سیاستدان اور عدم تشدد کی سیاست
جمہوریت مکالمے، عدم تشدد اور برداشت کا نام ہے۔ یہ ڈنڈا برداری، گالم گلوچ اور ہا تھا پائی اور اکھاڑے میں اترنے کا نام نہیں ہے۔ جمہوریت صدیوں تک نہ صرف اپنے فیوض و برکات اور نشانات چھوڑ دیتی ہے بلکہ یہ انسانوں کی ذہنی نشوونما اور ارتقاء کا دوسرا نام ہے۔ یہ انسانیت کے لئے فلاحی ریاستوں کا قیام اور شہریوں کو یکساں جینے اور بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کا نام ہے
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں 75 سال تک اہل مقتدرہ کی وجہ سے جمہوری روایات پروان چڑھنے کے بجائے استحصال ہوتے رہے اب بھی یہ لگتا ہے عوام اور عوامی نمائندوں کو صحیح جمہوری رویے اور شعور بیدار کرنے کے لئے مزید 75 سال کا عرصہ درکار ہے۔ ہم اب بھی جمہوری روایات کو اپنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمیں بہت محنت کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی مملکت کا سربراہ اپنے مخالفین کو لعن طعن کرنے اور نقلیں اتارنے میں لگا ہے اور اپنے کارکنوں کو بھی اس سمت میں لگایا ہے۔ انصافیوں کی ٹرولنگ ٹیم نے تین سال میں معاشرے میں ایسا گند پھیلایا ہے جس کو صاف کرنے میں بھی ایک عرصہ درکار ہے۔
یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ پارلیمنٹ میں جس کے نمبر زیادہ ہو ان کو نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے۔ یہ دھونس، دھاندلی اور دباؤ سے نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار سے ہوتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں وزیراعظم اپنے پارٹی ممبران کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں تو ممبران کو یہ آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنا ووٹ کا استعمال کریں۔ حکومت کوئی دباؤ یا حربے سے ان کو نہیں روک سکتی ہیں۔ حکومت کا اپنے منحرف ارکان کو دباؤ میں لاکر ووٹ دینے سے روکنا غیر آئینی ہے۔
ہمارے وزیراعظم کی زبان، اعمال اور کارکردگی کیسی بھی ہو لیکن اپنے آپ کو ایک ایسا اوتار سمجھتے ہیں کہ اس کا ساتھ چھوڑنے والا بد اور ساتھ دینے والے نیک ہیں اس سلسلے میں امر بالمعروف کے نام سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 27 تاریخ کو ایک جلسے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم کے مطابق لوگوں کا ان کا ساتھ چھوڑنا ایسا گناہ کبیرہ ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ شادی بھی کرنا کوئی نہیں چاہیے گا۔ انصافیے اپنے لیڈر کے شانہ بشانہ انتشار اور زبردستی کی حکمرانی اور سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
انصافیوں کا سندھ ہاؤس پر حملہ اور جے یو آئی کے ڈنڈا بردار حرکت الانصار کے کارکن کے جتھے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو گی۔ اگر پارلیمنٹ اور آئین موجود ہو تو مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ پارٹیوں کو کیا ضرورت ہے جتھے لے کر طاقت، تشدد اور بدزبانی سے فیصلے کریں اور ملک میں حالات کو نارمل کرنے کے بجائے انتشار اور انارکی کی طرف لے جائیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کی جماعتیں بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنا پاور شو کریں گی اگر پارلیمنٹ میں مسائل کے حل کے لئے ایک آئینی طریقہ کار موجود ہے تو ڈی چوک اور پشاور موڑ میں دنگل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
پرامن سیاسی شو کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں آئینی اور جمہوری طریقے سے حکومت کا مقابلہ کریں اگر حکومت غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے تو اپوزیشن جلسہ گاہوں کے بجائے عدالتوں کے فیصلوں کا انتظار کریں اس کے بر عکس اگر اپوزیشن بھی حکومت کے رویوں کو اپنائے گی تو جمہوری اقتدار اور روایات کی ایسی تذلیل ہوگی کہ آمریت بھی شرما جائے گی اور ملک بھی تشدد، انتشار اور انارکی کی طرف بڑھ جائے گا۔


