عدم اعتماد: کس نے کیا کھویا کیا پایا؟


پاکستان میں اس وقت افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ ہر کوئی بے یقینی کا شکار ہے۔ حکومتی نمائندے بھی پریشانی اور تذبذب کا شکار ہیں۔ وہ اراکین یا اتحادی جو چار سال وزارتوں کے مزے اٹھاتے رہے ایک دم ایسا کیا ہوا کہ سب کہ ایک ساتھ با جماعت ضمیر جاگ گئے؟ ایسا کیا ہو گیا کہ آرمی چیف اور اداروں کے سربراہان کا نام لے کر للکارنے والے ایک دم نیوٹرل، نیوٹرل کا نعرہ لگانے لگے؟

ایسا کیا ہو گیا کہ جس اپوزیشن سینٹ میں بھاری اکثریت ہونے کے باوجود کسی بھی حکومتی بل کو پاس کروانے میں ناکام رہنے والی یہ اپوزیشن اب آپس میں عہدوں کی بندر بانٹ کر رہی ہے؟

ایسا کیا ہو گا کہ ایک دوسرے کو غدار کہنے ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت واپس لانے والے ایک دوسرے کو وزارت عظمی کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں؟

اس بار ایسا کیا ہوا کہ ان کا اعتماد آسمانوں کو چھو رہا تھا؟ کس نے ان کو ایسی یقین دہانی کروائی کہ یہ خوشی سے نہال ہوئے جا رہے تھے؟
ان سوالوں کے جوابات کی تلاش میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔

آج وہ اپوزیشن جو چند دن پہلے بہت ہی زیادہ پر اعتماد تھی اب اس کے اعتماد میں بھی کافی حد تک کمی آ چکی ہے۔ اس کے پیچھے کون سی وجوہات ہیں اس پر تفصیل سے اگلی تحریر پر لکھوں گی۔ کیونکہ ان اصل حقائق پر جامع اور تفصیلی تحریر ضروری ہے۔

چند دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران کہا، سندھ ہاؤس میں ہمارے چند اراکین کے ضمیر کی بولیاں لگا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ جو کہ غیر قانونی ہی نہیں غیر آئینی بھی ہے۔ اس کے بعد حکومتی وزرا کا اپوزیشن کو چیلنج کہ ہمارے اراکین کو واپس کر دیں ورنہ قانون ایکشن میں آئے گا۔

پھر ہم سب نے دیکھا کہ سندھ ہاؤس میں تقریباً آٹھ سے نو حکومتی نمائندوں کو میڈیا کے سامنے لا کر پاکستان کی عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر ہمارے ساتھ ہیں اور ان کو خوف ہے کہ اگر یہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے تو ہمیں حکومت نقصان پہنچا سکتی ہے۔

میرے نزدیک اپوزیشن حکومت کے بچھائے جال میں پھنس گئی اور یہیں سے بازی نے پلٹا بھی کھایا۔ حکومت کے منحرف اراکین کے چہرے کھل کر سامنے آ گئے۔ اور انھیں اس پر بہتر طریقے سے کام کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ پی ٹی آئی کے ووٹر اور سپورٹرز نے ان اراکین کے گھروں کا گھیراؤ شروع کر دیا۔ گھروں کے باہر دھرنے اور مظاہروں میں ڈیمانڈ کی کہ پہلے پارٹی سے استعفی دو پھر جسے مرضی ووٹ دو۔ اور اگر پھر بھی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا تو ہم آپ لوگوں کو ووٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ اور ساتھ ہی ساری زندگی کے لئے سیاست سے بھی آؤٹ کر دیے جاؤ گے۔

اسی ساری ہنگامہ آرائی اور سیاسی کشمکش کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ بار نے درخواست جمع کروائی کہ حکومت کو زبردستی عوامی نمائندوں کو ڈرانے اور دھمکانے اور جلسوں سے روکا جائے۔ اور حکومت کی طرف سے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس قابل سماعت ہی نہیں ہے۔

دوسری طرف حکومت کی طرف سے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں جمع کروایا جس میں چند اہم سوالات اور آئین کی شق 63 اے پر مزید تشریح کی التجا کی گئی کہ آرٹیکل 63 اے کی کون سی تشریح قابل قبول ہے۔ کیونکہ اس میں نا اہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ کیا پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے سے نہیں روکا جا سکتا؟ اگر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے دیا جائے تو کیا وہ ووٹ شمار ہو گا یا نہیں؟ کیا پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا صادق و آمین نہیں رہے گا؟ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے کے بعد رکن اسمبلی تاحیات نا اہل ہو گا؟ فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے مزید کیا کیا اقدامات ہو سکتے ہیں؟

آج بروز سوموار 21 مارچ 2022 کو سپریم کورٹ میں سماعت بہت ہی دلچسپ رہی۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے منظور صدارتی ریفرنس کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دیا بلکہ 24 مارچ کو سماعت کے لئے مقرر بھی کر دیا۔

جبکہ دوسری طرف چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کام یہ دیکھنا ہے کہ کسی کو بھی ووٹ ڈالنے سے نا روکا جائے تاکہ کوئی بھی ووٹ ڈالنے سے محروم نا رہ سکے۔ ووٹ ڈالنا اراکین کا آئینی حق ہے۔ اور عدالت اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کی قائل نہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت پارلیمنٹ میں شو کریں۔ عدالت نے صرف ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ پاکستان میں جمہوریت چلتی رہے۔

سماعت کے دوران جہاں سندھ ہاؤس ہر حملے کی حکومتی مذمت کو سراہا گیا وہاں جسٹس منیب اختر یہ بھی پوچھتے رہے کہ تحریک عدم تحریک سے بار کو کیا مسئلہ ہے آپ کے کیا تحفظات ہیں؟ اپ سندھ ہاؤس پر بات کرتے ہوئے خوف کیوں کھا رہے ہیں؟ ہم پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اسپیکر کو اسمبلی کے اندر ووٹ کے متعلق رولنگ دینے کا اختیار ہے۔

یہاں پر جسٹس منیر اختر کے ریمارکس بھی بہت ہی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے آرٹیکل 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے، اور آرٹیکل 95 دو کے تحت رکن کے انفرادی ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد ہی اجتماعی حق تصور کیا جاتا ہے۔

بہرحال 24 مارچ کو سپریم کورٹ پاکستان کی سیاست کا رخ ضرور تعین کر دے گی۔ پاکستان کی سیاست میں پارٹیوں کے نام پر ووٹ لے کر آنے والے پھر پیسے کی طاقت سے اپنے بولی لگوانے والے ضمیر کی آواز پر جاگتے اراکین کی قسمت کا فیصلہ ضرور ہو گا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ آئین کی تشریح کر کے عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت کر کے پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو گرانے اور قائم کرنے کے دروازے بند ضرور کر دے گی۔

ہمیشہ سے یہی سیاسی پارٹیوں اپنی حکومتیں بنانے اور گرانے میں ہارس ٹریڈنگ کا غیر آئینی راستہ اپناتی رہی ہیں۔ پھر انھوں نے خود ہی ایسے قوانین پاس کیے تاکہ سیاست ہارس ٹریڈنگ جیسے مکرو دھندے کو ختم کیا جائے۔ اور آج اپنے ہی بنائے قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے حکومتی اراکین کے ضمیر کو پیسے یا ٹیکٹ کے لالچ سے خرید کر جگانے والے سندھ ہاؤس بند اراکین کو بھیڑ بکریوں کو طرح میڈیا کے سامنے فخریہ پیشکش کے طور پر پیش کر کے جشن منایا گیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جیت صرف پاکستان کی عوام کی ہو گی۔ پاکستان میں پیسے کی سیاست پر بند باندھ کر شاید ہم اصلی جمہوریت کی طرف گامزن ہو سکیں گے۔

اس سارے ہنگامے میں کچھ ایسی ڈیولپمنٹ ہوئی ہیں جن کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ حکومت نے آہستہ آہستہ اپنے کارڈ شو کروانے شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے منحرف یا ناراض اراکین میں شامل عامر لیاقت، اکرم چیمہ، سیف الرحمان، آفتاب صدیقی، عطا اللہ، فہیم خان، اسلم خان، عالمگیر خان، عبدالشکور شاد، صائمہ ندیم، نصرت واحد، عامر لیاقت، غلام بی بی بھروانہ نے ملاقاتیں شروع کر دیں ہیں۔ اور ادھر دوسری طرف جہانگیر ترین گروپ کے لوگوں نے واپس وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقاتوں کو سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

پاکستان کی سیاست آئندہ دنوں میں چوہدری نثار علی خان بہت ہی اہم رول ادا کرنے جا رہے ہیں۔ انھیں پنجاب میں کوئی بہت ہی اہم عہدہ دیے جانے کا بھی اعلان کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

بہرحال اس مارچ کے آخر تک سب پر عیاں ہو جائے گا کہ اس سیاسی دنگل میں جیت کس کی ہوئی اور شکست کس کا مقدر بنی۔ اس سارے کھیل میں انٹرنیشنلی کس ادارے کے سربراہ کی عزت پر فرق آیا۔ کون سے ادارے کے سربراہ سے متعلق بھارتی میڈیا ہیڈ لائن چلاتا رہا؟ کس نے کیا کھویا کیا پایا؟

Facebook Comments HS