”بیل آؤٹ“ کے دھرپت سر


آئیے آج ہم آپ کو ایک ایسے ملک لئے چلتے ہیں جہاں کسی کھیل کے کوئی اصول یا قاعدے نہیں ہیں، مائٹ از رائٹ کے تمام ضابطے اس ملک کی ایسی شناخت بن چکے ہیں کہ یہاں کے حکمرانوں میں ”رسوائی“ اور اخلاقیات کا مکمل نکالا ہو چکا ہے، یہ وہ ملک ہے جہاں کے عوام شاہ دولا کے ایسے چوہے بنا دیے گئے ہیں جن کی کھوپڑیاں بھی تکون صورت بنا دی گئی ہیں، اس ملک میں ہر جھوٹ، فریب اور دھوکے کو لوگ اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر اسے گلے سے لگائے بہت طمطراق سے گھومتے ہیں اور ریاست کے دیے گئے بیانیے کو کچھ سالوں کے تجربے کے بعد بھولے بادشاہ کی طرح بھول کر دوبارہ سے طاقتور اشرافیہ کو ”بیل آؤٹ“ کر کے اپنے طور تبدیلی کی تازہ ہوا سمجھ لیتے ہیں۔

اس ملک کی سیاست میں طاقتور افراد کے احتساب کی نہ کوئی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور نہ ان کی لوٹ کھسوٹ پر کوئی ہاہا کار ہوتی ہے، اگر کبھی کبھار دل چاہتا ہے تو ذائقے کی تبدیلی کے لیے طاقتور افراد کے جھانسوں میں آ کر عوام ”طاقتوروں“ کی پسند کے چہروں کو قبول کر کے انہیں اپنی مرضی و منشا اور اپنی پسند قرار دے دیتے ہیں اور پھر دوبارہ سے انہی طاقتور افراد کے لائے گئے سیاسی چہروں کی واہ واہ پر مجبور ہوتے ہیں، پھر یہی اقتداری ایوانوں کے سیاسی ماہر اپنے طاقتور آقاؤں کو نہایت ہوشیاری سے عوام کے ذریعے ”بیل آؤٹ“ کروا کر اسی عوام پر پھر ایک نئے روپ میں مسلط کر دیتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس ملک کی بنیاد بھی فرنگیوں کے ہاتھوں رکھی گئی تھی اور یہ ملک اب تک انہی فرنگیوں کے دیے گئے قوانین اور ایکٹ کے تحت چلایا جا رہا ہے، اس ملک کی خاص بات فرنگیانہ فرمانبرداری ہے، جس کے تحت ”فرنگی فرمانبرداروں“ کی پالتو مالک و مختار طاقتور اشرافیہ کو تمام تر عوام دشمن اور جابرانہ اختیار استعمال کرنے کی مکمل اجازت ہے۔

اس ملک کے سیاسی رواج کا ایک الگ آہنگ ہے کہ یہاں سیاست سے لے معیشت اور خارجہ امور ”صرف“ سیاستدان ہی نہیں چلا سکتے، البتہ چند مراعات کے حامل یہ سیاستدان طاقتوروں کو عوام کے غیض و غضب سے بچاتے رہتے ہیں اور آخر میں عوام کی نظر میں ملک کی تمام تر خرابی کا ذمہ دار صرف ”سیاستدان“ ہی قرار پاتا ہے۔

اس ملک میں ”فرنگی فرمانبردار گھوڑوں“ کا اصطبل بھی ہے، جہاں پر یہ سیاسی گھوڑے سدھائے جاتے ہیں، اور ہر گھوڑے کے دوڑنے کی رفتار کا تعین کر دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی گھوڑا اپنی طے کردہ رفتار سے زیادہ دوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو دوڑ میں شامل ”طاقتوروں کے گھوڑے“ انگڑی لگا کر طے شدہ رفتار کی خلاف ورزی کرنے والے گھوڑے کو گرا دیتے ہیں یا پھر گھوڑے کو لنگڑا لولا کر دیا جاتا ہے، اور اگر کسی گھوڑے نے لنگڑے لولے ہونے پر بھی اپنے ”ہنہنانے“ کو بند نہ کیا تو وہ گھوڑا کبھی بھی کسی حادثے کا شکار کیا جا سکتا ہے، بس سمجھ لیجیے کہ ”سیاسی گھوڑوں“ کے اس ”اصطبل“ کا کام ملک کی طاقتور اشرافیہ کو کسی بھی الزام سے بچانا یا ”بیل آؤٹ“ کرانا اہم اور قومی ذمہ داری ہے، اور اچھی ذمہ داری نبھانے والے یہ سیاسی گھوڑے طاقتوروں کی نظر کرم کا ہمیشہ نشان بھی رہتے ہیں۔

مگر اب اس ملک میں مغرب کی جدید ٹیکنالوجی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس ٹیکنالوجی کے ہاتھ پیر باندھنے کی کوششیں آرڈیننسز کے ذریعے کی جاری ہے، مگر ٹیکنالوجی کا وہ سرا ”طاقتوروں“ کے ہتھے نہیں چڑھ پا رہا ہے جو خاموشی سے عوام تک پہنچ جاتا ہے یا جس سرے کو قید کیا جا سکے، شاید یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے ”طاقتور اشرافیہ“ کی مقدس گائے کی حیثیت داؤ پر لگ چکی ہے، آج کل اس کمبخت ٹیکنالوجی کے سبب ”طاقتور اشرافیہ“ اپنے مقدس مقام کو جوں کا توں رکھنے کے لیے کافی پریشان ہے۔

ہاں البتہ اپنے مقدس پن کو سلامت رکھنے کی کوشش میں یہ غیر مرئی طاقت اس جدید ٹیکنالوجی کے ہر ذریعے کو استعمال کرتی ہے مگر عام دسترس تک اس ٹیکنالوجی کے فوائد نہیں پہنچنے دینا چاہتی، اب دن بدن ”طاقت“ کو عوام سے دور کرنے کی پابند ٹیکنالوجی کی حکمت عملی بھی بے سود سے دکھائی دے رہی ہے، مگر مجال جو ”طاقت“ اپنی پسپائی کو تسلیم کر لے، اسی بنا اپنی طاقت کو چھپانے کے لیے گو طاقت کے ماہرین نے اپنی مقدس سلامتی خاطر اسے ”جمہوریت“ کے کپڑے پہنائے مگر جمہوریت کمبخت بھی بار بار کپڑوں سے نکل کر مقدس طاقت کو پریشان کرتی رہتی ہے اور بار بار طاقت کے ”بیل آؤٹ“ کرنے کا کھیل بھی شاہ دولہ عوام کی تکون کھوپڑی ہکا بکا ہو کر استعجاب سے دیکھ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے اگلے مرحلے میں اس ملک کے عوام کی بنائے جانے والی شاہ دولہ کی کھوپڑی گول ہو کر کہیں سوچنے سمجھنے کے قابل نہ ہو جائے۔ مگر دوسری جانب ٹیکنالوجی اور معلومات کے بہاؤ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش میں جتے ہوئے ہیں، اسی سبب اب طاقت کے اردلی یہ کہتے ہوئے خوشی سے نہیں سما رہے کہ ”طاقت“ اب ”غیر جانبدار“ ہو چکی ہے اور بس عوام کے لیے آئندہ کی آزاد کی گئی جمہوریت خوشی اور حقوق کے تمام تر سامان سے لبریز ہوگی۔

مگر یہاں بھی طاقت کی جانب سے دی گئی جمہوریت پر اس ملک کے عوام کا شک و شبہ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے جہاں ”سیاسی اصطبل کے گھوڑے“ پریشان ہیں وہیں اصطبل کو مراعات مہیا کرنے والی مقدس طاقت بھی فکر مند ہے، اور طاقت کو بار بار کی ”بیل آؤٹ“ کرنے کی کوششیں بار آور ہونے میں مشکل کا شکار سی نظر آ رہی ہیں۔

اب اس ملک کے راگ ساز کی بپتا بھی عجیب و غریب ہے، یہاں دھرپت کی موسیقی کے کلاسیکل کارنس کو ان بے سروں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو سر تال کے وجدانی تاروں کی چال سے ناواقف ہونے کی بنا پر اپنی مرضی کے الاپ جوڑ کر کبھی اسے قومی سلامتی الاپ، کبھی خود مختاری الاپ اور کبھی عوام کے جمہوری حقوق کے الاپ میں ڈھالنے کا کام کرتے رہتے ہیں، مگر موسیقی سے نا بلد یہ ماورائے آئین طاقتور بھول جاتے ہیں کہ بغیر سر تال اور آہنگ یہ مذکورہ الاپے گئے راگ عوام کو بہت دیر تک سحر زدہ نہیں کر پاتے، اب کچھ سالوں سے انصاف اور قانون کی حکمران ریاست کا الاپ شروع کیا گیا ہے جس کے سننے سے اس ملک کی عوام دن بدن نہ صرف مفلوک الحال ہو رہی ہے بلکہ اس الاپ کے بے سرے پن سے نجات پانے کے درپے ہے اور عوام نے اس انصاف اور قانون کے راگ سننے سے نجات کا یہی طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ یہاں کی قوم اخبارات پڑھنے سے تو پہلے ہی اکتا چکی تھی، اب عوام جدید ٹیکنالوجی سے مزین الیکٹرانک میڈیا کے ریاستی الاپ کو بھی سننا گوارا نہیں کرتی، اور رات کے سمے تفریح و طبع یا سکون کی نیند سونے کو ترجیح دیتی نظر آتی ہے۔

سر سنگیت کا یہ حشر دیکھ کر اب اس ملک کے عوام طاقت کے ایوانوں کی کسی بھی قومی سلامتی یا انصاف بر مبنی ریاست سے مکتی ہونا چاہتے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب عوام ہولی، دسہرہ، شب برات کے پٹاخے چھوڑ کر محظوظ ہو جاتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں کی جانب سے کسی بھی بیانیے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ابھی طاقت کے ماورا آئین حاکموں کو دیے گئے ”جمہوری بیل آؤٹ“ کے تمام پرت عوام کے سامنے آئے نہیں ہیں مگر قوی امید ہے کہ یہ بیل آؤٹ الاپ بھی اپنے بے سرے پن کی وجہ سے جلد حیثیت کھو بیٹھے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 15 posts and counting.See all posts by waris-raza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments