لوٹا کلچر، تحریک عدم اعتماد اور حکومت کی حکمت عملی


ماہرین نے لوٹا کلچر کی تعریف یوں کی ہے۔ ”لوگوں کی حکومت لوٹوں کے ذریعے اور کچھ مخصوص لوٹوں کے لئے“

تعریف اور خوبیوں اور خامیوں پر آپ خود بھی جائزہ لیں راقم الحروف کا اس پر تبصرہ تجزیہ یہ ہے۔ بات واضح ہے کہ ملکی سیاست میں لوٹا کلچر یا لوٹا کریسی کو روکنا ناممکن ہے۔ جب ہمارا عدالتی نظام اور الیکشن کمیشن کا رویہ اس طرز پر ہو گا مثلاً جیسے بلی کے سامنے کبوتر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ قوم کو ایک لوٹا شکن پارٹی بنانے کی ضرورت ہے جو لوٹوں کو توڑ کر کھوٹوں کو آگے لائے۔ یہ لوٹے عوام کے علاوہ شعبہ ہائے زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

دیکھا جائے تو پاکستان میں یہ کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے جو کینسر اور ناسور بن رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا پاکستان میں مٹی کے لوٹے پسند کیے جاتے تھے جن سے وضو بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن وہ بے احتیاطی سے ٹوٹ جاتے تھے۔ آج کل پلاسٹک کے لوٹوں کا رواج ہے لیکن یہ زیادہ دیرپا نہیں رہے۔ البتہ ہمارے سیاسی لوٹے بہت مضبوط، دیرپا ثابت ہوئے اور ان لوٹوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ بوقت ضرورت بے پیندے کے لوٹے بھی بن جاتے ہیں۔

جو لوگ لوٹ کے ماہر ہیں وہ پارٹی سے ٹکٹ لے لیتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کے موسم میں تو یہ پرندوں کے غول کی صورت میں ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر الیکشن کے بعد اور سینٹ الیکشن میں تو ان کی قدروقیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے سیاسی لوٹوں نے پاکستان میں ایک نیا کلچر متعارف کرا دیا ہے۔ جسے ہم لوٹا کلچر اور اس طرز سیاست کو لوٹا کریسی بھی کہتے ہیں۔ آج کا لوٹا مولانا ظفر علی خان کے پرانے لوٹے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

اردو میں بے پیندے کا لوٹا ایک معروف محاورہ رہا ہے یعنی ایسا لوٹا جو ایک جگہ نہ ٹکتا ہو کبھی دائیں کبھی بائیں لڑھک جاتا ہو۔ بے اصول اور ڈھلمل (لڑکھڑاتا ہوا) یقیناً ایسے آدمی کو بے پیندے کا لوٹا کہا جاتا ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے اسی پس منظر کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شکار کو ایک لوٹا قرار دیا تھا۔ مولانا کا یہ احسان البتہ اردو زبان پر ضرور رہے گا کہ انہوں نے ایک لمبے جملے سے نجات دلا کر محض ایک لفظ سے کام نکال لیا اور ہمارے یہاں 80 اور 90 کی دہائی اور 2018ء کی سیاست میں لوٹے کا فقط ایک نئے کروفر (شان و شوکت) کے ساتھ داخل ہوا۔

1930ء میں مولانا ظفر علی خان نے یہ لفظ پہلی بار سیاستدان ڈاکٹر عالم کے لئے استعمال کیا تھا۔ جو ہر تیسرے دن اپنی پارٹی بدلتا رہتا تھا۔ پہلے وہ اتحاد المسلمین میں تھا پھر مسلم لیگ میں آیا پھر ہوا کا رخ بدلتے ہی کانگریس میں چلا گیا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو پاکستان آ کر مسلم لیگ میں آنے کی کوشش کی لیکن مولانا کا دیا ہوا خطاب اسے پریشان کرتا رہا اسے لوگ ڈاکٹر عالم لوٹا پکارنے لگے۔ جس کے باعث یہ لاہور چھوڑ کر بھارت چلا گیا۔

اگر پاکستانی قوم یہی طریق استعمال کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا احتساب کریں یہ لقب استعمال کریں تو لوٹا کلچر لوٹا کریسی میں کمی واقع ہو گی۔

جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے تو جمہوری پارلیمانی سیاست میں وزیراعظم ایوان میں اکثریت کی بنیاد پر ہی براجمان رہ سکتا ہے۔ اگر وہ ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہ کر سکے تو وہ وزیراعظم نہیں رہتا۔ یاد رہے ماضی کی تاریخ میں عدم اعتماد کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ 1989 ء میں بے نظیر کی پہلی حکومت کے خلاف طاقتور صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور پنجاب میں نواز شریف حکومت کی بے انتہا کوششوں کے باوجود عدم اعتماد ناکام رہی۔

اس میں اہم بات یہ تھی کہ اس وقت ایم این اے ہاسٹل میں موجود ممبران نیشنل اسمبلی کافی تعداد میں جمع تھے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر غلام مصطفے ٰ جتوئی جیسے زیرک سیاست دان ڈالرز سے بھرے بیگ لئے پھر رہے تھے مگر کوئی جیالا بکنے کو تیار نہ ہوا۔ اس وقت نوٹ نہیں مستقبل کی سیاست مد نظر تھی۔ دوسری بار مشرف دور میں وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک لائی وہ بھی ناکام رہی۔ یاد رہے پچھلے 2018 ء کے الیکشن میں مبینہ طور پر مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی حکومت سے کہا تھا کہ مجھے صدر پاکستان بنا دیا جائے۔ اب بھی یہی خواہش ان کو بے چین کر رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ان جیسے کئی سیاست دان ایسے موقعوں پر امریکہ کے قریب اور مدد طلب کرتے ہیں۔ اب تو خود امریکہ اپنے مفادات کی خاطر ان پارٹیوں کے سربراہان کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کی جمہوری سیاست میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے اس کی وجہ عمران خان امریکہ کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اپنے موقف پر حق بجانب ہے وہ امریکہ کو No do more کہہ چکا ہے اور یہ بھی کہ ہم اب کسی گروپ میں شامل نہیں ہوں گے۔

علاوہ ازیں اس نے اپنی سرزمین کو امریکی فوجی اڈے دینے سے انکار کر دیا ہے اور گوادر بندرگاہ میں چین کا جو کردار ہے اس کو اس خطہ میں امریکہ پسند نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ عمران خان کا حالیہ دورہ روس تھا۔ اس دورہ کے فوراً بعد ہی امریکہ نے منی لانڈرنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر نیشنل بنک آف پاکستان پر بھاری جرمانہ 55 ملین ڈالرز کا عائد کر دیا جبکہ یہ نواز شریف کے دور کا قصہ تھا۔ یوکرین جنگ میں امریکہ کا اتحادی نہ بننا اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں غیرجانبدار رہنا یہ وہ اصل حقائق ہیں جس کی بنا پر امریکہ عمران حکومت کے خلاف پاکستانی کرپٹ سیاست دانوں کے ذریعے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے جو اس کے مفادات کے لئے کام کریں۔ حالانکہ یوکرین کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بس جو ہماری پالیسی ہو دنیا اس کے نقش قدم پر چلے۔ اسی طرح اس نے عراق، افغانستان، شام اور یمن میں کیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن وزیراعظم عمران کو فون نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی سفیر پاکستان کے ذریعہ اپوزیشن لیڈروں اور لاہور ہائیکورٹ اور دیگر ججوں سے ملاقاتیں کر رہی ہے۔ امریکی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ دو بڑی پارٹیوں کے ذریعہ ایم این ایز کو خریدا جا رہا ہے اور اس کے لئے 350 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

اس سے تحریک عدم اعتماد اور اگلے الیکشن کے لئے ٹکٹ کی ضمانت دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 1977ء میں بھٹو حکومت کے خلاف PNA کی جماعتوں کو لاکھوں ڈالرز دیے گئے تھے۔ امریکہ کیوں پاکستانی سیاست میں دلچسپی اور مداخلت کر رہا ہے اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ راقم قارئین کے لئے امریکی مصنف ڈینیل مارکے کی کتاب کے حوالے سے کچھ اہم حقائق پیش کرتا ہے۔

وہ اپنی کتاب ”نو ایگزٹ فرام پاکستان“ میں لکھتا ہے کہ ہم امریکن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے اس کی تین وجوہات ہیں :

1۔ پاکستان کا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ اس پر نظر رکھنے کے لئے ہمیں مسلسل پاکستان کے ساتھ رہنا پڑے گا۔

2۔ پاکستان کے ساتھ رہنا ضروری ہے چونکہ پاکستان کی اتنی بڑی فوج ہے کہ نہ صرف ریجن بلکہ پوری دنیا کو ڈی سٹیبلائز کر سکتی ہے۔

3۔ پاک فوج پر نظر رکھنے کے لئے بھی پاکستان کا ساتھ رہنا ضروری ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ ہم نے 72 سال پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ڈویلپ ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پاکستان کو اسلامی دنیا میں بھی لیڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لئے ہم کچھ طریقے اپناتے ہیں وہ یہ کہ پاکستان کو اتنا کمزور کرو کہ ہم بآسانی استعمال کر سکیں کہ وہ غیر موثر رہے۔ ہم پاکستانی لیڈروں کو خرید لیتے ہیں جس میں سیاسی لیڈرز، سول بیوروکریسی کے افسران، جرنلسٹ اور میڈیا ہاؤسز شامل ہیں۔ ڈینیل مارکے اپنی کتاب میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستانی لیڈرز خود کو بہت تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ اتنی تھوڑی قیمت کہ انہیں امریکہ جانے کا ویزہ مل جائے یا ان کے بچوں کو سکالرشپ مل جائے اور اتنی چھوٹی چیز پر وہ پاکستان کے مفادات بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

اس ضمن میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی حکومت نے اپنے قانونی مشیر کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ حکومت نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرلی ہے 172 ووٹوں کے علاوہ 4 ووٹ زیادہ ہیں کوئی بعید نہیں یہ سیاسی جنگ 7 روز میں جلسوں کی نذر ہو جائے اور تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کردے۔ اس میں ایک اہم بات فیصلہ فوجی قیادت کے ذریعہ ہی انجام پذیر ہو گا۔ تبھی وزیراعظم پرامید ہیں۔ اس میں اہم فیصلہ فوجی قیادت کا ہی ہو گا۔

اس ضمن میں قانونی نقطہ بھی یاد رکھیں اگر کوئی حکومتی رکن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے تو ایسی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی اس رکن کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 ویں ترمیم کی روشنی میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے تحت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ سینٹ کی طرح خفیہ ووٹنگ کے ذریعے نہیں۔

حکومت کی حکمت عملی یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ جن کے خلاف مقدمات قائم ہیں ان کو ایک دو روز قبل گرفتار کر لیا جائے اور وہ اس سے بچنے کے لئے کسی نامعلوم مقامات پر روپوش ہو جائیں۔ حکومت بھی اپنے نمبر گیم پورا کرنے کے لئے اپنی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سے رابطہ میں ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان کا ساتھ عمران خان کے ساتھ رہا تب یہ تحریک ناکام ہو سکتی ہے اس میں علیم خان کو یہ یاددہانی کروانی ہو گی کے وہ بحیثیت پنجاب وزیراعلیٰ ہوں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں پاکستانی سیاست میں حرف آخر نہیں جس طرح 6 ماہ قبل قومی اسمبلی میں تحریک ناکام رہی اور سینٹ میں بل پاس کروایا گیا جبکہ سینٹ میں PPP کی اکثریت تھی۔

لہٰذا اب نیلام گھر سجے گا۔ کرپشن کا بازار گرم ہو گا۔ اراکین پارلیمنٹ اپنے ضمیر کے سودے کریں گے اور اس میں امریکی ڈالرز چلیں گے اور ہماری نئی نسل کے مستقبل کے سودے اور ان کی خواہشات کو پامال کیا جائے گا۔ راقم الحروف کا ذاتی تجزیہ ہے کہ یہ بھان متی کا کنبہ اور وہ جو اس کھیل میں ملوث ہوں گے نامراد اور ناکام ہوں گے۔ اس تحریک کے بعد پنجاب حکومت میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ایک اہم خبر جو مجھ تک پہنچی ہے اور جو حکومت کو ملی ہے وہ لندن اور اندرون ملک سے اور غیر ملکی مداخلت سے پاکستانی خفیہ ایجنسی کو کال اور ویڈیوز ملی ہیں جس میں اہم سرکاری افسران کے رابطوں کے ثبوت ہاتھ لگے ہیں جس سے بڑی گرفتاریوں کا امکان ہے۔

اس میں حکومت کو گرانے کی باتیں ہوئیں ہیں۔ ایک ”ن“ لیگی اہم کارکن کو ایئرپورٹ سے پکڑ لیا ہے اس کے پاس اہم معلومات تھیں۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر حکومت کے خلاف اگر عدم اعتماد پاس ہوتی ہے تو سوال یہ اٹھے گا کیا یہ مہنگائی ختم کر دے گی اور آئی ایم ایف سے ڈیل منسوخ کردے گی ان دو سوالوں پر ہی اپوزیشن نے تحریک چلائی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہو گا۔ زرداری اور نواز شریف کو یہ فکر لاحق ہے کہ ان کی عمر 70 سال ہو چکی ہے اس لئے ہم آج نہیں تو کل بھی نہیں اگر عمران حکومت کو آج نہیں گرایا تو عمران اگلے الیکشن میں کامیاب ہو جائے گا۔

میرے خیال میں پاکستان کے مستقبل کے لئے یہی بہتر ہو گا۔ بہرصورت اللہ تعالیٰ جو کرے ملک کے امن و خوشحالی کے لئے بہتر ہو۔ یہ بھی یاد رہے اسلام آباد میں 22، 23 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس کا اجلاس ہونے جا رہا ہے دوسری طرف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تاریخ 14 روز 22 مارچ کو پوری ہو رہی ہے۔

Published on: Mar 15, 2022 

Facebook Comments HS

One thought on “لوٹا کلچر، تحریک عدم اعتماد اور حکومت کی حکمت عملی

  • 21/03/2022 at 10:32 شام
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر اللہ کرے لوٹوں کو بھی عقل آ جائے۔ آمین

Comments are closed.