شادی ہال واقعہ: پنجاب پولیس کا اپ ڈیٹ
پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے واقعے کے بارے میں اپنا تازہ موقف جاری کر دیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ شادی ہال میں مزدور کی لاش کی موجودگی میں باراتیوں بے نیازی سے کھانا کھا رہے تھے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی تھی۔
پنجاب پولیس نے اپنے ابتدائی موقف میں کہا تھا کہ ”آئی جی پنجاب نے اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور ڈی پی او قصور کو واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔“
تازہ موقف میں یہ کہا گیا ہے کہ محنت کش پر تشدد کی تصدیق نہیں ہوئی اور ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پنجاب پولیس نے اپنی ٹویٹس میں کہا ہے کہ
”قصور میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش کی ہلاکت کے واقعہ میں شادی ہال مینیجر سمیت 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے متوفی کے جسم پر تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعہ کی ہرپہلوسے انکوائری کی جا رہی ہے۔ PFSA کی ٹیم نے جائے واردات سے شواہد اکٹھے کرلئے ہیں“
”حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ ڈی پی او قصور واقعہ کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں۔ مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قصورواران کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔“
سما نیوز نے اس واقعے کے بارے میں پولیس اور ڈی پی او قصور کا موقف بھی اپنی خبر میں دیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ”پولیس کے مطابق واقعہ پیر 21 مارچ کی رات پیش آیا۔ جہاں ضلع قصور کے شہر پتوکی میں باراتیوں کے تشدد سے پاپڑ فروش دم توڑ گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی، جب کہ شادی ہال کے مینجر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔“
”واقعہ کا مقدمہ اہل خانہ کی مدعیت میں تھانہ سٹی پتوکی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت درج کی گئی ہے درج ایف آئی آر کے مطابق 5 سے 6 افراد نے مقتول پر بے پناہ تشدد کیا اور اسے مارتے ہوئے شادی ہال میں لے گئے۔“
سما نیوز نے ڈی پی او قصور کا موقف یوں دیا ہے
”ڈی پی او قصور کے مطابق میرج ہال میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش کے واقعہ میں 12 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کی ٹیموں نے رات گئے کنگن پور، پتوکی اور سرائے مغل میں کارروائی کر کے 12 افراد کو حراست میں لیا۔“
”پی ایف ایس اے کی ٹیم نے جائے واردات سے شواہد اکٹھے کرلئے ہیں، حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پی او قصور واقعہ کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔“
پنجاب: پتوکی کے شادی ہال میں لڑائی میں محنت کش کی ہلاکت، 12 ملزمان گرفتار
2/2حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آ ئیں گے۔ڈی پی او قصور واقعہ کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں ۔ مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قصورواران کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی.
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) March 22, 2022


