نوٹوں کی درانتیاں


گھنے بادل اور چمکتی بجلی دیکھ کر شمسو نے بیوی سے کہا بچوں کو کھانا دے کر کام ختم کردو، مجھے موسم کے تیور اچھے نہیں لگ رہے۔ وہ دروازہ بند کر کے لیٹے ہی تھے، کہ کسی نے دروازے کو پیٹنا شروع کر دیا، شمسو نے تو اس شور کو ان سنا کر دیا، لیکن اس کی بیوی نے کہا ”اے جی سنتے ہیں آپ، اتنے دیر سے دروازہ پیٹ رہا ہے کوئی، آپ جاتے ہیں یا میں دیکھ آؤں“ ۔

بیوی کی آواز سن کر شمسو نے جونہی بستر سے منہ نکالا تو کھانسنا شروع ہوا، اور کھانستے کھانستے خود کے ساتھ بڑبڑا بھی رہا تھا، اور گھر کی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا، اور دروازہ مسلسل پیٹا جا رہا تھا بالکل ایسے جیسے کوئی کسی کا قرض کھا کے اندر بیٹھا ہو۔ شمسو نے کنڈی ہٹا کے جونہی دروازہ کھولا، سامنے تبریز کھڑا تھا، اور اس کے ساتھ دو اوباش قسم کے لڑکے بھی کھڑے تھے۔

”بڈھے! تو نے ہمیں دھوکا دے کر ووٹ ہمارے مخالفوں کو بیچ دیا، ضمیر فروش، دھوکے باز۔“

شمسو نے تبریز کی باتیں سنیں اور نظریں اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا، اسے وہاں دو ہلکی سی چمکتی بجلیاں نظر آئیں جو ایک نقطے سے شروع ہو کر تھوڑا سا ساتھ چلیں اور پھر مخالف سمت پھیل گئیں۔

شمسو نے پھولتے سانس سے سمجھوتا کیا، زور سے کھانسا، اور جب ذرا سنبھلا تو بولا ”تبریز، میں نے کوئی دھوکا نہیں دیا کسی کو“

تبریز نے اس کی بات کاٹ کے انتہائی نفرت اور غصے سے کہا ”تم نے ملک صاحب کو دھوکا دیا ہے، سمجھے“ ۔

شمسو کے چہرے پہ ایک پھیکی سے مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولا ”اچھا! جب کوئی بڑا آدمی یا سیاست دان جھوٹ بولتا ہے اور دھوکا کرتا ہے تو اسے سیاسی چال کہا جاتا ہے، اور ہم مجبوری میں کچھ کر گزریں تو وہ دھوکا، واہ تبریز واہ“

تبریز مزید غصے سے چلایا ”او شمسو، ضمیر بیچا ہے تو نے، ووٹ کا سودا، ضمیر کا سودا ہوتا ہے“ ۔

شمسو کے چہرے پہ جیسے کسی نے غصے کا رنگ انڈیل دیا، اس کی آواز بدل گئی، اس کے تیور دیکھ کے اس کی سانس کی پھولن بھی سہم کر غائب سی ہو گئی، اس نے ارد گرد کھڑے لوگوں جو کچھ ہی دیر میں جمع ہو گئے تھے اور ان کے چہرے تاریکی کی وجہ سے واضح طور پر نہیں دیکھے جا سکتے تھے پر ایک نگاہ ڈالی اور بولا،

”میں نے اپنا ہی نہیں، اپنی بیوی اور بالغ بچوں کا بھی ووٹ بیچا ہے، اور میں اس کا برملا اقرار کرتا ہوں“ وہ ایک لمحے کو رکا، ہر طرف پوری طرح سکوت چھایا ہوا تھا، آسمانی بجلیاں بھی اسے سننے کو خاموش ہو گئی تھیں، اس نے تبریز کو دیکھا اور کہا ”تبریز، ہمیشہ ضمیر فروشوں سے ہی کیوں سوال کیا جاتا ہے؟ کبھی کسی ضمیر کے بیوپاری سے بھی کسی نے استفسار کیا ہے کہ تمھارا اپنا ضمیر تو مردہ ہے، تم لوگوں کے جاگتے مگر لڑکھڑاتے ضمیر کیوں خریدتے ہو؟ کیوں مار دیتے ہو زندہ لوگوں کو نوٹوں کی درانتیوں سے؟“ اس کی آواز میں شدت آ گئی تھی جیسے وہ چلانا چاہتا ہو۔

تبریز غصے سے بپھر کے بولا، ”شمسو، تم اپنی حد سے بڑھ رہے ہو، اب تو ملکوں سے سوال کرے گا، ہیں؟

شمسو مسکرایا، اس کی کھانسی جیسے جا کے اس کے سینے میں کہیں دب گئی تھی، لیکن جیسے ہی اس نے بولنا شروع کیا تو ریشہ ابھی بھی اس کی آواز سے اٹک رہا تھا، ”نہیں، جو منہ ایک ایک نوالے کے لئے ترستے ہیں، اس سے سوال نہیں نکلتے، ( تبریز اسے ٹکٹکی باندھ کے دیکھ رہا تھا) ، وہ ذرا رکا، مسکرایا اور پھر بولا،“ یہ بات تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گی، کیونکہ تمھاری عقل پہ بچپن سے ہی ملکوں نے لالچ کا تالا لگا دیا ہے، اور کنجی اپنے پاس رکھ لی ”۔

تبریز چلایا، ”ہاں ہاں تو ہی واحد دانشور ہے اس بستی کا، مجھے کہاں سمجھ آتا ہے کچھ“ ۔

شمسو اس دفعہ ایسے مسکرایا جیسے خود پہ مسکرا رہا ہو، ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گیا ایسے جیسے روشنی کی رفتار سے اپنے ماضی کا چکر لگا کے آ رہا ہو، پھر تبریز کو دیکھا اور بولا ”دانش، ہاں دانش ہی وہ چیز ہے جس کی اس بستی میں بلکہ اس ملک میں کوئی قیمت نہیں، اس کے لیے کوئی ایک دھیلا دینے کے لئے تیار نہیں، دانش کدے یہاں کب کے ویران ہوچکے ہیں۔“

”اے بھائی“ تبریز حقارت سے بولا، ”یہ اپنی نصیحت اپنے پاس رکھ، اور کل ملک نے تمھیں بلایا ہے، وقت پہ آجانا۔“

”آ جاوں گا اس کی لعن طعن سننے بھی“ کہہ کر شمسو دروازہ بند کرنے لگا تو دیکھا کہ اس کی بیوی بھی پیچھے کھڑی تھی، پتہ نہیں وہ کب سے دروازے کے پیچھے کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی۔

تبریز نے آواز دی، ”ملک صاحب لعن طعن نہیں کرتے، سوال کرتے ہیں اور سیدھا جواب مانگتے ہیں، ثبوت سمیت، اور مطمئن نہیں ہوتے تو سزا دیتے ہیں۔“

اسی دوران شمسو جو ابھی دروازہ آدھا بند کیے کھڑا سن رہا تھا بول پڑا، ”تبریز میں نے ووٹ جسے تم ضمیر کہتے ہو، بیچا ہے کیونکہ یہ مجھے خون اور گردے بیچنے سے آسان لگا“ اب آسمان چپ تھا اور زمین شمسو کی روہانسی آواز سے لرز رہی تھی، ”اس پیسے سے بس ایک خوانچہ ہی لگا سکا، اور اب روز اٹھ کر صبح سے شام تک اپنے اور اپنے بچوں کی بھوک کے خلاف جنگ لڑتا ہوں، کبھی وہ جیت جاتی ہے تو کبھی میں“ وہ سانس لینے کے لئے رکا اور پھر بولا، ”ضرورت پڑی تو اپنے بچوں کی ایک مسکراہٹ کے لئے اپنا آپ بھی بیچ دوں۔“

”بیچو، اور بیچو، جمہوریت تم جیسے لوگوں کی وجہ سے نہیں پنپتی، بے غیرت“ تبریز غصے سے چلایا اور اس کے دونوں ساتھی ابھی تک اس کے پیچھے ایسے چوکنے کھڑے تھے جیسے بس اس کے ایک اشارے کا انتظار کر رہے ہوں۔

گالی سن کر شمسو کے بدن میں بجلیاں کڑکیں اس کی انگلیاں مڑ کر سخت مٹھی بن گئیں، اس کے غصہ آلود چہرے سے ایک نفرت انگیز مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولا ”جمہوریت، بڑی اچھی چیز ہے، اس کی وجہ سے پانچ سال میں ایک دفعہ ہم جیسے بھوکے لوگوں کو جی بھر کے کھانا نصیب ہوتا ہے، اور تو اور ہماری رائے بھی پوچھی جاتی ہے، اور اس کی قیمت بھی لگائی جاتی ہے“ اس نے ایک دفعہ پھر اپنے بستی کے لوگوں پہ نظر دوڑائی اور کہا ”ایک غریب سے زیادہ کون جانتا ہے جمہوریت کی قدر اور قیمت“ ۔

اس نے دروازہ بند کر دیا اور تبریز باہر چیختا چلاتا رہ گیا۔

Facebook Comments HS