سندھ کے شہر ڈرگھ بالا میں سندھولاجی


ڈرگھ بالا ضلع دادو کی تحصیل کے کاچھو کے صحرا میں تاریخی شہر ہے۔ یہ شہر سندھ میں میاں نصیر محمد کلھوڑو ( 1692 ء۔ 1657 ء) کے دور میں میانوال تحریک کے سرگرم کارکنوں اور سپہہ سالاروں تالپور امیروں نے قائم کیا تھا۔ کلھوڑوں سے تالپوروں کے دور تک میاں نصیر کلھڑو کا مرکزی گاؤں گاڑھی ضلع دادو تحصیل خیرپور ناتھن شاہ کے بعد شہر ڈرگھ بالا مسجدوں اور مقبروں کی تعمیرات اور ان کی دیواروں پر فریسکو نقش نگاری کے فن اور گاری گری کے مرکز رہے۔ یہاں کے معماروں اور کاریگروں نے خوب شہرت حاصل کی۔ اسلامی، مغل اور راجپوتانہ آرٹ آف پینٹنگ سے متاثر ہو کر ان آرٹسٹوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا اور اپنا نیا سندھین آرٹ آف اسکول کی بنیاد رکھی اور سندھی آرٹ آف پینٹنگ کو متعارف کروایا۔

دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے موجودہ ضلع دادو سے شمال میں ضلع قمبر شہداکوٹ تک اور بائیں کنارے کے ضلعوں میرپور خاص، ٹنڈو آدم، حیدرآباد سے لے کر شمال میں سکھر تک مسجدوں اور مقبروں کی دیواروں پر اسلامی، مغل اور سندھی آرٹ آف پینٹنگ کی شاندار مثال موجود ہے۔

آرٹ کے فن کے تسلسل کو ڈرگھ بالا شہر کے کاریگروں نے اب تک برقرار رکھا ہے مگر یہاں ذکر کرنا ہے ایک اور فن یا آرٹ کا جو فریسکو نقش نگاری سے الگ اور مختلف ہے۔ میں اس فن کو کاریگری کے فن کا تسلسل سمجھتا ہوں۔ ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے شہر ڈرگھ بالا کے شہر کے آرٹسٹ عبدالرحمان اتیرو نے اپنے فن کے کمال سے اپنے گھر میں ہی چھوٹی سی سندھولاجی قائم کی ہے۔ جس نے مقامی طور پر لوگوں کو حیران کن حد تک متاثر کیا ہے۔ اس نے یہ چھوٹا سا میوزیم اپنے ذاتی خرچ پر اپنے گھر میں ہی قائم کیا ہے۔

عبدالرحمان اتیرو نے اپنی مدد آپ کے تحت سندھ کی ثقافت کو نشامبر کیا ہے۔ اس نے مثال قائم کی ہے کہ سندھ میں آج بھی ٹیلینٹیڈ آرٹسٹ موجود ہیں جو اپنے فن میں کمال رکھتے ہیں۔ عبدالرحمان اتیرو سندھ یونیرسٹی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سندھولاجی کے میوزیم سے متاثر ہو کر کام کرنا شروع کیا۔ اس نے لوہار، کارپینٹر، کمار (کمبھار) کی دکانوں کے ساتھ ساتھ کنوئیں سے پانی بھرنے والی عورت، گھروں میں ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکی چلاتی عورت، ہاتھ سے سویاں بنانے والی عورت اور دیگر فن پارے بنائے ہیں۔ اس نے مجسمہ سازی اور آرٹ کا اعلی مظاہرہ کیا ہے۔

عبدالرحمان اتیرو نے سندھولاجی سے ایک قدم آگے اٹھا کر فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ سندھولاجی میں کمار، کارپیٹر اور دوسرے بنائے گھر یا دکانیں ساکن ہیں مگر اس آرٹسٹ نے انہیں متحرک دکھایا ہے۔ سارے مجسمے کام کرتے تحرک میں نظر آتے ہیں۔ پانی کنوے سے نکلتے مٹکے میں پڑتے، عورت ہاتھ کی چکی چلاتے، سویوں کی مشین چلتی دکھائی ہے۔ مطلب سب تحرک میں ہیں جب کہ سندھ یونیورسٹی میں قائم سندھولاجی میں ایسا نہیں ہے۔

ان مجسموں اور فن پاروں میں تحرک پیدا کرنے کے لئے عبدالرحمان اتیرو نے سولر سسٹم سے کام لیا ہے۔ یہ بات بھی اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس باصلاحیت آرٹسٹ کی ہمت افزائی ہونی چاہیے۔ حکومت سندھ با الخصوص سندھ سیاحت ثقافت اور نوادرات ڈپارٹمنٹ کو اس کی مالی مدد کرنی چاہیے۔ سندھ یونیورسٹی میں قائم سندھولاجی کی طرف سے اس آرٹسٹ کو کام کرنے کا موقعہ فراہم کرنا چاہیے تاکہ اس آرٹسٹ کی فنکارانہ صلاحیتیں اور پروان چڑھیں اور سندھ کی ثقافت زیادہ اجاگر یو سکے۔

موبائل فوٹو گرافی عزیز کنگرانی

Facebook Comments HS