الیکشن: عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا


:

ہم پوری قوم اقتدار سے اس قدر مرعوب ہیں اور صاحبان اقتدار کا جاہ و جلال کچھ ایسا ہمارے اذہان میں سرایت کر گیا ہے کہ پوری قوم سارا سال الیکشن الیکشن کھیلتی ہے۔ شہر میں نکل پڑیں ہو ہی نہیں سکتا کہ کہیں انتخابات نہ ہو رہے ہوں۔ ہر فرد کسی نہ کسی پریشر گروپ کا حصہ بننا چاہتا ہے، بات اور طرف نکل جائے گی لیکن میں اکثر کہتا ہوتا ہوں کہ ہر شخص یہاں بچوں کا نیلسن منڈیلا بننا چاہتا ہے اور ہر پاکستانی شہری اپنی ذات میں ایک حامد میر ہے اور اس کے پاس اندر کی خاص خبر ہوتی ہے۔

خیر بات الیکشن کی ہو رہی تھی، یقین مانیں ہر شعبہ میں بدستور الیکشن چل رہا ہے، اس ملک میں ایسا کوئی دن خالی نہیں جا سکتا جس دن الیکشن نہ ہوئے ہوں اور آپ کو دو کمرے کے دفتر پر تین کمروں کے سائز کا پوسٹر لگا ہوا نظر نہ آئے جس میں امیدوار اکثر کہہ رہے ہوتے ہیں

عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے ٹکرا بیٹھا ہوں

کس نے کہا تھا کہ تم 2 کمرے کے دفتر میں ذاتی فائدے کے لیے سینگ پھنساؤ، 5 تو بندے ہوتے ہیں دفتر میں، نعرے ایسے اور آیات ایسے لکھی ہوتی ہیں جیسے صلاح الدین ایوبی موصوف ہی ہیں۔

ویسے الیکشن ہوتے بھی بڑے دلچسپ ہیں، کسی شہر میں نان بائی ایسوسی ایشن کے انتخابات کا پوسٹر دیکھا اس کے عہدیداروں کی تعداد ہی 45 تک جا پہنچی تھی، پریس سیکرٹری علیحدہ، انفارمیشن سیکرٹری علیحدہ، جوائنٹ سیکرٹری منتخب علیحدہ اور جوائنٹ سیکرٹری اعزازی علیحدہ، مجلس عاملہ کے ارکان کی تعداد 70 تھی۔ نیچے ان کے الیکشن کمیشن کو چیف آرگنائزرز کا نام دے کر 40 بندے ادھر بھی بھگتا لیے گئے تھے۔ اب آپ کہیں گے زیادہ ہو رہا ہے لیکن یہ سچ ہے یہاں پنڈی کے وہ والے ٹیکسی ڈرائیور تو آپ کو ٹکرے ہی ہوں گے جو سارا دن ایک دوسرے کی گاڑی کی سیٹوں پر بیٹھ رہتے ہیں اور ایکا کر کے ماشاءاللہ بے کار دن گزار دیتے ہیں اور مناسب یا کچھ کم کرایہ پر سواری نہ پکڑ کے اپنی ناک کٹوانے سے بچا لیتے ہیں، ان کے بھی الیکشن ہوتے ہیں، یہ بھی عجیب مخلوق ہیں سواری کو انکار کرنے کے بعد ان کے چہرے پر جس قدر اطمینان ہوتا ہے رشک آتا ہے ان پر ، تو میں کہہ رہا تھا کہ ان کے بھی الیکشن ہوتے ہیں اور الیکشن کے دن تو ان کے پاس سواریاں نہ پکڑنے کا اور بھی جینوئن اور بہترین جواز ہوتا ہے۔ ان کی الیکشن کی مہم دیکھیے گا جس میں کسی پر سب سے بڑا الزام ہی یہی ہوتا ہے کہ یہ اتنا چھوٹا شخص ہے کہ سواری کی پہلی بولی پر ہی حامی بھر لیتا ہے یا یہ بندہ اس قدر نیچ ہے کہ یہ ویہلا بیٹھنے کی بجائے سواری کو کم کرایہ مانگ کر نمبر کراس کر کے چھوڑنے چلا گیا تھا۔

ایک ہی پیشے میں آگے پھر ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد ہیں، یعنی ایک ہی شعبہ کی 60 سے زائد ایسوسی ایشنز ہوتی ہیں اور ایک ایک بندہ آٹھ سے نو عہدے بیک وقت بڑے فخر سے اپنی پاس رکھے ہوتا ہے جو صرف کسی بھی شخص کی شاید ذاتی تسکین و تسلی کے احساس کے لیے ہی ہوتے ہیں۔

تاجر یونین تو سارا سال الیکشن لڑتی ہے، ان کو چھوڑیں میں خود اپنے ادارے میں الیکشن لڑ کر بچوں کا شہباز گل بننے کی کوشش کر چکا ہوں۔

اب تو سچی مچی کے بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہو گیا، اس الیکشن کے لیے کئی لوگوں نے رابطہ مہم چلا رکھی ہے وہ پہلے ہی آپ سے کہہ دیتے ہیں کہ اپنے مقامی لیول پر کام ہوتے ہیں بہت ضروری ہے آپ کا بھی فائدہ ہے اس لیے بس آپ نے ساتھ دینا ہے۔

آیات تو لکھ نہیں سکتا لیکن سب آپ کے ذہن کی دیوار پر سامنے آ رہی ہوں گی انتخابی نشان پھول، چاند، کرسی والے عظیم لیڈروں کی مخصوص شکلوں کے ساتھ۔

جس طرح آج کل یوکرین حالت جنگ میں ہے ہم ہمہ وقت حالت الیکشن میں ہوتے ہیں۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں بس ایسے ہی لگتا تھا کہ یہ انتخابات والا معاملہ شاید اور بھی لوگوں نے نوٹ کیا ہو اور ان کے دل و دماغ کی ترجمانی ہو جائے، باقی کسی کے ذاتی کام نکلتے ہیں، انا کو تسکین پہنچتی ہے تو مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں فرش کے سارے خداؤں سے ٹکرانے میں اس کے لیے رکاوٹ بنوں۔ چلتا ہوں آج ہمارے ہاں محلے کی مسجد کمیٹی کے انتخابات چل رہے ہیں۔ عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا۔

Facebook Comments HS