مزار قائد سے جمہوریت چوک تک


پیپلز پارٹی کے عوامی لانگ مارچ نے سیاسی سرگرمیوں کو نئی جہت دی ہے۔ اسلام آباد کی صورتحال اس کے نتیجے میں انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جب یہ جلوس مارچ کی آٹھ تاریخ کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوا تو پارلیمنٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔ یہ طویل ترین سیاسی جلوس تھا جس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ ان کی قیادت میں مارچ کرنے والوں نے کراچی میں مزار قائد سے اسلام آباد کے جمہوریت چوک (ڈی چوک) تک سفر دس دن میں طے کیا۔ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے وسطی پنجاب کے صدر موسیٰ کھوکھر اور ان کی ٹیم مارچ کے بعد کچھ دن تک اسلام آباد میں ہی رہی۔

انہوں نے ہمیں بتایا کہ دھونس، دھمکیاں اور مشکل وقت ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب پارلیمنٹ لاجز سے پولیس نے انصار الاسلام کے کارکنان کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ لاجز پر چھاپے کی مذمت کی۔ واضح رہے کہ دو سال قبل 2019 میں انصار الاسلام نے اسلام آباد انتظامیہ سے مولانا فضل الرحمان کے چودہ روزہ دھرنے کو منظم اور پرامن رکھنے کے لئے بھرپور تعاون کیا تھا۔ کھوکھر صاحب نے کہا کہ انہوں نے جبر کے تمام طریقوں کے خلاف مارچ کیا ہے۔

پی ایس ایف وسطی پنجاب کے نائب صدر میاں سعود نے کہا کہ یہ سب سے طویل مارچ تھا۔ ”ہم اچھی طرح سے نظم و ضبط میں تھے۔ رات کے قیام کے لیے ہمارے راستے میں آنے والے تمام شہروں میں انتظامات کیے گئے تھے۔ ہم اچھی طرح سوئے،۔

انہوں نے کہا کہ خوراک اور دیگر سامان کی تقسیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ پنجاب میں چیئرمین کا پرتپاک استقبال کیا اور کافی دیر بعد لوگوں کی بڑی تعداد ان کے ساتھ شامل ہوئی۔ انہوں نے کہا 10 دن کے بعد ہم اسلام آباد پہنچے اور سب کچھ ٹھیک تھا۔ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین نے بلاول کی اردو زبان میں غلطیوں کا مذاق اڑایا، جس سے اس بحث کو جنم دیا گیا کہ کیا اردو زبان کی شستگی کا ریاست چلانے سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ ان کے جملے پر میمز بنائی گئیں، جو یہ ہے : ”کانپیں ٹانگ رہی ہیں“ ۔ اس وقت یہ دلیل دی گئی کہ اردو کو ابلاغ عامہ کی زبان نہیں ہونی چاہیے اور سیاسی رہنماؤں کو اپنی زبانوں میں تقریریں کرنی چاہئیں، جن کا اردو میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں اپنی تقریر میں بھی زبان کی اس غلطی کی نشاندہی کی۔

بڑے پیمانے پر معاشرے میں مردانگی کے غلط تصور کو ہوا دیتے ہوئے بلاول پہ طنز بھی کیا گیا۔ لیکن جو سوال جسے زیادہ تر لوگ آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ صنف کا نظام ریاست چلانے سے کیا تعلق ہے؟

دہشت گردی کا خوف مارچ پر چھایا ہوا تھا۔ جب یہ اپنے راستے میں تھا، خراسانی داعش (ISK) نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک شیعہ مسجد پر بندوق اور بم سے حملہ کیا۔ خراسانی داعش کو افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے گہرے زخم لگائے تھے۔ چونکہ پاکستان افغان طالبان کی کھل کر حمایت کرتا ہے، اس لیے ان کے مخالفین پاکستان کو ناپسند کرتے ہیں۔

اس حملے کے چند روز بعد ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے مذمت کی، خیبر پختونخوا پولیس نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے 20 دہشت گردوں کو پاکستان روانہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہیں۔ پی پی پی کو دہشت گردوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اس صورتحال سے اس کے حامیوں میں خوف و ہراس تھا۔ جلوس کے شرکا نے حفاظتی انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا۔

”پشاور حملے کے بعد ، گوجرانوالہ میں پولیس نے ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ انہوں نے ہمیں اپنے اجتماع کے مقام سے تقریباً سیل کر دیا تھا۔ جلسہ گاہ سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واک تھرو گیٹ لگائے گئے تھے۔ مارچ کرنے والوں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے بہت کم فکرمندی تھی،“ کھوکھر صاحب نے کہا۔

کراچی سے نوجوان پارٹی کارکنوں کی ٹیم کو مارچ میں نظم و نسق برقرار رکھنے کا ٹاسک دیا گیا۔ ”لاہور کے بعد ، ہم سٹیج سے اعلان کرتے تھے کہ تمام کار سوار گاڑی میں رہیں جب کہ چھوٹے سٹاپوں پر مرکزی ٹرک سے تقریریں کی گئیں۔ پنجاب کے نوجوانوں نے ہمارا پیغام عوام تک پہنچانے میں ہماری مدد کی کیونکہ ہمارے پاس زبان کی کچھ رکاوٹیں تھیں،“ چوہدری سلطان نے ہمیں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ دیر سے اسلام آباد میں داخل ہوئے۔ چونکہ داخلے میں تاخیر ہوئی، اس لیے مارچ  ڈی چوک سے پہلے کہیں زیادہ دیر نہیں ٹھہرا۔

مصطفی نواز کھوکھر سمیت پارٹی کے مقامی کارکنوں کی جانب سے مارچ کے شرکا کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

کچھ مارچ کرنے والے، خاص طور پر سندھ سے، پیدل قریبی فیصل مسجد پہنچے، جس کے قریب جنرل ضیاالحق مدفون ہیں۔ انہوں نے سابق آمر کی قبر کی بے حرمتی کی اور بعد میں بلاول نے اس فعل پر برہمی کا اظہار کیا۔ ضیاالحق کے بیٹے اعجاز الحق نے بھی قصور واروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس قبر کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں بھی کئی بار ہجوم کے ہاتھوں اس کی بے حرمتی ہو چکی ہے۔

ڈی چوک پر بلاول نے عمران خان کو وزیراعظم آفس سے نکل کر عوام کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ اگرچہ قمر الزمان کائرہ اور راجہ پرویز اشرف جیسے پیپلز پارٹی کے پرانے عہدیدار بلاول کے ساتھ تھے لیکن ٹرک پر بہت سے نوجوان چہرے بھی تھے۔

اس مارچ کے بعد ہونے والے واقعات بہت معنی خیز ہیں اور اسلام آباد کی مستقبل کی سیاست پر اثر چھوڑنے والے ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا اور پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کا چھاپہ بہت غیر معمولی باتیں ہیں جو اس مارچ سے مربوط ہیں۔ اب خود وزیراعظم نے 27 مارچ کو ڈی چوک میں جلسے کا اعلان کیا ہے، ان کے حامی ڈی چوک کو سیاست کا گڑھ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر نے الیکشن جیتنے سے پہلے اس جگہ پر ایک طویل دھرنا دیا جس کی وجہ سے یہ جگہ ان سے منسوب ہوئی۔

اس جلسے کے انتظامات کے لیے شہر کی مشینری کو متحرک کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف سرکاری منصوبوں کے نام پہ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔

تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کے ناتے بے نظیر بھٹو نے قومی دنوں پر پارلیمنٹ کے سامنے اس مقام پر فوج کی پریڈ کے انتظامات کیے تھے۔ راولپنڈی میں ان کی شہادت کے بعد ڈی چوک پر بڑی سکرینیں لگائی گئیں جن پر جیالوں نے ان کی آخری رسومات دیکھیں۔ یہ رسومات گڑھی خدا بخش سے ٹیلی کاسٹ کی گئیں۔ بعد ازاں صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں جمہوریت چوک پر فوجی پریڈ کی روایت ترک کر دی۔ ان کی دلیل تھی کہ پارلیمنٹ کے سامنے فوج کی سلامی سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

تاہم عمران خان کی جانب سے ڈی چوک پر جلسے کے اعلان کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 23 مارچ کی پریڈ اور او آئی سی کے آئندہ اجلاس کے لیے اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی کا حکم دیا ہے۔ صورتحال سنگین ہے۔

اس لانگ مارچ سے پی پی پی نے جو پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی تحریکوں کو اپنا ہدف حاصل کرنے لئے عوام کو اذیت میں ڈالنے یا سڑکیں بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر حسن شہزاد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ابلاغیات کے پروفیسر ہیں اور ان کا یہ فیچر ایڈٹ ہو کے دا نیوز آن سنڈے میں چھپا ہے

Facebook Comments HS