مستشرقین اور ان کے لے پالک


مستشرق Orientalist کے لئے غیر مسلم ہونا ضروری ہے، ایسا غیر مسلم جو کسی مشرقی ملک کا مقامی باشندہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مغرب سے مشرق کا رخ کرتا ہے۔ اب جدید تعریف کے مطابق مغرب کی قید اٹھا دی گئی ہے۔ اب ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں، خواہ وہ کسی مغربی ملک کا رہنے والا ہو یا مشرقی ملک کا۔

بہت سارے غیر مسلم جو مشرقی ممالک جیسے ہندوستان اور چین میں رہتے ہیں، وہ بھی جب اسلام کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں تو ان کی تحقیقی نوعیت مغربی غیر مسلم محققین کی طرح ہی ہوتی ہے اور غیر مسلم ہونے کے ناتے ان کے مشرقی یا مغربی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لہذا مستشرقین کے لئے مغربی ہونے کی قید ضروری نہیں۔ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے والا ہر غیر مسلم محقق، کھوجی یا جاسوس مستشرقین میں آتا ہے۔

ظہور اسلام اور استشراق

ظہور اسلام نے غیر مسلموں کو چونکا دیا، پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت تبلیغ نے دیگر ممالک کے بادشاہوں اور دیگر ادیان کے دینی رہنماؤں کو یکساں طور پر اپنی طرف متوجہ کیا۔ جلد ہی غیر مسلم دانشمند اس حقیقت کو سمجھ گئے کہ وہ تلوار کے ساتھ اسلام کا راستہ نہیں روک سکتے، چنانچہ اسلام سے سہمے ہوئے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہو گئے۔ مجموعی طور پر تین طرح کے لوگوں نے اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔

ہم قارئین کی سہولت کے لئے مستشرقین کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں :
1۔ عیسائی مبلغین
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
1۔ عیسائی مبلغین

عیسائی مبلغین، لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لئے مسلمانوں کے نکات ضعف کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرتے تھے اور اسلام کا عیسائیت سے غلط موازنہ کر کے لوگوں کو عیسائیت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید کا لاطینی میں پہلا ترجمہ 1143 ء عیسوی میں ہوا اور ترجمہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی مسلمان حکمران نے یہ ترجمہ کیا تھا بلکہ فرانس کے کلیسا کے سربراہ یعنی کشیش جس کا نام پطرس تھا، اس نے یہ ترجمہ کیا۔ اگرچہ اس ترجمے میں بہت ساری غلطیاں موجود تھیں، لیکن چونکہ کسی مسلمان نے اصلاح یا نیا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، چنانچہ یہی ترجمہ جہان غرب میں مقبول رہا اور اسی ترجمے سے اٹلی، جرمنی اور ہالینڈ کی زبانوں میں بھی ترجمے کیے گئے۔

2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس

اب دیکھتے ہیں کہ مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کیا کرتے تھے، ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا، ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا تھا۔ مستشرقین کی فراہم کردہ معلومات کے باعث ہی اس وقت بھی اسلامی ممالک کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی قراردادیں غیر مسلم ممالک سے بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جنگیں بھی مستشرقین کے نقشے کے مطابق لڑی جاتی تھیں، مثلاً آج بھی ہم میں سے کتنوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ صلیبی جنگوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کتنا عرصہ لڑی گئیں اور ان میں مستشرقین کا کیا کردار تھا؟

3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے

اب آئیے صرف تحقیق کرنے والے مستشرقین کی بات کرتے ہیں، تو انہوں نے بھی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے ترجمے کیے اور اسلامی عقائد کو متعارف کروایا، اس کے ساتھ ساتھ کئی مستشرق مسلمان بھی ہوئے، لیکن زیادہ تر نے مذہبی تعصب کی بنا پر قرآن و حدیث کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے قرآن و حدیث پر اشکالات وارد کیے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے عقائد کی غلط تبین کی، تاکہ لوگ اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام سے متنفر ہونے لگیں۔

مستشرقین کے لے پالک

موجودہ دور میں مستشرقین کے علاوہ مستشرقین کے لے پالک مسلمان بھی موجود ہیں۔ استعمار نے گزشتہ کئی سالوں سے تعلیمی اسکالر شپ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ ٹریننگ، اور میڈیا کے ذریعے ایسے ذہن تیار کیے ہیں کہ جو مشرق میں متولد ہونے اور رہنے کے باوجود بھی مغرب کی پرستش کرتے ہیں اور مغرب کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ایسے مسلمان ہیں، جن کے مفادات کسی استعماری ملک سے ہی وابستہ ہوتے ہیں۔ جدید لے پالکوں میں وہ لوگ بھی آتے ہیں، جو بظاہر مسلمان علماء کے روپ میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار استعمار کے خلاف بیانات بھی دیتے رہتے ہیں، لیکن یہ اسلام کے منبر کو ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دوریاں بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

مسلمانوں کو لڑوانا اور ان کے درمیان نفرت پھیلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ایسے افراد عوام کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ممکن ہی نہیں، یہ مسلمانوں کو اصلاح احوال اور اتحاد سے مایوس کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ ان کا مشن مسلمانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ شیعہ و سنی مسلمانوں کی فرقہ واریت میں استعمار اور مشتشرقین کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ مسلمان فطرتاً ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔

مسلمانوں کے درمیان جہاں بھی خلیج نظر آتی ہے اس کے پیچھے یہی فعال، مدبر اور منصوبہ ساز انسانی دماغ اپنا کام کر رہا ہوتے ہیں اور پس پردہ یہی ماہر منصوبہ ساز بیٹھے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS