ہارس ٹریڈنگ مردہ باد
وطن عزیز میں موسم گرما کی ابتداء پر ہی جہاں موسم میں گرمی کی شدت ہوئی وہیں پر ملکی سیاسی درجہ حرارت بھی اپنے ابال کے عروج پر پہنچ چکا۔ شہر اقتدار میں مارچ کے آغاز سے ہی پی ڈی ایم کی طرف سے تبدیلی سرکار کو رخصت کر کے گھر بھیجنے کی ہنگامہ آرائی کی حد تک کوششیں جاری ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس وقت سیاسی معاملات تناؤ کی جانب بڑھ رہے ہیں جن کا نتیجہ خطرناک حد تک بھی جا سکتا ہے جیسا کہ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین حکومت اور اپوزیشن دونوں کو تنبیہ کر چکے ہیں کہ کوئی مارا یا مروایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد آئندہ پیر 21 مارچ والے دن پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم کی مشترکہ میڈیا کانفرنس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت کو سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیر والے دن اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہ کی تو وہ ایوان کے ہال سے نہیں اٹھیں گے اور پھر وہ دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کا اجلاس کیسے کرواتی ہے۔
ایک طرف وطن عزیز 23 مارچ 2022 کو 75 واں یوم پاکستان منانے جا رہا ہے جس دن اسلامی سربراہی کانفرنس کی دوسری بار میزبانی شہر اقتدار اسلام آباد کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن حکومت کے خلاف سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہی۔ جس کا نتیجہ ملک میں انتشار اور انارکی کی صورت میں نکلنے کا خدشہ ہے۔ جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو تصادم اور ہنگامہ آرائی سے ہٹ کر سیاسی حل کی طرف آنا ہو گا۔ ویسے بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دورانیہ اب ڈیڑھ سال باقی رہ گیا ہے اپوزیشن کو چاہیے کہ حکومت کو اپنا مقرر کردہ وقت پورا کرنے دے اسی میں ریاست پاکستان کا سیاسی نظام مضبوط ہو گا کہ وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے۔
حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی وزیراعظم عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم کے حق میں ووٹ دے کر ملکی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہوتے رنگے ہاتھوں پکڑے جا چکے ہیں جس پر حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایسے ارکان اسمبلی کے بارے میں تشریح کرے کہ آئین اس بارے میں منحرف ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم کر سکتا ہے جو اپنی ہی سیاسی جماعت کے منتخب وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیں۔
پیر 21 مارچ کو 1 بجے سپریم کورٹ کی طرف سے ان منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت کے خاتمے کا فیصلہ آنے پر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش ہونے سے قبل ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھے گی۔ تبدیلی سرکار کے کپتان اگر ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہونے والے اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی کو تاحیات سیاست سے آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں سنہرا باب رقم ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کی جانب سے اپنے منتخب کردہ ان منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں نے ثابت کر دیا کہ کپتان کے متوالے وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کا قلع قمع کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے بھرپور ساتھ ہیں۔ وطن عزیز کی پوری قوم کو یک زبان ہو کر کہنا ہو گا ”ہارس ٹریڈنگ مردہ باد“


