مویشیوں میں لمپی اسکن کا پھیلاؤ کتنا خطرناک ثابت ہوگا؟


دنیا بھر میں پھیلنے والی مویشیوں کی بیماری لمپی اسکن نے پاکستان کے لائیو اسٹاک کو بھی متاثر کیا۔ لمپی اسکن جانوروں کی جلدی بیماری ہے۔ محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق اس بیماری سے اب تک 250 سے زائد جانور مر چکے ہیں۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ سندھ کے 29 اضلاع میں سے صرف پانچ میں یہ بیماری موجود ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس بیماری کا پھیلاؤ بے حد زیادہ نہیں ہے لیکن تشویشناک ضرور ہے۔ لمپی اسکن کے اثرات سامنے آتے ہی سندھ بھر میں اور اب پنجاب میں بھی دودھ کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد نے گوشت کا استعمال بھی روک دیا ہے جس کے باعث اس شعبے سے وابستہ افراد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان ڈیری اینڈ کیٹل فارمر ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اور اور چند ایک میڈیا ہاؤسز کی تحقیق کے بغیر رپورٹنگ نے عوام میں اس بیماری کا خوف پیدا کر دیا ہے حالانکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں یہ بیماری موجود ہے اس سے کہیں بھی انسان متاثر نہیں ہوئے نہ ہی دنیا میں کہیں اس بیماری کے دودھ اور گوشت کے استعمال سے انسانوں میں پھیلنے کے شواہد ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کی فروخت میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے جس سے ڈیری فارمر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گوشت کی فروخت میں بھی کمی آ رہی اور فارمر اپنے باڑوں میں نئے جانوروں کا اضافہ نہیں کر پا رہا۔ ڈیری اینڈ کیٹل فامر ایسوسی ایشن کے رہنما کے مطابق آسٹریلیا سے جانور بغیر اسکریننگ کے پاکستان لائے گئے ان سے یہ بیماری پاکستان کے جانوروں میں بھی منتقل ہوئی لہذا اس کی ذمہ داری وفاقی لائیو اسٹاک کے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

کیا یہ بیماری جانوروں کے دودھ یا گوشت سے انسانوں میں پھیل سکتی ہے؟ ملک کی دو نامور میڈیکل یونیورسٹیز نے اس حوالے سے جاری اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ اس بیماری کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے کوئی شاہد نہیں ہیں لہذا انسانوں کے لئے دودھ اور گوشت استعمال کرنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اس حوالے سے جب جانوروں کے ایک مایہ ناز ڈاکٹر سے ملاقات کی گئی اور اس متعلق جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ بیماری جانوروں میں کیپری پوکس نامی وائرس سے پھیلتی ہے اور یہ جلدی بیماری ہے اس سے جانور کا گوشت یا دودھ متاثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری کے باعث جانوروں کے جسم پر پھوڑے نکل آتے ہیں جن میں پیپ بھر جاتی ہے۔ لمپی اسکن ایک جانور سے دوسرے جانور میں اڑنے والے کیڑے مکوڑوں سے پھیلتی ہے۔

اگر ایک فارم میں کسی جانور کو یہ بیماری لاحق ہو جائے تو فارمر کو اس جانور کو دوسرے جانوروں سے الگ کر دینا چاہیے اور فارم میں کیڑے مار اسپرے کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ایاز کا کہنا تھا کہ یہ بیماری کیٹل ڈیزیز ہے اس کا بھینسوں یا بکروں وغیرہ میں پھیلنا کا امکان بھی بے حد کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس شعبے سے وابستہ ڈاکٹر ایاز کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بیماری پاکستان کی نہیں ہے بلکہ پاکستان مین ساتھ افریقہ اور آسٹریلیا سے ہی آئی ہے۔

جانوروں میں اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے اس کا علاج کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا بہتر حل ویکسینیشن ہے۔ پاکستان اب تک اس بیماری کی ویکسین تیار نہیں کر سکا لیکن اسلام آباد کی کچھ ٹیمیں اور کراچی کے بڑے ادارے اس پر کام کر رہے ہیں امید ہے جلد ویکسین تیار ہو جائے گی اور ہمیں امپورٹ نہیں کرنا پڑے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جو نسلی جانور ہیں ان کی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے لہذا وہ اس بیماری سے متاثر نہیں ہوتے لیکن کراس بریڈ سے پیدا ہونے والے جانور کسی حد تک اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا منتقل نہیں ہوتی۔ حکومت نے اس بحرانی کیفیت میں فارمرز کا ساتھ نہ دیا اور ضروری اقدامات نہ کیے تو اس شعبے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS