی بر محل شعر یاد آتا ہے :
سب کو اس کی پڑی نہیں ہوتی
نوکری زندگی نہیں ہوتی
ہم ہر قابل حصول شے کی خاطر اپنی زندگیاں داؤ پہ لگانے کھڑے ہوتے ہیں۔ آخر کیوں؟
محض اس لیے کہ ہم اسے ودیعت کردہ خزانہ نہیں سمجھتے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ نعمت ہے جو ایک بار ملتی ہے۔ ہم دنیا کی ہر شے کی حفاظت کے لیے سر توڑ کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی ترجیحات میں اپنی زندگی کو ہی سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ یہ خزانہ ایک بار کھو گیا تو پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ ہر آسائش، ہر نعمت، ہر ضرورت ہم کبھی نہ کبھی پا سکتے ہیں، اگر نہیں پا سکتے تو زندگی کی دولت۔ افسوس یہ ہے کہ یہ بات سمجھنے میں دیر ہو جاتی ہے۔
ہم مسائل کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں داؤ پہ لگاتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ کوئی بھی مسئلہ انسان سے بڑا نہیں ہو سکتا اور کوئی بھی شے، انسانی جان سے زیادہ قیمت نہیں رکھتی۔ پھر کیوں افراتفری کا شکار ہو کر بھاگم بھاگ زندگی گزار کے، ہم خود کو دواؤں، ڈپریشن اور دیگر بیماریوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ کیوں نہیں حاصل کے سکون پر مطمئن ہو جاتے؟ اپنے آس پاس کی فکر کیے بغیر اپنی مٹھی کی جانب دیکھ کر اپنے پاؤں کیوں نہیں پسارتے؟ جو میسر ہے اس سے لطف اندوز کیوں نہیں ہو سکتے؟ اپنے اپنے گھرانوں کو اپنی جنت کیوں نہیں سمجھ لیتے؟ فی زمانہ اس کی بہت ضرورت ہے۔ کیونکہ جب اس جنت کا ایک شخص اپنی زندگی کو گھن لگا بیٹھتا ہے، اور اس دنیا سے چلا جاتا ہے، تو اس کے پیچھے اس کے پیاروں کی تمام عمر جہنم میں گزرتی ہے۔
ایسا نہیں کہ غم روزگار کو حقیقت نہ جانا جائے، یا زمانے کے ساتھ چلنا گناہ ہے۔ یا خدا نخواستہ اس تحریر کا یہ مقصد ہے کہ اپنی اولاد کے لیے بڑے عزائم نہ رکھے جائیں۔ یہ سب ضروری ہے، خوب سے خوب تر کی تلاش بھی انسانی نفسیات کا اہم عنصر ہے۔ لیکن اسے اعصاب پر سوار کر لینا اور پھر اسے اتنی اجازت دینا کہ یہ آپ کی زندگی ختم کر لے، نہیں، ہر گز نہیں۔ زندگی تو خوبصورت ہے، جینے کے لیے ہے۔ قدرت کی ہر نشانی میں، ہر پنکھڑی میں، ہر معصوم قلقاری میں، ہوا کے خوشگوار جھونکے میں، ہر آتی جاتی سانس میں۔
سو، اے حساس لوگو۔ اپنے اپنے مسائل کو ہرانا سیکھو۔ اپنے اطراف دیکھو تو تم سے بھی کمزور لوگ کیسی چومکھی لڑ رہے ہیں۔ بہادری تو یہ ہے کہ ان مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیو۔ تمہارے پیارے کم میں بھی خوش رہ لیں گے، اگر تم ان کا ہاتھ تھامے رہو گے، ان کے ساتھ ساتھ رہو، ہمیشہ رہنے کا یقین رکھو، تو ان کی زندگی میں بھی اجالا رہے گا۔
ڈاکٹر فاخرہ نورین کی نظم ایسے سبھی پیاروں کے نام، جن کی قیمتی جانوں کا زیاں ایسی ہی کسی کہانی کے انجام کے طور پر ہوا:
جلد بازی میں مرتے ہوئے دوستو
تھوڑا زیادہ جیو
سانس لو، کھل کے ہنسنے کے لمحے رکھو
پھول پر بیٹھے بھنورے کی مستی میں کچھ دیر تک مست ہو کر جیو
شہد کی مکھیوں سی مشقت سے جتنا بھی ممکن ہو، اتنا گریزاں رہو
زندگی کو چکھو
جگنؤوں کی طرح تمتماہٹ بہت
نور پھیلانے کے واسطے
موم دونوں سروں سے جلانے کی کوشش کبھی مت کرو
روشنی کچھ ہمارا ہی ذمہ نہیں
تھوڑا تھوڑا جلو، یار تھوڑا جلو
زندگی کی مرمت طلب روڈ پر
اپنی رفتار دھیمی رکھو
برق رفتار گاڑی کو ٹوٹی ہوئی روڈ کھا جاتی ہے
تھوڑا دھیرے چلو
جین جوگے میرے دوستو
مت اچانک مرو
چار دن زندگی کی اگر عمر ہے
چار دن تو جیو


