ہائبرڈ سسٹم کی ناکامی
وزیراعظم کا فرمانا ہے کہ وہ رشوت دے کر حکومت بچانے کو لعنت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے لوٹا کریسی کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا ہے۔ کہ بطور پارٹی سربراہ وہ حکومت سے بغاوت کرنے والوں کو ایک موقع دیتے ہیں۔ اگر وہ واپس آ جاتے ہیں تو انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ ورنہ وہ اور ان کے بچے علاقے میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لوگ ان کا سوشل بائیکاٹ کریں گے۔ تعلیمی اداروں میں ان کے بچوں کو برا بھلا کہا جائے گا۔
بعض معتبر صحافی حضرات نے وزیراعظم کے اس بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے۔ اگر کسی باغی ممبر قومی اسمبلی کی فیملی کو کسی قسم کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تو اس کی براہ راست ذمہ داری خان صاحب پر عائد ہوگی۔ سیاسی عداوت کا رخ بچوں اور فیملیز کی طرف موڑنا انتہائی نامناسب اور قابل افسوس اقدام ہے۔
اب جب کہ خان صاحب کو اپنی حکومت گرنے کا خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ تو انہوں نے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے خلاف ہاہا کار مچانی شروع کردی ہے۔ ان کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے کے جتن کیے جا رہے ہیں۔ مگر جب صادق سنجرانی کو اپوزیشن کے ووٹوں سے چیئرمین سینیٹ مقرر کیا جا رہا تھا۔ تو اس وقت ان کا ضمیر کیوں سویا ہوا تھا۔ اس وقت اگر وہ لوٹا کریسی کو ضمیر کی آواز سے تشبیہ نہ دیتے تو آج ان کو یہ برا وقت دیکھنا نہ پڑتا۔
درحقیقت خان صاحب کو شاید اس بات کا احساس ہو چکا ہے۔ کہ اقتدار کی شاندار کرسی سے ان کو اتارنے کا بندوبست ہو چکا ہے۔ وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کہ جس سج دھج سے ان کو وزیراعظم ہاؤس کا مکین بنایا گیا تھا۔ اسی طرح بے آبرو کر کے ان کو رخصتی کا پروانہ تھما دیا جائے گا۔ حیرانی کی بات مگر یہ ہے۔ کہ بوسیدگی کا شکار ہائبرڈ سسٹم جسے تقریباً ́ دس سال کے لیے پلان کیا گیا تھا۔ وہ کیسے تین سالوں کے اندر ہی ایک فلاپ فلم کی طرح ڈبوں میں بند ہونے والا ہے۔ حالانکہ منصوبہ سازوں نے اس کی تیاری میں بڑی محنت اور ریاضت کی تھی۔
دیکھتی آنکھیں اور سنتے کان حیرت اور مسرت کے ساتھ اس انہونی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹس میں روتی بسورتی عمر رسیدہ خواتین جن کی قوت خرید جواب دے چکی تھی۔ جو اگر گھر کا راشن خریدتی تھیں۔ تو بجلی اور گیس کے بل بھرنے کے لیے ان کے پاس پیسے ہی نہیں بچتے تھے۔ شاید اللہ پاک نے ان کی فریادیں سن لیں۔ اور نا اہلی پر مبنی یہ جعلی سسٹم زمین بوس ہونے والا ہے۔
جب موجودہ حکومت اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئی یا کی گئی۔ تب طاقتور شخصیات کی طرف سے میڈیا کو کہا گیا۔ کہ چھ مہینے تک حکومت کے مثبت اقدامات کو اجاگر کیا جائے۔ اور منفی باتوں سے چشم پوشی اختیار کی جائے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کپتان اور اس کی ٹیم چھ ماہ تو کیا تین سالوں میں بھی ملک کے لیے کچھ اچھا نہ کرسکے۔ دراصل ان کے اندر حکومت چلانے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ کپتان اس گھمنڈ کا شکار تھا۔ کہ جس طرح اس نے ایک کمزور ٹیم کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔
اسی طرح اپنی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دے گا۔ پرو عمران صحافی اور بلاگر کہا کرتے تھے۔ 2020 تک پاکستان اس قدر خوش حال ملک بن جائے گا۔ کہ باہر سے لوگ پاکستان میں نوکریوں کی تلاش میں آہیں گے۔ اس کے بالکل برعکس عمران سرکار نے لاکھوں ملازمین کو بے روزگار کر دیا۔ نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے کم کر کے 55 سال کردی گئی۔ ملک بھر میں کارخانوں اور ملوں کی جگہ پناہ گاہوں کا جال بچھا دیا گیا۔ تاکہ لوگ محنت مزدوری کرنے کے بجائے مفت کی روٹیاں توڑیں۔
دراصل عمران خان اور ان کی ٹیم میں پرفارم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ وہ صرف وقت گزار رہے تھے۔ جس کو سمجھتے سمجھتے طاقتور قوتوں کو تین سال لگے۔ وزیراعظم نے اپنی چرب زبانی کی بدولت نہ صرف عام آدمی بلکہ اپنے لانے والوں کو بھی مایوس کر دیا۔ اس طرح کا جعلی نظام کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتا اور جلد ہی اس پر سے ملمع اترنا شروع ہوجاتا ہے۔ حکومتیں تقریروں اور چرب زبانی سے کبھی نہیں چلتیں۔ اس کے لیے محنت، ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اچھا کرکٹر ضروری نہیں ہے اچھا لیڈر بھی ثابت ہو۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والی بعض شخصیات معیشت پر اچھے خاصے لیکچر اور ہدایات جاری کیا کرتی تھیں۔ لیکن عمران خان اس حوالے سے بڑے خوش قسمت ثابت ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں کسی نے نہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی اور نہ کسی نے ناک بھوں چڑھائی۔
عمران خان نے اپنی حماقت سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حساس ترین معاملے کو بڑے بچگانہ انداز میں ڈیل کر کے طاقتور قوتوں کو ان سے جان چھڑانے کا نادر موقع فراہم کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے نادان وزراء اور معاونین نے اس اہم معاملے کو میڈیا میں اچھال کر جلتی پر تیل ڈالا۔ تین مہینے تک معاملہ لٹکا رہا۔ اور ادارے کی خوب جگ ہنسائی کرائی گئی۔ سرکاری گماشتے وزیراعظم کے استحقاق کی مالا جپتے رہے۔ قومی دفاعی ادارے اور اس کے سربراہ کی عزت اور ساکھ کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم صاحب شاید کسی غلط فہمی کا شکار تھے۔ انہوں نے سمجھا ہو گا کہ عوام کا جم غفیر ان کے ساتھ ہے۔ لہذا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
نوٹیفکیشن میں غیر ضروری تاخیر بڑی سنگین غلطی تھی جس کو نظر انداز کرنے کی بالکل گنجائش نہیں تھی۔
ماضی میں جب نواز شریف نے آرمی چیف کو اپنے سامنے ایک عام کرسی پر بٹھایا تھا۔ تو فوج میں نچلی سطح پر اس حرکت کو بہت برا سمجھا گیا۔ موجودہ دور میں ایک اہم ترین تعیناتی کے موقع پر وزیراعظم نے جو بلاوجہ کی رکاوٹ ڈالی۔ اور اسے نومبر تک کھینچ کر لے گئے۔ کیا فورسز میں اس حرکت کو اچھی نظروں سے دیکھا گیا ہو گا۔ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے۔
بہرحال گیم اب وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ اب وہ وکٹیں اڑانے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے بڑی سوچ بچار کے بعد تاریخ کی ناکام ترین حکومت کو مزید کمک پہنچانے سے انکار کر دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کے بعد اپوزیشن نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا کر تبدیلی کے سفر کو اس کی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم کرنے کا نقارہ بجا دیا ہے۔ ایک سینئر اینکر نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اگر وزیراعظم اپنی فیورٹ شخصیت کو عسکری ادارے کا سربراہ بنانے کا ارادہ ترک کر دیں۔ تو اس صورت میں تحریک عدم اعتماد واپس بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی نوبت آتی ہے تو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا ہو سکتا ہے۔
اس وقت گیند سپیکر کی کورٹ میں ہے۔ عمران خان کی قانونی ٹیم انہیں معاملے کو لٹکانے کے گر سکھا رہی ہے۔ تاکہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔ آنے والے دنوں میں سپیکر کا کوئی بھی عمل جمہوریت پر بڑے گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اور تاریخ کے اوراق میں ان کا نام اچھے یا برے الفاظ میں درج ہو جائے گا۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اپنا آئینی کردار کس طرح نبھاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو اپنی جماعت کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ قانونی ٹیم سپیکر کو یہ باور کرا رہی ہے۔ کہ وہ باغی اراکین کا ووٹ شمار کرنے سے انکار بھی کر سکتے ہیں۔ پارلیمانی روایات سے ہٹ کر اگر کوئی قدم بھی اٹھایا جاتا ہے۔ تو اس اپوزیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ لہذا حکمرانوں کو محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔
چونکہ حکومت اس وقت بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔ لہذا اس کے پاس اس سچوایشن سے نکلنے کے لیے صرف دو ہی راستے باقی بچے ہیں۔ جس پر عمل کر کے بحران کا ٹالا جاسکتا ہے۔ یا تو تحریک عدم اعتماد کا آئینی طریقے سے سامنا کیا جائے۔ اور یا وزیراعظم صاحب اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ ویسے بھی وہ اکثریت کھو چکے ہیں۔ ایک طرف عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے اپنا نیوٹرل رول ختم کر کے حکومت کی مدد کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا گالم گلوچ گروپ عسکری شخصیات کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلاظت بھری مہم چلانے میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف کی ایک متحرک ایم این اے نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان کے ذریعے عسکری اداروں پر بعض سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔


