کپتان سیاسی کھیل ہار رہا ہے، پارٹی از اوور


بالآخر سپیکر اسد قیصر نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے لئے قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس 25 مارچ 2022 ء کو طلب کر لیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے 8 مارچ 2022 ء کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سپیکر چیمبر میں جمع کرا دی اس کے ساتھ ہی سپیکر کو 14 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکویزیشن جمع کرا دی تاکہ سپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے لیت و لعل سے کام لینے کا موقع نہ مل سکے لیکن سپیکر نے آئین میں دی مدت میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس 14 روز کے اندر نہیں بلایا اور ریکوزیشن کے 13 روز قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ 25 مارچء 2022 صبح 11 بجے طلب کر لیا۔ یہ اجلاس انہوں نے آئین کی شق 54 ( 3 ) اور شق 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا جسے اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔

آئین کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد تین دن سے پہلے اور سات دن کے بعد رائے شماری نہیں ہو سکتی، صرف بجٹ کی صورت میں تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 95 کے شق نمبر 1 کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرارداد جسے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم ازکم بیس فیصد نے پیش کیا ہو قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کی جا سکے گی۔ شق نمبر 2 کے مطابق شق ( 1 ) میں محولہ کسی قرارداد پر اس دن سے تین کی مدت کے خاتمہ سے پہلے یا سات دن کی مدت کے بعد ووٹ نہیں لئے جائیں گے جس دن مذکورہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہو۔

شق 3 کے مطابق شق ( 1 ) میں محولہ کسی قرارداد کو قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا جب کہ قومی اسمبلی سالانہ میزانیہ کے کیفیت نامے میں پیش کردہ رقوم کے مطالبات پر غور کر رہی ہو۔ شق 4 کے مطابق اگر شق ( 1 ) میں محولہ قرارداد کو قومی اسمبلی کی مجموعی رکنیت کی اکثریت سے منظور کر لیا جائے تو وزیراعظم عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل پارٹی سے منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لئے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیج دیا ہے۔ صدارتی ریفرنس کے ذریعے وزیر اعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کے اغراض و مقاصد، اس کی وسعت، فلور کراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ بیچنے جیسے عمل پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔

یہ صدارتی ریفرنس وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا ہے جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریفرنس کچھ ارکان پارلیمنٹ کے انحراف کی خبروں، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر فائل کیا گیا ہے۔ ریفرنس میں صدر عارف علوی نے فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ سے متعلق ماضی میں دو ججوں کی رائے پیش کر کے سپریم کورٹ سے چار بنیادی سوالات کی تشریح کی درخواست کی ہے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کیا اگر کوئی خیانت کرتا ہے اور وفاداری تبدیل کر کے انحراف کرتا ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے اور اسے ڈی سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ، جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لئے وسیع مشاورت کے بعد آئین میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے رکن کو تاحیات نا اہلی قرار دیا جا سکتا ہے تاکہ اس قسم کی دھوکہ دہی، غیرآئینی اور غیراخلاقی عمل میں شریک ارکان میں ڈر پیدا کیا جا سکے۔ کیا ایسے غیراخلاقی عمل میں شریک منحرف اراکین کے ووٹ کی کوئی وقعت باقی رہ جاتی ہے اور کیا ایسے اراکین کو ووٹ دینے کا حق دیا جا سکتا ہے؟ ایسا رکن جو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک نہیں کہتا اور اپنی نشست سے استعفاٰ نہیں دیتا اور بعد میں اپیل میں سپریم کورٹ سے بھی اگر اسے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے اور صادق اور امین نہ رہے تو پھر کیا ایسے میں اس رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟

رائے مانگنے کے علاوہ صدارتی ریفرنس میں فلور کراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی فروخت جیسے عوامل کے جمہوری عمل پر پڑنے والے، نقصانات، پر صدر عارف علوی نے اپنی رائے دی ہے۔ ان کے مطابق جب تک اس طرح کی پریکٹس کو ختم نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک صحیح جمہوری عمل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کے ان ارکان نے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

صدارتی ریفرنس میں انحراف کے اس عمل کو ملک کی سیاست میں کینسر قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو یہ موقع دے رہا ہے کہ، ملک میں جاری ہارس ٹریڈنگ، موقع پرستی اور کرپشن کے ڈرامے ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ وکلا کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی ایک آئینی درخواست پر بھی سماعت کر رہی ہے۔ جس میں عدالت سے تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں کارکنان میں تصادم کے خطرے کو روکنے کی ہدایات دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے سپریم کورٹ کو تحریک عدم اعتماد کے دن ارکان قومی اسمبلی کو باحفاظت پارلیمنٹ پہنچنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ملک میں تصادم روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے تحریک عدم اعتماد کے دن ارکان قومی اسمبلی کو باحفاظت اسمبلی پہنچنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سے بات کی، حلفاً کہتا ہوں کہ اجلاس کے دن کسی کو اسمبلی آتے وقت ہجوم سے گزرنا نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے دن باہر کوئی ہجوم نہیں ہو گا۔ صرف تحریک عدم اعتماد کے دن نہیں بلکہ باقی اجلاس کے دنوں میں بھی ہجوم نہیں ہونا چاہیے۔

میں کم و بیش نصف صدی سے پارلیمنٹ میں ہونے والے ”تماشوں“ کا عینی شاہد ہوں وزرائے اعظم منتخب ہوتے اور برطرف ہوتے دیکھے ہیں۔ میری پارلیمانی رپورٹنگ کے دوران دو وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کا انجام دیکھا ہے لیکن جس طرح پی ٹی آئی کے 14 ارکان کو کھلم کھلا بغاوت پر شوز کاز نوٹس دیا گیا اس سے واضح طور ثابت ہو گیا ہے۔ کی ”کپتان“ کھیل ہار گیا ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے دوران کوئی انہونی نہ ہو جائے میں ”کپتان“ کو 2 یا 3 اپریل 2022 تک ہارتا ہوا دیکھ رہا ہوں کوئی ”سیاسی معجزہ“ ہی عمران خان کا اقتدار بچا سکتا جہاں تک سیاسی تجزیہ کاروں کا تعلق ہے۔ عمران خان اقتدار کی جنگ ہار چکے ہیں۔ اب کوئی ریاستی ادارہ دوبارہ ان کے سر پر دست ”شفقت“ رکھ دے تو ممکن ہے کہ کچھ دنوں کے لئے اقتدار بچ جائے لیکن جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ خان صاحب کو جانا پڑے گا۔ اب تو مریم نواز نے بھی کہہ دیا ہے کہ وزارت عظمی کے لئے ہمارے امیدوار میاں شہباز شریف ہوں گے۔

سپیکر جو شروع دن سے پی ٹی آئی کے رکن کے طور پر قومی اسمبلی چلا رہے ہیں۔ وزیر اعظم آفس کے دباؤ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں دانستہ تاخیر کی ہے تاکہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے میں مہلت مل جائے لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پناہ لینے والے 14 باغی (جن کو پی ٹی آئی غدار اور منحرف قرار دے رہی ہے ) کو شو کاز نوٹس جاری کر کے عملاً ثابت کر دیا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمان کی اکثریت کی حمایت کھو بیٹھے ہیں۔

رہی سہی کس پاکستان مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، باپ، جی ڈے اے کے 24 مارچ 2022 ء کو حکومتی اتحاد سے ممکنہ علیحدگی کے اعلان کے بعد نکل جائے گی۔ اجلاس بلانے میں تاخیر پر اپوزیشن نے او آئی سی کانفرنس کا انعقاد روکنے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم اب حکومت نے اجلاس بلا لیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے 25 مارچ 2022 ء کو قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی وجوہات بھی اپنے حکم نامے میں بیان کردی ہیں۔

سپیکر نے کہا ہے کہ 8 مارچ 2022 ء کو اپوزیشن کی جانب سے اجلاس بلانے کی ریکوزیشن موصول ہوئی، قومی اسمبلی نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے قومی اسمبلی ہال میں انعقاد کے لیے 21 جنوری 2022 ء کو قرار داد منظور کی تھی۔ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے لیے قومی اسمبلی چیمبر کو فروری کے اواخر میں ضروری تزئین و آرائش کے لیے وزارت خارجہ کے سپرد کر دیا گیا۔ اجلاس کی ریکوزیشن ملتے ہی سینیٹ سیکریٹریٹ سے سینیٹ ہال دینے کی درخواست کی گئی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے بھی ہال کی تزئین و آرائش کے باعث چیمبر دینے سے انکار کر دیا، چیئرمین سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بھی قومی اسمبلی اجلاس منعقد کرانے کے لیے کوئی موزوں جگہ تلاش کرنے کا کہا گیا ڈپٹی کمشنر اور چیئرمین سی ڈی اے نے بھی تحریری طور پر قومی اسمبلی اجلاس کے لئے کوئی مناسب جگہ نہ ہونے سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا، اب تمام حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ 2022 ء کو بلایا جا رہا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق اتحادی جماعتیں 24 مارچ 2022 ء کو متحدہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑا ہونے کا ”کپتان“ کو سرپرائز دیں گی جس کے بعد ان کے وزرا ء مستعفی ہو جائیں گے۔ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کی جانب سے جو کچھ دینے کا وعدہ کیا وہ اس پر مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ”پناہ“ لینے والے 14 ارکان قومی اسمبلی تک نجی ٹیلی ویژنوں کو رسائی دے کر حکومت کو یہ پراپیگنڈہ کرنے کا موقع نہیں دیا کہ ان کی جماعت کے ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ شو کاز نوٹس میں باغی ارکان کو 25 مارچ 2022 ء تک واپس آنے کی مہلت تو دی ہے۔ شاید ہی ان میں سے کوئی رکن واپس جائے راجہ ریاض باغی ارکان کی تعداد 24 بتاتے ہیں جب کہ رمیش کمار کا دعوی ہے کہ یہ تعداد 33 سے زائد ہے۔

سیاسی جماعتوں کے ممکنہ تصادم کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے کہا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے جس کے تحت رکن کے انفرادی ووٹ کی حیثیت نہیں، سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد اجتماعی حق تصور کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ کسی ایونٹ کی وجہ سے کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ ہو، ووٹ ڈالنا ارکان کا آئینی حق ہے۔ بہتر ہو گا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی کے حقوق متاثر نہ ہوں، سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ عدالت ابھی تک اسمبلی کارروائی میں مداخلت پر قائل نہیں ہوئی، سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت پارلیمنٹ میں ظاہر کریں، سیاسی جماعتیں بتائیں وہ کیا چاہتی ہیں۔ پولیس کسی رکن اسمبلی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رکن اسمبلی قانون توڑے گا تو پولیس بھی ایکشن لے گی۔ عدالت نے سیاسی قیادت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ جمہوریت چلتی رہے۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ اسمبلی اجلاس کے موقع پر کوئی جتھا اسمبلی کے باہر نہیں ہو گا۔ کسی رکن اسمبلی کو ہجوم کے ذریعے نہیں روکا جائے گا۔ کئی سیاسی جماعتوں نے بیانات دیے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر رہے ہیں۔ عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز سیاسی جماعتوں کے ممکنہ تصادم کے خلاف درخواست کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن، بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی (بی این پی) کے اختر مینگل بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی جانب سے ان کی رہائش گاہ پر ظہرانہ دیا گیا ہے جس میں مولانا فضل الرحمن، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل سمیت چیدہ چیدہ رہنماؤں نے شرکت کی اس موقع اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر سپیکر نے 21 مارچ 2022 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کو ٹیک اپ نہ کیا تو اپوزیشن ایوان میں دھرنا دے گی۔

قومی اسمبلی ہال میں دھرنا دینے کے اعلان نے او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے انعقاد کے لئے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی اپوزیشن نے دھمکی دی کہ دیکھتے ہیں۔ حکومت او آئی سی کانفرنس کیسے کراتی ہے؟ عمران خان کھلاڑی رہے ہیں۔ مقابلہ کریں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، جب جہاز میں ان کے لوگ آتے تھے۔ اس وقت ضمیر کی آواز کہاں تھی؟ سندھ ہاؤس پر حملہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی دلیل ہے لیکن اپوزیشن کے اس اعلان کی سیاہی خشک نہ ہو پائی تھی کہ ٹیلی فون کی گھنٹیاں بج گئیں اپوزیشن رہنماؤں کو ایک اہم شخصیت کا پیغام آ گیا جس کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی

متحدہ اپوزیشن نے اپنے موقف پر نظر ثانی کر دی اور مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کے وزرائے خارجہ، مندوبین، اور دیگر شخصیات کی آمد کا خیرمقدم کریں گے۔ معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے باعث افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں کہ وہ افغانستان، جموں و کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی اہم مسائل پر غور کے لئے اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں۔ ہم ان کی پذیرائی اور استقبال کے لئے چشم براہ ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی مہمانوں کی موجودگی کے دوران خوشگوار ماحول کے لئے اپنے کردار کو یقینی بنائیں گے۔ او آئی سی کے معزز مہمانوں کی تکریم کے لئے متحدہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اور کارکنان کو 25 مارچ 2022 ء سے قبل اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اعلامیہ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ معزز مہمان اچھی یادیں لے کر وطن واپس جائیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری سالک حسین نے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اور خاتون ایم این اے کی جانب سے الزامات کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ یہ طرز عمل ناقابل برداشت ہے۔ چوہدری سالک حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم اور خاتون ایم این اے نے فوج اور آئی ایس آئی قیادت پر الزامات لگائے ہیں۔ فوجی قیادت پر جھوٹے الزامات ناقابل برداشت ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم صاحب اس گندی ملک دشمن مہم کا نوٹس لیں ورنہ ہم ملک دشمنوں سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دشمن سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے فوج کے خلاف طوفان بدتمیزی مچایا۔ یہ اکاؤنٹس نون لیگ کے حق میں مہم چلاتے رہے پھر فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ وفاقی وزیر چوہدری مونس الہٰی نے بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے چوہدری فواد حسین کے بیان کہ اتحادی ہماری سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے آئے ہیں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ براہ کرم الیکشن کمیشن کے نتائج چیک کریں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بعد بھی پی ٹی آئی کے ایم پی اے کو حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ( ق ) کے ایم این اے سے کم ووٹ ملے تھے۔ وہ الیکشن کمیشن سے انتخابی نتائج چیک کر لیں تو واضح ہو جائے گا کہ کس نے کس کی مدد کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے 7 منحرف ارکان ہمارے پاس واپس آچکے ہیں لیکن انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے انہوں اپوزیشن کو شیخ چلی کا طعنہ دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ان کے خواب روز بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ شہباز شریف نے 60 کی دہائی کے سوٹ نکال رکھے ہیں۔ کہیں اب ہیٹ پہن کر ہاتھ میں پائپ بھی نہ پکڑ لیں

چوہدری فواد حسین کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک جتنی قریب آئے گی۔ قوم کے ان ضمیر فروشوں پر غصہ میں اضافہ ہو گا۔ 27 مارچ 2022 ء کو عوام کا سمندر اسلام آباد میں امر بالمعروف کا پیغام دے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2