حلیمہ سلطان’ برا ‘کے اشتہار میں اور پاکستانی صالحین

ترک اداکارہ اسرا بلگچ پاکستان میں بہت معروف ہیں اور ان کی وجہ شہرت سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر بنایا جانے والا ڈراما سیریل ”ارطغرل غازی“ ہے۔ گزشتہ دنوں خواتین کے ملبوسات کے ایک برانڈ ’وکٹوریہ سیکرٹ‘ کے لیے ان کا ایک اشتہار منظر عام پر آیا۔ اسرا بلگچ نے یہ اشتہار اپنے انسٹا گرام پر بھی شیئر کیا۔ پاکستانیوں کی کثیر تعداد انہیں فالو کرتی ہے۔ انہوں نے یہ اشتہار دیکھا تو بھڑک اٹھے اور غم و غصے کے عالم میں اسرا بلگچ کو بے شمار مشوروں سے نوازا۔
کچھ نے ’توبہ استغفار‘ کیا اور کچھ نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی کہ ڈراما ”ارطغرل غازی“ میں وہ ’حلیمہ سلطان‘ کا کردار ادا کر چکی ہیں۔ اس لیے انہیں اس قسم کے اشتہار میں بولڈ لباس نہیں پہننا چاہیے تھا۔ کوئی لکھتا ہے ”آپ کو شرم آنی چاہیے“ تو کوئی کمنٹ کرتا ہے ”حلیمہ باجی ایسے تو مت کرو نا، دل دکھتا ہے“ کسی نے یہ بھی لکھا ”آپ کو شرم آنی چاہیے۔ اگر آپ خود کو برا میں دکھاتی ہیں تو پھر آپ کو حلیمہ سلطان کا کردار نہیں ادا کرنا چاہیے تھا“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرا بلگچ کے پاکستانی فین اس قدر سیخ پا کیوں ہیں؟
پاکستانی صالحین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عورت کو انسان سمجھنے پر تیار نہیں ہیں۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی بسر کرے جبکہ صالح پاکستانی مرد چاہتے ہیں کہ عورت ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ وہ جیسا چاہیں ویسا لباس پہنے، ان کی مرضی سے باہر نکلے، ان کے مرضی سے جیے، ان کی مرضی سے مرے۔ گھر کی عورتوں پر تو ان کا زور خوب چلتا ہے اور گھر سے باہر وہ اپنی مرضی چلانے کی اپنی سی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ ترک اداکارہ پر ان کا زور نہیں چلا تو طرح طرح کے کمنٹ کر کے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کی ہے۔
اسرا بلگچ اس سے پہلے بھی شدید تنقید کا نشانہ بن چکی ہیں جب انہوں نے انسٹا گرام پر جینز اور بکنی پہنے اپنی تصاویر شیئر کی تھیں۔ انہوں نے اپنے نام نہاد مداحوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ انہیں ان فالو کر دیں۔ پاکستانی صالحین بوجوہ ایسا کر نہیں سکتے۔ کیونکہ وہ سماج سدھار کو اپنا مقدس مشن سمجھتے ہیں اور کسی صورت اس سے دستبردار ہونا پسند نہیں کرتے۔ یہ خدائی فوجدار رشوت، ملاوٹ، نوسربازی، دھوکا، ناجائز قبضے، جھوٹی گواہی، گراں فروشی، چوری، ڈکیتی، ریپ اور بد عنوانی پر تو آنکھیں بند کر سکتے ہیں لیکن جہاں عورت کے لباس کا معاملہ ہو وہاں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ حالاں کہ لباس کا انتخاب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اخلاقیات کے معیار ہر معاشرے میں مختلف ہوتے ہیں۔
یورپ، امریکہ یا دبئی کے ساحلوں پر عورت خواہ کتنے ہی مختصر لباس میں ہو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اسے گھو ر سکتے ہیں، ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے جبکہ ہمارے ہاں عورت اگر جینز پہن لے، چادر اوڑھ لے، برقع پہن لے، اکیلی ہو، بچے کے ساتھ ہو، سہیلی کے ساتھ ہو، غرض کسی بھی صورت میں ہو گھورے جانے سے بچ نہیں سکتی۔ کوئی نہ کوئی اپنی نظروں سے ’ایکس رے‘ ضرور کرے گا۔ سڑک پر ہو تو جان بوجھ کر ٹکرانے یا ہاتھ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دنیا کے بیشتر معاشروں میں غیرت کے نام پر لڑکیوں کو بیدردی سے قتل نہیں کیا جاتا جب کہ یہاں تو اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے۔ ”صالحین“ اس کا ایک انوکھا جواز پیش کرتے ہیں کہ ان کا غیرت سے کیا لینا دینا۔ ہم ہی باغیرت لوگ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ عورت کی حیثیت کا تعین بطور انسان کر چکے ہیں جبکہ یہاں ابھی تک عورت کو ”چیز“ ہی سمجھا جاتا ہے۔
عورت ایک ملکیت کی طرح سمجھی جاتی ہے اور اس ”چیز“ کو سانس بھی اپنے مالک کی اجازت سے لینا ہوتا ہے۔ اسرا بلگچ نے اگر ایک ڈرامے میں ”حلیمہ سلطان“ کا کردار ادا کر لیا تو کیا وہ اپنی مرضی سے زندگی بسر کرنا چھوڑ دے؟ ایک اداکار کو اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کردار میں رنگ بھرنا ہوتا ہے، کل اگر کسی ڈرامے میں اسے کسی کال گرل کا کردار ملے تو کیا محض اس وجہ سے انکار کر دے کہ وہ ’حلیمہ سلطان‘ کا کردار ادا کر چکی ہے۔ ایک اداکارہ کو کسی اشتہار میں کام کرنے کی آفر ہوتی ہے اور وہ اپنی مرضی سے اس میں کام کرتی ہے تو کسی دوسرے کو اس کی ذاتی زندگی میں دخل دینے کا کیا حق حاصل ہے؟
مگر وطن عزیز کے صالحین دخل در معقولات کو فرض عین سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اگر کوئی اداکارہ ان کے خود ساختہ اخلاقیات کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو بہترین حل یہی ہے کہ وہ اسے فالو کرنا چھوڑ دیں۔ اسرا بلگچ نے کسی ’برا‘ کے اشتہار میں کام کرنا ہے یا حجاب کے اشتہار میں۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس میں کوئی ایسی قباحت بھی نہیں کہ نام نہاد مداح اس قدر فکر مند ہوں، اور سیخ پا ہو کر فضول کمنٹس کریں۔



