عمران خان کو این آر او مل جائے گا؟
وزیراعظم عمران خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد آئے آج 16 دن ہو چکے ہیں۔ آئین کے تحت عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کرانے کی آخری مدت 14 دن ہے جو کہ جمعرات کو مکمل ہوئی۔ لیکن ووٹنگ کرانا تو دور کی بات سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس طلب کرنے کے لیے بھی مقررہ مدت ختم ہونے کا انتظار کیا۔ آئین اور اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر غیر جانبدار کردار ادا کریں لیکن قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نہ صرف عمران خان کی ہدایات پر چلتے ہیں بلکہ علی الاعلان عمران خان سے وفاداری کا اظہار کرتے رہے۔ کبھی #IstandwithImranKhan کے ہیش ٹیگ کے ساتھ تو کبھی عمران خان کے ساتھ اپنی تصویر کے ذریعے۔
خیر، سپیکر قومی اسمبلی اپنے قائد خان صاحب کو بچانے کے لیے مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ اجلاس طلب بھی کیا تو جمعہ کے دن اور ایک رکن اسمبلی کے انتقال کا بہانہ بنا کر ملتوی کر دیا، یعنی دو دن مزید تاخیر۔ لیکن سچ یہی ہے کہ خان صاحب کان ادھر سے پکڑیں یا اُدھر سے، اگر اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے تو ووٹنگ ہر حال میں کروانی ہی پڑے گی۔ اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ تحریک جمع کرانے والے اسے واپس لے لیں یا خان صاحب خود استعفیٰ دے دیں۔
استعفیٰ دیں یا عدم اعتماد سے نکالیں جائیں، عمران خان ڈٹ جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اپنے ہر جلسے میں وہ ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ آخری گیند تک لڑوں گا۔ یہ لڑائی کس کے ساتھ ہے؟ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ؟ ان کے تمام بڑے لیڈر تو پہلے ہی جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں یا ضمانت پر رہا کیے جا چکے ہیں۔ کسی پر کرپشن ثابت ہوئی اور نہ ہی کمیشن۔ یا پھر عمران خان کی لڑائی ان سے ہے جن کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کو وہ فخر سے بیان کرتے تھے؟ اگر ان کے ساتھ ہے تو یہ لڑائی وہ نہیں جیت سکتے۔ ان کے ساتھ لڑائی تو آج تک پاکستان کا کوئی وزیراعظم نہیں جیت سکا چاہے وہ دو تہائی اکثریت لینے والے نوازشریف ہوں یا انہیں کھلی چھوٹ دینے والے زرداری۔
قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنے/ہٹائے جانے کے بعد خان صاحب کی سٹریٹجی کیا ہو گی؟ غالب امکان ہے کہ اب ان کے پاس پراپیگنڈہ کا وہ سہارا نہیں رہے گا جو 2018 سے پہلے تھا۔ جب خالی کرسیوں سے ان کے خطاب کو ٹی وی چینلز دن رات کور کرتے تھے۔ ملک کا ہر بڑا اینکر اور صحافی انہیں نجات دہندہ پینٹ کر رہا تھا۔ تو ایسی صورت میں خان صاحب اپنے جلسوں سے کب لوگوں کا لہو گرما سکتے ہیں؟ کیا وہ ایک بار پھر خفیہ ہاتھوں سے کوئی ڈیل کریں گے یا اپنے 22 سالہ جدوجہد وہیں سے شروع کریں گے جہاں 2011 سے پہلے تھی؟
کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان اپنی ہر گفتگو میں اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کا اعلان کرتے رہتے تھے۔ لیکن جس طرح سپیکر اسد قیصر عدم اعتماد پر ووٹنگ کو ٹال رہے ہیں لگتا ہے عمران خان خود اپنے لانے والوں سے این آر او کی تلاش میں ہیں۔ خبریں ہیں کہ خان صاحب ایک خاص شخصیت کو آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں لیکن موجود آرمی چیف ایسا نہیں چاہتے۔ یہ خاص شخصیت خان صاحب کے لیے تو فائدے میں ہے لیکن شاید مجموعی سیاسی ماحول کے لیے ٹھیک نہیں ہو گی۔ کیونکہ یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے 2018 کے الیکشن سے پہلے اور بعد میں ہر ناجائز طریقے سے عمران خان کی کامیابی یقینی بنائی؛ چاہے وہ نوازشریف صاحب کو عدالت کے ذریعے سزا دلوانا ہو یا ن لیگ کے امیدواروں کو ڈرانا دھمکانا یا الیکشن نتائج میں تاخیر۔ میاں صاحب کئی مرتبہ ان صاحب کا نام لے کر انہیں اپنے خلاف ہوئے پراپیگنڈا اور سزا کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔ ایسے میں ایک متنازع شخص کو ایک اہم اور طاقتور عہدے پر تعینات کرنا یا اس پر ضد کرنا خان صاحب کی بے حد خود غرضی ہو گی۔
ایک انڈین نیوز چینل کے مطابق خان صاحب تقرری کے اس شوق سے پیچھے ہٹ چکے ہیں جس کے بدلے انہیں قبل از وقت الیکشن کا بہتر آپشن دیا گیا ہے۔ یہ خبر کس حد تک درست ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، یہ ضرور ہے تو ووٹنگ میں تاخیر کی وجہ یقیناَ بیک ڈور ڈپلومیسی ہے جو اس وقت زوروں پر ہو گی۔ کچھ لیں کچھ دیں کا سین آن ہو گا، اب اس میں خان صاحب کو این آر او ملتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار خان صاحب کے لچکدار ہونے پر ہے۔
تاہم اس دوران عمران خان ایک کے بعد ایک جلسے کے ذریعے اپنی دباؤ اور اپنی قیمت بڑھا رہے ہیں۔ لیکن شاید انہیں اندازہ نہیں کہ نوازشریف ان سے کہیں زیادہ مقبول تھے اور اب بھی ہیں، لیکن این آر او دینے والوں نے ان کی قبولیت کو رتی بھر بھی اہمیت نہیں دی اور جب چاہا جیسے چاہا انہیں نکال باہر کیا۔ اس لیے عمران خان کے بڑے بڑے جلسے بھی اسمبلی میں ان کے کسی کام نہیں آنے والے، اسمبلی میں تو 172 پورے کرنے ہیں، جلسوں میں چاہے ہزاروں لے آئیں۔


