تبدیلی کا بیانیہ وینٹی لیٹر پر
آج وہ کئی راتوں سے نہ سونے کی وجہ سے نیند کی گولی لے کر لیٹا، خادم خاص کو دوائی بنانے کا کہا، کئی دنوں کی طرح جیسے تیسے یہ رات بھی کاٹی، صبح جلدی آنکھ کھلی، دماغ میں ڈھیروں خدشات اور خوف لیے جاگنگ کی، سرکاری خزانے سے جلدی جلدی ناشتہ کیا، شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر آج پھر خود سے مخاطب ہوا، حالات بہت گمبھیر ہو چکے ہیں لیکن تم نے گھبرانا نہیں، تمہاری نوجوان جذباتی فین فالوونگ کو تمہاری مشکلات کا کیا پتہ، وہ تو وہی مانیں گے جو انہیں دکھے گا، جو تم بولو گے، تم جو کہو گے تم سے لگاؤ رکھنے والے لوگ تمہارے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
جلسوں میں پبلک آ جائے گی، آئینی جنگ کے بجائے سڑکوں پہ لے جاؤ اس لڑائی کو، کسی طرح یہ مشکل وقت گزارنے کی کوشش کرو، اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ اور ایک صفحے سے محروم ہونے کے باوجود تمہارے پاس حکومت ہے، تمہیں آئینی باتیں سوچنے کی زیادہ ضرورت نہیں، وہ کام قانونی مشیروں کے ماتھے مارو، جنرل مشرف نے تو آئین توڑا تھا اس کا کسی نے کیا بگاڑ لیا۔
تم کوشش کرو امپائروں کو راضی کرو، ناراض دوستوں کا منہ حکومتی فنڈز سے بند کرو، نہ مانیں تو نیب، ایف آئی اے اور دیگر ذرائع سے ڈراوا دو، اپنی کابینہ کے وفاداروں کو روز پنڈی بھیجو، بات نہ بنے تو سفیروں کو انگیج کر لو، دوست ممالک تک اپنی آواز پہنچاؤ، پھر بھی گتھی نہ سلجھے تو تمہیں اپوزیشن کرنے اور جلسوں میں عوام کو اکٹھا کرنا تو آتا ہی ہے نا، جلسے کرو، اس دوران اگر حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تو بھی سرکاری رتبے، وسائل اور اختیارات کا جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو، اب اسے الیکشن کمپین ہی سمجھو! کیونکہ تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستانی عوام بہت جلد سب سچی بری باتیں مطلب سب کچھ بھول جاتی ہے، جو نظر آتا ہے وہ یاد رکھتی ہے،
تمہیں پتہ ہے کہ اپوزیشن سے حکومت تک کے سفر اور پھر کام کی سمجھ نہ ہونے کے باوجود اسی بیانیے کی بیساکھی سے یہاں تک لائے ہو، مہنگائی ہو تو عالمی منڈی، کورونا اور قرضوں کو وجہ قرار دے کر خود کو فرشتہ بنا کر پیش کرو، قتال اور بربریت ہو جائے، کوئی اندوہناک سانحہ ہو جائے تو اسے بیرونی سازشوں کا نام دے کر بری الذمہ ہو جاؤ، بیڈ گورننس کا کوئی سوال پوچھے یا ترقیاتی کاموں کا ذکر کرے تو ان کو بتانا شروع کر دو کہ پچھلے کرپٹ تھے، وہ ساری دولت لوٹ کر باہر لے گئے اور میں تو اصلاح کرنے آیا ہوں، میرے ہاتھ صاف ہیں، میں صادق اور امین ہوں یعنی بیانیہ وہی رکھو کہ میں فرشتہ ہوں باقی سب چور، اچکے اور ڈاکو ہیں۔ اور تم نے دیکھا نہیں تم یہی بیانیہ پونے چار سالہ اقتدار میں بھی اچھا بیچ چکے ہو، اس کے خریدار کم نہیں ہوئے، چوروں والا بیانیہ خوب بکتا ہے۔ سو تم بیچو جتنا بک سکتا ہے۔
پھر وہ بذریعہ سرکاری ہیلی کاپٹر ذاتی جلسوں کے لیے نکلتا ہے، دو چار باتیں مقامی لوگوں سے متعلق کرتا ہے، اس کے بعد عدم اعتماد کی سولی پہ لٹکی اپنی بے بسی کی لاش کو میک اپ کر کے سجاتا ہے، اپوزیشن اور اتحادیوں کو دھمکیاں دیتا ہے، چوری، کرپشن اور ضمیر فروشی کے بیانیے کو خوب بیان کرتا ہے، لائے گئے نوجوانوں کا مجمع تالیاں بجاتا ہے، لفظ ڈیزل پہ ہجوم کھل اٹھتا ہے وہ پھر خوش ہو جاتا ہے کہ لوگ تو اس کے ساتھ ہیں، اس لیے گلا پھاڑ کے کہتا ہے کہ میں اب امروباالمعرف کرنے نکل پڑا ہوں، 27 مارچ کو ڈی چوک عوام کا سمندر لاؤں گا، اس دن ترپ کا پتہ کھیل کر اپوزیشن کو نیست و نابود کر دوں گا، پھر وہ منحرف اراکین جو کبھی اس کے تھے ہی نہیں ان کو برا بھلا کہنا شروع کرتا ہے، ان کو لوٹے، ضمیر فروش، گدھے، خچر، گھوڑے کہہ کر نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ نوجوانوں کی برین واشنگ کرتا ہے کہ یہ سب بکنے والے چور ہیں، یہ پاکستان کے لیے خطرناک ہیں، ان کو ہم اسمبلیوں سے ڈی سیٹ کروائیں گے، اور یہ زرداری سے اربوں روپے لے چکے۔
لیکن پھر ان منحرف یا ناراض دوستوں کو پیار سے کہتا ہے، واپس آ جاؤ، این آر دوں گا، معاف کر دوں گا، کسی کو کبھی کچھ نہیں کہوں گا۔ ڈرانے سے اپنا ڈر دور کرنا اور پھر منت ترلے اور بد دعائیں دینے کا سفر جاری ہے۔
آج کل اس بیانیے کو مزید چمکا کر وہ اپنے خاص ساتھیوں اور کابینہ کے وزراء کو روزانہ بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ سنو! ہمارے اپنے ساتھی ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں، اگر آپ لوگ اکٹھے نہ ہوئے تو آپ کو جو مار پڑنی ہے وہ بہت بری ہو گی، لہذا ڈٹ جاؤ، سوشل میڈیا پہ طوفان بدتمیزی مچا دو، میں بھی الیکشن کمیشن کے احکامات کی پرواہ کیے بغیر جلسے کروں گا، ان کو لتاڑوں گا، ہر جگہ بحث چھیڑ دوں گا کہ عمران خان کو چھوڑ کے جانے والا تباہ ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ، اور آپ نے ہار نہیں ماننی، ٹی وی پر بیٹھو تو زیادہ ہنس کے دکھاؤ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، ہمیں کوئی ڈر نہیں، اسلامی و دینی باتیں زیادہ کرو، بتاؤ کہ ضمیر فروشی ایک لعنت ہے جس سے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں، بتاؤ چور، ڈاکو چوری کے پیسے سے لوگوں کو خرید رہے ہیں، اس بیانیے کو میں اور آپ نے اسے اتنا زیادہ دہرانا ہے کہ ہماری ہر بات، ہر بیانیہ سچ لگنے لگے۔
اس دوران کابینہ کے ایک بندے نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ ابھی تک بکنے والا کوئی ممبر ثابت نہیں ہوا نہ کسی کے پیسے پکڑنے کے ثبوت ہیں، کل ہم عدالتوں میں کیسے ثابت کریں گے، ان کے لیڈر نے جواب دیا، کیا نواز شریف پہ کچھ ثابت ہوا تھا؟ اسے مجرم بنا کر ملک بدر کر چکے ہیں، اسی طرح منحرف لوگوں کے بارے بھی بتاؤ کہ یہ بکے ہوئے ہیں، ہم نے کون سا کسی کے مانگنے پر ثبوت دینا ہے، ہمارا الزام لگانا ان کے لیے اتنا خطرناک ہو گا کہ وہ پبلک پریشر پر واپس آئیں گے اور ہم اپوزیشن کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جب تک کھیل جاری ہے تم لوگوں نے پیچھے نہیں ہٹنا، ہم اس کھیل کو لمبا کھینچیں گے، تب تک کوئی بارگین کر لیں گے۔
لیکن حقائق کیا ہیں، واقفان حال اچھی طرح جانتے ہیں، سوشل میڈیا سے لے کر ہر چینل عمران خان کو مائنس کر کے رخصت کر بیٹھا ہے، نمبر گیم میں حکومت ختم ہو چکی ہے، اخلاقی طور پر عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، اکثریت کب کی ختم ہو چکی، منحرف ممبران کو ڈی سیٹ کر کے حکومت خود کہاں بچ سکتی ہے، اتحادی ناراض ہو کر اپنے فیصلے محفوظ کیے بیٹھے ہیں، ملک میں غیریقینی صورت حال ہے، غیرآئینی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن اداکاروں کی اداکاری جاری ہے۔
جبکہ دیوار پہ لکھا ہوا صاف نظر آ رہا ہے کہ قوم نا اہلی کی قیمت بھگت رہی ہے، اب ان قومی مجرموں کی باری ہے جن کو کٹھ پتلیاں بنا کر اتارا گیا گیا۔ کیا خبر کتنا وقت بچا ہے لیکن اقتدار سدا کسی کے ہاتھ رہا نہیں۔ ہم بھی دیکھتے ہیں کھیل کو کہاں تک لے کر جاتے ہیں۔ تبدیلی کا جھوٹا بیانیے کی سانسیں اکھڑ چکیں، وینٹی لیٹر لگا دیا گیا، عوام کو ڈاکٹر نے آ کر اطلاع دینی ہے۔ آئی ایم سوری۔ تبدیلی کی موت ہو گئی ہے۔ شاید یہ رمضان سے پہلے ہو یا رمضان میں، آئی سی یو میں جانے کی ہمیں اجازت نہیں۔


