صدارتی ریفرنس
متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا چکی ہے۔ آئین پاکستان میں تحریک عدم اعتماد نمٹانے کا جو طریقہ درج ہے اس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی تحریک پیش ہونے کے 14 دن میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند تھے اور اجلاس شروع ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 7 روز میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا لازم تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے منصب کا بنیادی تقاضا آئین کے مطابق غیر جانبداری سے ایوان چلانا ہے۔
موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی نے مگر اپنی پارٹی وابستگی کے سبب گزشتہ ساڑھے تین سال میں اپنی کرسی کے وقار کو پامال کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ تحریک عدم اعتماد پر اجلاس بلانے کے معاملے میں بھی آئین میں درج واضح ہدایات سے بھی اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نہ صرف روگردانی کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ اس بات کے اشارے بھی دے رہے ہیں کہ اسمبلی اجلاس کے پہلے روز روایات کے مطابق مرحوم رکن اسمبلی کے لیے مغفرت کی دعا کے بعد غیر معینہ مدت تک اجلاس وہ دوبارہ ملتوی کر سکتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت کے لیے اس کھلی سہولت کاری کے سبب سیاسی منظرنامہ کئی دنوں سے نہایت کشیدہ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ صرف اسپیکر کا رویہ ہی غیر جمہوری نہیں ہے پوری تحریک انصاف کا یہی وتیرہ ہے۔ آج ملک جس سیاسی انتشار کا شکار ہے حالات اس نہج تک پہنچانے کی تمام تر ذمہ داری حکمران جماعت پر عائد ہوتی ہے۔ حکمراں جماعت کی سیاست کی وجہ سے سیاسی ماحول تو کشیدہ ہو ہی چکا ہے خدشہ ہے کہ اب یہ آگ گلی کوچوں تک پھیل کر خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے۔ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے بجائے حکومت تشدد کی جانب اس لیے جا رہی ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں ارکان کے درمیان تعداد کا جو فرق تھا حکمران جماعت کے تیس کے قریب ایم این ایز کی کھلم کھلا بغاوت کے بعد وہ ختم ہو چکا ہے اس کے علاوہ اتحادی بھی حکومت سے واضح طور پر فاصلہ اختیار کر چکے ہیں۔
حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا اصل فیصلہ قومی اسمبلی کے ایوان میں ہو گا لیکن جب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے، حکمران جماعت نے جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان جلسوں میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء مخالفین کے خلاف جس قسم کی الزام تراشی، بد زبانی اور گالم گلوچ کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو اپنا بچنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ اسی لیے حکومت اب اپنے حامیوں کو اشتعال دلا رہی ہے تاکہ کوئی بڑا نا خوشگوار واقعہ پیدا ہو اور اسے سیاسی شہید کا درجہ حاصل ہو جائے۔
ورنہ کوئی بھی حکومت نہیں چاہے گی کہ سیاسی کشیدگی گلیوں اور بازاروں میں پہنچ کر امن و امان کے مسائل کا سبب بنے۔ سندھ ہاؤس پر تحریک انصاف کے ایم این ایز کی قیادت میں غنڈوں کے حملے اور پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی رکن اسمبلی صلاح الدین ایوبی پر تشدد کے بعد حکومت کی نیت واضح ہو چکی ہے۔ تحریک عدم اعتماد سے قبل ہی ان دہشتگردانہ حرکتوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء صرف دل کا غبار نکالنے کی حد تک دھمکیاں نہیں دے رہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد سے ایک دن پہلے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 10 لاکھ افراد جمع کریں گے اور ان کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان اسمبلی اسی 10 لاکھ افراد کے اجتماع سے گزر کر جانا پڑے گا، بلکہ ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی بھی حتی المقدور کوشش کی جائے گی۔
حکومت کی اس دھمکی کے جواب میں اپوزیشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل اس کے کارکنان بھی اسلام آباد پہنچ کر بیٹھ جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اب یہی چاہتی ہیں کہ اس کے رضاکار اپوزیشن کے حامی ارکان اسمبلی کو عدم اعتماد کے دن پارلیمنٹ ہاؤس پہنچائیں اور ووٹ ڈالنے کے بعد انہیں بحفاظت واپس بھی لائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں متحدہ اپوزیشن اور حکمران جماعت کے حامی اس کشیدہ صورتحال میں آمنے سامنے ہوں گے اور کسی معمولی سی شرارت کی صورت میں وہاں کا منظر کیا ہو سکتا ہے اس کے بارے میں سوچ کر بھی خوف آ رہا ہے۔
منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے تحریک عدم اعتماد کے نتائج پر اس حوالے سے سامنے آنے والی عدالتی تشریح کا اثر ہو سکتا ہے۔ ہمارے ناقص خیال میں ملکی آئین کسی شخص کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں دے دیتا۔ ویسے بھی جب تک جرم سر زد نہیں ہوتا محض کسی کی نیت پر شبہے کی بنیاد پر سزا نہیں سنائی جا سکتی بہرحال معاملہ اب عدالت میں ہے دیکھنا ہے کہ کیا فیصلہ آتا ہے۔
وزیراعظم اور ان کے وزراء سے اس بات کی توقع تو نہیں رکھنی چاہیے کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں متعدد مواقع پر ایوان بالا میں اکثریت رکھنے کے باوجود اپوزیشن کو شکست کی ہزیمت میں مبتلا کرنے والے دھوکے باز سینیٹرز کی ان میں سے کوئی مذمت کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان صاحب لیکن جلسوں میں اپنے باغی ارکان کے خلاف مسلسل گفتگو کر رہے ہیں لہذا انہیں عوام کے روبرو کم از کم اس سوال کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ آج جن لوگوں کو وہ بکاؤ مال اور ضمیر فروش قرار دے رہے ہیں، جب انہیں علم تھا کہ یہ تین تین مرتبہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے ان کے پاس آئے ہیں تو انہیں اپنی جماعت کا ٹکٹ دینے کی کیا ضرورت تھی؟
وزیراعظم کے پاس اپنی بات کا اخلاقی جواز اس لیے نہیں کیونکہ یہی لوگ جو آج انہیں چھوڑ رہے ہیں وہ کسی اور کی ڈوبتی کشتی سے چھلانگ لگا کر ہی خان صاحب کے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔ اس وقت اگر ان باغی لوگوں کے فعل مکروہ کا کوئی جواز تحریک انصاف کے پاس تھا تو آج وہی جواز مخالفین کے پاس کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہم راتوں رات سیاسی قبلہ بدلنے والے اس مکروہ فعل کی وکالت نہیں کر رہے۔ تاہم یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رک سکتا جب تک سیاسی جماعتیں مشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے والے ابن الوقتوں پر ہمیشہ کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کریں گی۔
یہ تمام سیاسی جماعتوں کا المیہ ہے کہ اپنے وقتی مفادات کی خاطر مشکوک کردار کے حامل لوگوں کو دوبارہ گلے سے لگا لیا جاتا ہے۔ ہم ان سطور کے علاوہ ذاتی طور پر بھی ایک سے زائد بار تمام بڑی جماعتوں کی قیادت سے اس متعلق سوال کر چکے ہیں۔ انہی رویوں کی وجہ سے جمہوریت اور پارلیمنٹ بے توقیر ہوتی ہے۔ آج اپوزیشن جماعتیں اپنے مفاد میں اس کام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں لیکن انہیں اپنے وقتی مفاد سے بالاتر ہو کر اس حوالے سے ضرور سوچنا چاہیے۔


