ہم نے شاور جیل خریدا


تو صاحبو، ہم ٹھہرے پرانے خیال کے آدمی۔ یہی سوچتے ہیں کہ نہانے اور شیمپو کرنے کے لیے لال کاربالک صابن سے بہتر کوئی دوسری شے ایجاد نہیں ہوئی۔ بہرحال ایک دن مارکیٹ میں پامولیو کمپنی کا ایک شاور جیل دکھائی دیا۔ ہرے سے رنگ کا تھا، بالکل شربت الائچی جیسا۔ ہم نے اسے اٹھایا اور نہایت توجہ سے اس کا لیبل پڑھا۔ ایک نہایت پڑھا لکھا شخص ہونے کی وجہ سے ہم لیبل پڑھنا لازم سمجھتے ہیں، گو اس بات پر بچے بہت مذاق بھی اڑاتے ہیں کہ بھلا مرغی کے انڈے کا لیبل پڑھ کر ہمیں ایسی کیا نئی بات معلوم ہو سکتی ہے جو لیبل نہ پڑھنے کے سبب جاننے سے ہم محروم رہ جائیں گے۔ بہرحال بچے تو ناسمجھ ہوتے ہیں، ان کی بات کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔ خیر اس لیبل پر لکھا تھا کہ یہ ہمارے اندازے کے برخلاف شربت الائچی نہیں بلکہ شاور جیل ہے اور سو فیصد نباتاتی قدرتی تیلوں اور صندل سے بنا ہے۔

اب آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک پڑھے لکھے دانشور کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ آرگینک، یعنی قدرتی مصنوعات استعمال کرے۔ اس کے بعد ہی وہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ دھرتی محض اس کی وجہ سے بچی ہوئی ہے۔ نیز وہ مصنوعی کیمیاوی عناصر کا بہت مخالف ہے جو قدرتی ماحول کو زہر آلود کر رہے ہیں۔

دانشور اسی سبب گاڑی میں سوڈا پینے کے بعد عوام کی طرح خالی بوتل باہر نہیں اچھالتے۔ حالانکہ یہ ان بڑی شہری آزادیوں میں سے ہے جو ہمیں پاکستان میں میسر ہیں اور اپنے تئیں شخصی آزادی کے علمبردار بنے مغربی ممالک کے شہری اس آزادی کو ترستے ہیں۔ آپ خود غور کریں تو یوں چلتی گاڑی سے خالی بوتل تاک کر باہر سڑک پر پڑی کسی شے کو ماری جائے تو بعینہ وہی فیلنگ آتی ہے جو نیزہ برداری کے مقابلے میں اونچے شملے پہنے شاہسواروں کو دگڑ دگڑ گھوڑا دوڑاتے ہوئے زمین میں گڑے کلے (چوبی میخ) کا نیزے سے نشانہ لے کر آتی ہے۔

بہرحال ہم نے وہ شاور جیل خرید لیا۔ واقعی کمال کی صندلیں خوشبو تھی۔ ہم اس کے گرویدہ ہو گئے اور لال صابن ایک طرف رکھ کر اسی سے نہانے کا شغل اختیار کیا۔ گو ہم نے بہت احتیاط کی تھی اور پانی کی شدید کمی کا شکار ہونے والے وطن عزیز کی خاطر پانی بچاتے ہوئے مہینے میں محض ایک مرتبہ نہایا کرتے تھے، لیکن جلد ہی یہ بوتل ختم ہو گئی۔ اب تک ہم شاور جیل کے مداح ہو چکے تھے۔ اس لیے مارکیٹ جا کر بعیوض زر کثیر نئی بوتل خریدنے کا فیصلہ کیا۔

اب ہوا یہ کہ اس مرتبہ پامولیو کا صندلیں شاور جیل نہیں ملا۔ لیکن ساتھ ہی نیویا کمپنی کا پیلے سے رنگ کا جیل پڑا ہوا تھا۔ ہم نے اسے اٹھایا اور بغور اس کا لیبل پڑھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ وہ ”سن شائن لو“ شاور جیل ہے جو گھیکوار سمیت متعدد نباتاتی قدرتی تیلوں سے بنا ہے اور اس میں سن کی خوشبو ہے۔ ہم نے اس کی رنگت کے متعلق فرض کر لیا کہ وہ سن فلاور یعنی سورج مکھی اور گیندے جیسے پھولوں کے تیل کے سبب پیلی ہو گی۔ خریدا اور گھر لے آئے۔

اب ہوا یوں کہ جب ہم نے اس سے نہانے کا فیصلہ کیا تو اسے بدن پر لگاتے ہی صندل کی بجائے ایک عجیب سی جانی پہچانی خوشبو بدن سے پھوٹنے لگی۔ ہم کچھ دیر تک غور کرتے رہے کہ یہ خوشبو کس پھول کی ہو سکتی ہے۔ کسی پھول سے خوشبو کا میچ نہ ہوا۔ یکلخت یاد آیا کہ یہ تو وہ خوشبو ہے جس سے بھینسوں کا باڑا مہکتا ہے۔ باڑا آنکھوں کے سامنے گھوما، اف خدایا، تو یہ تھا اس کی پیلی رنگت کا راز۔ غالباً یہ شاور جیل خاص طور پر گوالوں اور بھینسیں پالنے والے دیگر شوقین مزاج حضرات کے لیے بنایا گیا تھا، خرید ہم بیٹھے۔

اب کوئی چار مہینے ہو چلے ہیں۔ اس کے ساتھ لائے دوسرے دو شاور جیل جو کیمیاوی عناصر سے بنے ہیں اور زمینی ماحول تباہ کر رہے ہیں، آدھے ہو چکے ہیں لیکن وہ شاور جیل احتیاط سے رکھا ہوا ہے۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ شاور جیل برخوردار خان کو تحفے میں دے کر اس، یعنی شاور جیل، سے جان چھڑا لی جائے۔ برخوردار خان کو بلی سے لے کر شیر اور بھینس سے لے کر ہاتھی تک ہر بدبودار جانور پالنا پسند ہے۔ آج کل زمین پر ڈیرے داری بھی کر رہا ہے جہاں کٹا فارم بنانے کا سوچ رہا ہے۔ اس شاور جیل سے نہانے کے بعد وہ اپنے فارم پر بھینسوں میں خوب گھل مل جائے گا۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم سوچ رہے ہیں کہ لال کاربالک صابن واقعی سب سے بہتر ہے۔ اس سے نہا کر بندے کے بدن سے بھلے صندلیں خوشبو نہ پھوٹے، مگر بندہ ملنے جلنے والوں کو گوالا تو نہیں لگتا اور اس کی دانشوری کے بارے میں سنگین شبہات تو پیدا نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar