میرے کپتان: ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے


دنیا بھر کی حسینائیں آپ پہ مرتی تھیں، ایک عالم آپ کا دیوانہ تھا۔ ورلڈ کپ 92 جیتنے کے بعد آپ کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن چکے تھے۔ آپ چاہتے تو اس کے بعد ساری زندگی عیش و آرام سے گزار سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے سیاست کی وادی پر خار میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ بائیس برس آپ اقتدار میں آنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ ان بائیس برسوں میں آپ نے اپنی ٹیم بنائی۔ اس ٹیم میں ایک سے بڑھ کر ایک انمول رتن تھا۔

لیکن جب آپ نے حکومت بنائی تو شریکوں نے الزام لگایا کہ آپ کی ٹیم پاکستان کی معیشت اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ آپ نے محض ان کا دل رکھنے کے لیے مخالفین سے بھی ممبران لے کر انہیں وزارتیں دیں۔ اور کئی وزرا کے محکمے تبدیل کیے۔ آپ جلد از جلد اقتدار میں آ کر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے تھے مگر ملک کی باگ ڈور سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ پکڑائی نہیں دے رہے تھے۔

پھر آپ نے قوم کو بتایا کہ یہ سب چور اور ڈاکو ہیں۔ ہماری قوم کو کوئی بات جلدی سمجھ نہیں آتی اسی لیے آپ کو پورے بائیس سال مسلسل تکرار کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ آپ کا تکیہ کلام بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ روحانیت کی طرف مائل ہوتے چلے گئے۔ چناں چہ ”غیبی طاقتیں“ آپ کے ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ اس کے بعد پانسا پلٹ گیا۔ ”ہما“ کو پکڑ کر آپ کے کندھے پر بٹھا دیا گیا۔ آپ نے عنان حکومت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اپنے قول کے مطابق چوروں اور ڈاکوؤں کی بیخ کنی کی۔ اربوں ڈالر کا لوٹا ہوا مال برآمد کیا اور آئی ایم ایف قرض چکایا۔

عوام نے جب دیکھا کہ انہیں ایک ایماندار اور ہینڈسم حکمران مل گیا ہے تو وہ ٹیکس بھی دینے لگے۔ آپ نے ہی بتایا تھا کہ سابقہ حکمرانوں کے دور میں روزانہ کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن ہوتی تھی۔ آپ کی ایماندار ٹیم کے آتے ہی ظاہر ہے وہ بھی ختم ہو گئی۔ اب حکومت کے پاس اتنا سرمایہ تھا کہ سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ کہاں خرچ کریں چناں چہ کوئی بڑا پراجیکٹ شروع نہ ہو سکا۔

جس طرح کرکٹ میں ہر اوور کے بعد آپ بیٹسمین کے مطابق فیلڈ چینج کرتے تھے اسی طرح آپ نے اپنی ٹیم کی وزارتیں بار بار تبدیل کر کے سابقہ حکمرانوں کو بتایا کہ حکومت کیسے کرتے ہیں۔ سابقہ حکمران آئی ایم ایف وغیرہ سے پیسے مانگ کر موٹر ویز، اورنج لائن اور میٹرو بس وغیرہ جیسے منصوبے مکمل کر چکے تھے۔ مگر آپ کے پاس چوں کہ پیسے کی کمی نہ تھی لہٰذا آپ نے اس نے تین گنا زیادہ پیسے لگا کر پشاور میں میٹرو بس چلا کر دکھائی۔ جس پر سابقہ حکمران کافی شرمندہ ہوئے۔

سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے ملک میں گرمی بڑھتی جا رہی تھی۔ چنانچہ آپ نے ملک میں اربوں درخت لگا دیے۔ اتنے درختوں کی وجہ سے موسم ہی بدل گیا۔ اتنی بارشیں ہوئیں کہ لاہور شہر، وینس بن گیا۔ مری میں برف کا طوفان آ گیا۔ ان نقصانات کی وجہ سے آپ نے ان درختوں کو بادلوں اور عوام کی نظروں سے اوجھل کر دیا تاکہ توازن قائم رہے۔ آپ غریب عوام کو کاروبار کے نئے نئے آئیڈیاز بھی وقتاً فوقتاً دیتے رہے۔ انڈے، مرغیاں اور کٹے پالنے کے نادر آئیڈیاز آپ ہی کے فکر رسا کی دین ہیں۔

آپ کے آنے سے ترقی و خوشحالی کا سنہرا دور شروع ہو چکا تھا۔ عوام کی قوت خرید بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ اس لیے آپ نے ڈالر، پیٹرول، گھی، آٹا، بجلی گیس سمیت تقریباً ہر چیز کے ریٹ دو تین سو گنا بڑھا دیے۔ تا کہ عوام ان چیزوں کے حصول کے لیے معمولی سی رقم دیتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ کریں۔ تاہم مخالف پارٹیوں کے گنے چنے کروڑوں لوگ خواہ مخواہ مہنگائی کا رونا روتے ہوئے غم و غصے سے بال نوچتے تھے۔ آپ نے اس کا علاج بھی ڈھونڈ لیا اور کار سرکار کے ساتھ ساتھ جلسوں میں ممکری کر کے انہیں اچھی خاصی تفریح فراہم کی۔ جیسے بلاول بھٹو، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن کی نقلیں ایسے مزاحیہ انداز میں اتاریں اور ایسے ایسے نام رکھے ہیں کہ وہ لوگ جو مہنگائی کا ڈراما کر کے رو رہے تھے وہ بھی ہنسنے پر مجبور ہو گئے۔

آپ نے قوم کی زبان کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا۔ اس سے پہلے بہت سے لفظ عوام کے سینوں میں مچلتے رہتے تھے لیکن زبان پر نہ آنے کی وجہ سے وہ ڈپریشن، ٹینشن اور اینگزائٹی کا شکار ہو رہے تھے۔ آپ نے خود بول کر سمجھایا کہ اس طرح دل کو کتنا سکون ملتا ہے۔ چنانچہ اب گلی محلوں، بازاروں، جلسوں، یہاں تک کہ ٹی وی چینلز پر لوگ کھل کر اور منہ بھر کر جو چاہے بولتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ آپ نے قوم کو موہ مایا اور مادہ پرستی کے جال سے نکال کر روحانیت کی طرف مائل کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے دنیاوی تعلیم کے بجائے روحانی تعلیم کی یونیورسٹیاں کھولنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

آپ نے ملک میں نئی سڑکوں کا جال بچھا دیا، سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کر دیا کہ وہ انگشت بدنداں ہیں، ایک کروڑ نوکریاں دے دیں، ساڑھے تین سو ڈیم اور پچاس لاکھ گھر بنا دیے۔ ملک کو مغربی ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا۔ اسی لیے عالمی طاقتیں آپ سے جلنے لگیں۔ بد عنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ”ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل“ نے دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن کے تاثر کے بارے میں 2021 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان درجہ بندی میں 124 سے 140 نمبر پر چلا گیا ہے۔ گزشتہ گیارہ برس میں یہ بد ترین درجہ بندی ہے۔ بہر حال آپ اسے دل پر مت لیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جس طرح اپوزیشن کی آپ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک مغربی طاقتوں کی سازش ہے اسی طرح یہ رپورٹ بھی جھوٹی ہے۔

آپ کی پارٹی سے جو مبینہ طور پر تیس چالیس ارکان باغی ہو چکے ہیں۔ آپ نے ان کی خوب کلاس لی ہے۔ ان کو جن القابات سے نوازا ہے اگر ان میں شرم و حیا ہو تو کبھی پلٹ کر نہ آئیں۔ ساتھ ہی بقول آپ کے چونکہ آپ ان کے باپ کی طرح ہیں اس لیے اگر وہ واپس آ گئے تو آپ انہیں معاف کر دیں گے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

ہے کوئی ایسا لیڈر؟ کوئی اور لیڈر ہوتا تو روایتی سیاست دانوں کی طرح افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا لیکن آپ نے دھمکی اور معافی کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا ہے جو بے مثل ہے۔ اسی لیے ہم دل و جان سے آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپ کے ہر عمل میں آپ کا ساتھ دیں گے۔ حتیٰ کہ اگر آپ نے استعفیٰ دے دیا تو پھر بھی ہم آپ کی حمایت میں اسے درست فیصلہ قرار دیں گے۔ کیوں کہ آپ جیسا واقعی کوئی نہیں۔

Facebook Comments HS