او آئی سی کے اجلاس سے وزیر اعظم کا خطاب: یہ بیانیہ کس نے بنایا؟
اسلام آباد میں مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس شروع ہوا۔ اور میزبان کی حیثیت سے اس افتتاحی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی خطاب کیا۔ اس افتتاحی خطاب میں بھی عمران خان صاحب کی تقریر کا وہی انداز تھا جو کہ ان کے سیاسی جلسوں میں یا میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ تقریر کے شروع میں ہی انہوں نے سننے والوں کو ہزارویں مرتبہ یاد کرایا کہ جن دنوں میں وہ کرکٹ کھیلتے تھے، انہوں نے زندگی کا بہت سا حصہ مغرب میں گزارا۔ اور وہ مغربی دنیا اور ان کی سوچ کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ بھلا ان سے زیادہ مغربی دنیا کو کون سمجھے گا۔ بلکہ ایک مرحلہ پر تو انہوں نے ان تمام وزراء خارجہ کو یہ یاد دلایا کہ انہیں اکثر لوگوں کی نسبت انگریزی زبان پر زیادہ عبور حاصل ہے۔
وزیر اعظم صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے گیند بلا کھیلنا تو بند کر دیا ہے لیکن وہ ذہنی طور پر کرکٹ کی گراؤنڈ سے باہر نہیں نکل پائے۔ وہ ان وزراء خارجہ کو بھی اسی انداز میں مرعوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس طرح وہ کسی زمانے میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو مرعوب کیا کرتے تھے۔
ان کی یہ تقریر ایک سربراہ حکومت کی تقریر سے زیادہ لیکچر معلوم ہو رہی تھی، جس میں ہائی سکول کے طلباء کو مطالعہ پاکستان کا سرکاری نصاب پڑھایا جا رہا تھا۔ بہر حال اس لیکچر کے آغاز میں ہی انہوں نے اس نقطہ پر بہت زور دیا کہ نائن الیون کے بعد مغربی ممالک میں اسلامی دہشت گردی اور شدت پسندی کے بیانیہ کو رواج دیا گیا۔ اور اس سوچ کے بڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان ممالک نے اس کی روک تھام کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور مغرب نے مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھنا شروع کر دیا۔
یہ بات تو درست ہے کہ مغربی ممالک میں ایک طبقہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے بیانہ کو رواج دے رہا ہے۔ اور خدشہ ہے کہ اگر یہ عمل اسی طرح آگے بڑھتا رہا تو ان کی نا عاقبت اندیشی دنیا کے امن کو تباہ کر دے گی۔ لیکن کیا اس کی سو فیصد ذمہ داری ہے صرف مغربی دنیا پر ڈالی جا سکتی ہے۔ کیا مسلمان ممالک میں سرگرم بہت سی دہشت گرد تنظیموں اور ان کے پھیلائے ہوئے زہر کا اس میں کوئی حصہ نہیں؟ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی سر پرستی کی گئی ہے؟ کیا اس وجہ سے پاکستان کی بد نامی نہیں ہوئی؟
اس تحریر میں صرف ایک تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی مثال پیش کی جائے گی۔ عمران خان صاحب ہمیشہ سے طالبان کے لئے ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ خواہ طالبان ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کر دیں، عمران خان صاحب کا یہی موقف رہا ہے کہ ان سے صرف مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اور اگر طالبان تازہ دم ہو کر تمام معاہدوں کو توڑ دیں اور قتل و غارت کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیں تو اس کا یہی حل ہے کہ مزید مذاکرات کیے جائیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اور حکومت نے ان سے مذاکرات شروع کیے ۔ اور ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دو حکومتیں برابر کی سطح پر ایک دوسرے سے مذاکرات کر رہی ہیں۔ حکومت نے ان سے سیز فائز کا معاہدہ بھی کیا۔ اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان ہتھیار اٹھانا بند کر دیں۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟
اس سوال کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ پاکستانی شہریوں کے بارے میں طالبان کیا فتوے جاری کرتے رہے ہیں؟ ان کے شائع کیے گئے ایک اشتہار کی عبارت ملاحظہ فرمائیں
” اگر کافر [شیعہ] اس خطے میں سکون سے رہنا چاہتے ہیں تو تین باتوں میں سے ایک پر عمل کریں
1۔ یا تو دین اسلام قبول کریں
2۔ جزیہ دیں
3۔ یا پھر ہجرت کریں
تینوں عوامل میں سے کسی ایک کو بھی قبول نہ کرنے کی صورت میں تمام شیعوں کی املاک، جائیداد اور امام باڑوں پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ کافروں کی عورتوں کو کنیزیں بنا کر ان سے متعہ [ زنا] کیا جائے گا۔ بچوں کو غلام بنا کر یا تو مسلمان کیا جائے گا یا بیگار کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اگر کافروں نے تحریک کی اس تجویز پر عمل نہ کیا تو کافروں کا خون تحریک پر واجب ہو جائے گا۔ ”
[پنجابی طالبان مصنفہ مجاہد حسین ص 101 ]
کیا حکومت نے مذاکرات کرتے ہوئے یا طالبان سے خفیہ معاہدہ کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ آئندہ سے طالبان اس قسم کے فتوے جاری کر کے ملک کا امن برباد نہیں کریں گے۔ اگر حکومت ان کے خلاف کارروائی بند کر دے اور بالفرض طالبان بھی ہتھیار اٹھانا بند کر دیتے ہیں لیکن پھر اطمینان سے اس قسم کے احکامات جاری کرتے رہتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں ملک میں قتل و غارت نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا۔
طالبان کے فتوے صرف مختلف مسالک تک محدود نہیں۔ انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی پر بھی گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک صحافت کا شعبہ بھی ہے۔ 2012 کے آخر میں تحریک طالبان پاکستان کی مجلس شوریٰ نے پاکستانی میڈیا کی حرکات سکنات کا بغور جائزہ لیا اور اس بارے میں اپنا فتویٰ ”حق و باطل۔ دجالی میڈیا کے بارے میں شوریٰ علماء مجاہدین کا تاریخی فتویٰ“ کے نام سے شائع کیا۔ یہ فتویٰ نائب امیر تحریک طالبان پاکستان خالد حقانی نے شائع کیا تھا اور اب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
اس فتوے میں لکھا تھا کہ پاکستان کے اکثر صحافی شرعی اصطلاح میں ”مرجف“ ہیں کیونکہ وہ اسلام اور کفر کی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اور ”مقاتل“ ہیں کیونکہ وہ کفار اور ان کے معاونین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتے ہیں۔ اور ”ساعی بالفساد“ ہیں کیونکہ وہ عورتوں کو گھر سے باہر آنے اور چادر اتارنے کی تبلیغ کرتے ہیں۔
اور اس فتوے کے آخر میں تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی صحافیوں کے لیے یہ نسخہ تجویز کیا
”اکثر صحافیوں میں یہ تینوں صفات موجود ہیں۔ وہ بجائے توبہ کرنے کے ان اعمال پر اصرار بھی کرتے ہیں۔ لہذاٰ جن صحافیوں کا یہ کردار ہو شرعا ان کا قتل جائز ہے۔ مگر ان کو پہلے تنبیہ کرنی چاہیے۔ پس جو اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور فساد پھیلانے سے باز آ جائیں تو ان کو معاف کیا جائے اور جو بدستور اپنے کام پر ڈٹے رہے تو ایسے لوگوں کے بارے میں اپنی جہادی پالیسی کے مطابق قدم اٹھایا جائے اور پھر کسی ملامت کی پرواہ نہ کی جائے۔ ہاں! ان میں سے جیو ٹی وی، آج ٹی وی، سما ٹی وی، اے آر وائی اور ایکسپریس نیوز، ڈیوہ نیوز، مشال ریڈیو، آزادی ریڈیو اور ریڈیو آپ کی دنیا اور بی بی سی وغیرہ کے رپورٹروں کو بالعموم اور ان کے علاوہ باقی صحافیوں اور میڈیا والوں میں جو زیادہ مضر ہیں ان کے خلاف درجہ بندی سے کارروائی کی جائے۔“
آزادی صحافت کے بارے میں تحریک طالبان پاکستان کے یہ نیک خیالات ہیں۔ البتہ طالبان اتنے بھی تنگ نظر نہیں۔ ان کی تعریف کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ جب عمران خان صاحب کی حکومت معاہدہ کر رہی تھی تو کیا یہ شرط رکھی گئی تھی کہ آئندہ سے طالبان اس طرح پاکستانی شہریوں کو دھمکیاں نہیں دیں گی؟
اس طرح کسی کو دھمکی دینا قانونی طور پر جرم ہے۔ عمران خان صاحب بار بار کہتے رہے ہیں کہ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔ تو کیا ان کی حکومت نے طالبان کو اس جرم کی کوئی سزا دی۔ وطن عزیز میں اس طرح کی تنظیموں اور فتووں کا ایک انبار موجود ہے۔ ان کی موجودگی میں کیا دنیا ہمیں امن پسند سمجھ سکتی ہے؟


